مشرکین مکہ نے جو تین سوال آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کیے تھے ان میں ایک سوال یہ تھا کہ اس شخص کے متعلق بتائیں جس نے مغرب سے مشرق تک کا سفر کیا۔ ذوالقرنین کے بارے میں یہ بات یقینی نہیں کہ وہ پیغمبر تھے یا نہیں۔ بہر حال اللہ تعالیٰ نے حضرت ذوالقرنین کو اقتدار اور وسائل عطا کررکھے تھے۔ انہوں نے تین سفر کیے۔ پہلا سفر مغرب تک کیا جہاں سورج ایک دلدل نماسیاہ چشمے میں ڈوب رہا تھا۔ یہ دنیاکا آخری کونہ تھا، اس کے بعد سمندر ہی سمندر تھا۔ دوسرا سفر مشرق تک کیا جہاں سے سورج طلوع ہورہا تھا۔ تیسرا سفر غالباً شمال کاتھا۔ وہاں کے لوگوں سے ملاقات ہوئی تو انہوں نے یاجوج ماجوج کی قتل وغارت گری اور خون خرابے کی شکایت کی اور درخواست کی کہ ان پہاڑوں کے درمیان دیوار بنادیں اور مال کی پیش کش کی۔ حضرت ذوالقرنین نے فرمایا تمہارے مال کی ضرورت نہیں، البتہ افرادی اور جسمانی طورپر میری مدد کرو۔ آپ نے لوہے کے تختوں اور پگھلے ہوئے سیسے سے مضبوط دیوار بنا دی جس سے وہ لوگ یاجوج ماجوج کے فساد سے محفوظ ہوگئے۔ پھر قیامت کی ہولناکی کو بیان کیا ہے جب صور پھونکا جائے گا تو اس وقت قیامت کی ہولناکی کی وجہ سے لوگ بدحواسی کے عالم میں ایک دوسرے سے ٹکرارہے ہوں گے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے اپنی صفات کے لامتناہی ہونے کو بیان کیا ہے اللہ تعالیٰ کی قدرت، صفات اور کمالات غیر متناہی ہیں۔ اگر انہیں لکھا اور شمار کیاجائے تو کئی سمندر خشک پڑجائیں گے، لیکن اللہ تعالیٰ کے کمالات وصفات ختم نہیں ہو سکیں گے۔ سورۃ کے آخر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ آپ یہ بات لوگوں کو بتا دیں کہ میں بھی بشر ہوں یعنی تمہاری طرح ایک انسان ہوں اور تم بھی بشر ہو۔ بس فرق یہ ہے کہ مجھ پر وحی آتی ہے اور تم پر وحی نہیں آتی۔ اور خدا کی طرف سے وحی یہ ہے کہ جو شخص اللہ تعالیٰ سے ملنے پر یقین رکھتا ہو تو اسے چاہیے کہ نیک اعمال کرے اور اللہ تعالیٰ کی عبادت میں کسی اور کو شریک نہ ٹھہرائے۔ قبولیت اعمال کی بنیادی طور پر تین شرطیں ہیں: 1-عقیدہ ٹھیک ہو 2- نیت ٹھیک ہو:۔ 3-عمل سنت کے مطابق ہو۔
سورۃ مریم
اس سورۃ کا مرکزی مضمون حضرت مریم علیہا السلام اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے متعلق صحیح عقائد کا بیان ہے۔ عیسائیوں کی تردید کی گئی ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام حضرت مریم کے بطن سے پیدا ہوئے ہیں‘ نہ تو وہ تین میں سے تیسرے ہیں اور نہ ہی خدا کے بیٹے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ دیگر انبیاء علیہم السلام کا بھی تذکرہ کیا گیاہے۔ حضرت زکریا علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ سے بالکل بڑھاپے میں آہستہ آہستہ دعا مانگی مجھے بیٹا دے جومیرا اور آل یعقوب علیہ السلام کا وارث بنے۔ یہاں وراثت سے مراد دنیا کی وراثت نہیں بلکہ علومِ نبوت کی وراثت ہے جو کہ تمام انبیاء علیہم السلام کی وراثت ہوا کرتی ہے۔ انبیاء کرام جو بھی تھوڑا بہت دنیوی مال و اسباب چھوڑ کر جائیں وہ صدقہ ہوتا ہے، وراثت نہیں۔ اللہ تعالیٰ نے دعا قبول فرمالی اور ایسے بیٹے کی خوشخبری دی جس کا نام یحییٰ ہوگا اس سے پہلے اس نام کا کوئی اور شخص پیدا نہیں کیا۔ حضرت زکریا علیہ السلام نے اسباب کو ملحوظ رکھتے ہوئے سوال کیا کہ میرے ہاں بیٹا کیسے ہوگا؟کہ میری بیوی بانجھ ہے اور میں بڑھاپے سے سوکھ چکاہو ں۔ اللہ تعالیٰ نے بات سمجھائی کہ ہم بغیر اسباب کے بیٹا عطا فرمادیں گے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے حضرت زکریا علیہ السلام کی درخواست پر نشانی بتائی کہ تم ٹھیک ٹھاک ہونے کے باوجود تین رات تک لوگوں سے بات نہیں کرسکو گے۔ پھر آگے حضرت یحیٰ علیہ السلام کے اوصاف کو بیان کیاگیا ہے کہ وہ دانا، پاکیزہ، نرم دل، متقی اور والدین کے خدمت گزار ہوں گے۔ اس کے بعد حضرت مریم علیہاالسلام کا قصہ اور عیسیٰ علیہ السلام کی معجزانہ پیدائش کی تفصیل بیان کرکے عیسائیوں کی تردید کی جارہی ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام؛ اللہ تعالیٰ کے بیٹے نہیں ہیں۔ حضرت مریم علیہا السلام کی عمر تیرہ سال یا پندرہ سال تھی، دونوں قول ملتے ہیں۔ حضرت جبرائیل علیہ السلام خوبصورت مرد کی شکل میں آئے۔ فرشتہ جب بھی انسان کی شکل میں آتا ہے تو ہمیشہ خوبصورت مرد کی شکل میں آتا ہے۔ حضرت مریم نے ان کو دیکھا تو پردے کا اہتمام کیا۔ انہوں نے بتا یا کہ میں جبرائیل امین ہوں، اللہ کی طرف سے بچے کی بشارت لیکر آیا ہوں۔ حضرت مریم کے گریبان میں پھونک ماری اس سے ان کو حمل ٹھہر گیا۔ ولادت کے دن جب قریب آئے تو ان کو بتایا گیا کہ فلاں جگہ پر تشریف لے جائیں، وہ ٹیلے کی طرف گئیں تو وہاں پر بغیر موسم کے اللہ نے کھجور پر پھل لگا دیا اور پانی کا چشمہ بھی جاری فرمادیا۔ بچہ کی ولادت کے بعدآپ وہیں پر کھجور کھاتیں اور چشمہ کا پانی پیتیں۔ چالیس دن تک یا جتنے دن نفاس کے تھے وہیں ٹھہری رہیں۔ اس کے بعدواپس اپنے خاندان میں آئیں تو خاندان والوں نے کہا: یہ بچہ کہاں سے آ گیا ہے؟ تمہارا تونکاح ہی نہیں ہوا۔ حضرت مریم کو حکم تھا کہ آپ اس بچے کی طرف اشارہ کریں، پھر عیسیٰ علیہ السلام نے صفائی دی کہ میں اللہ کا بندہ ہوں، مجھے اللہ رب العزت نبی بنائیں گے، مجھے اللہ تعالیٰ کتاب عطا فرمائیں گے، مجھے نبی بنائیں گے اور میں جہاں بھی ہوں گا اللہ تعالیٰ برکت عطا فرمائیں گے۔ اللہ تعالیٰ نے مجھے حکم دیا ہے نماز کا، حکم دیا ہے زکوٰۃ کا، میں جب تک زندہ رہوں مجھے اپنی ماں کا فرمانبردار بنایا ہے اور مجھے سختی والا نہیں بنایا۔۔۔ اس طرح ان لوگوں کا سارا بہتان ختم ہو گیا۔۔ اس کے بعد مختلف انبیاء کرام علیہم السلام کے فضائل وکمالات اور صفات کو بیان کیا گیا ہے۔ جن میں سر فہرست امام الموحدین حضرت ابراہیم علیہ السلام ہیں۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے بہت ہی عمدہ اورہمدردانہ انداز میں دلائل کے ساتھ اپنے والد کو اللہ تعالیٰ کی توحید کی طرف دعوت دی۔ والد نے بجائے دعوت کو قبول کرنے کے الٹا دھمکی دی کہ اگر تم اپنی دعوت سے بازنہ آئے تو تم پر پتھر برساؤں گا۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے والد سے کہا میں اپنے پروردگار سے آپ کی بخشش کی دعا کروں گا۔ یہ اس وقت کی بات ہے جب حضرت ابراہیم علیہ السلام کو معلوم نہیں تھا جب معلوم ہوگیا کہ انہیں ایمان نصیب نہیں ہونا تو آپ نے دعا کرنا چھوڑدی۔ اس کے بعد حضرت ادریس علیہ السلام کی بعض خصوصیات ہیں جو مفسرین حضرات نے ذکر کی ہیں۔ ان کے بارے میں ہے کہ آپ پہلے وہ شحص ہیں جنہوں نے قلم سے لکھنا شروع کیا۔ آپ پہلے وہ شحص ہیں جنہوں نے کپڑا سی کر لباس پہنا۔ آپ سے پہلے لوگ جانوروں کے چمڑے کا لباس پہنتے تھے۔ آپ پہلے شخص ہیں جنہوں نے اسلحہ بنایا اور کفار سے جہاد کیا۔ آپ پہلے شخص ہیں جو حساب کتاب میں ماہر تھے۔ پھر انبیاء علیہم السلام تو بڑے تھے ان کی اولاد بھی نیک تھی لیکن ایک وقت آیا کہ ان کے بعد نالائق قسم کے جانشین پیدا ہوئے، انہوں نے سب سے پہلا کام یہ کیا کہ نمازیں برباد کیں اور دوسرا کام؛ شہوات اور خواہشات میں مبتلا ہو گئے۔ معلوم ہوا کہ جو نالائق قسم کے جانشین ہو تے ہیں ان کی دو بیماریاں ہیں: نماز میں کوتاہی کرتے ہیں اور نا جائز خواہشات کو پورا کرتے ہیں۔ اس کے بعد پل صراط کا ذکر ہے اللہ کا وعدہ ہے کہ ہر بندے نے جہنم کے اوپر سے گزرنا ہے، میدان محشر اور جنت کے درمیا ن جہنم ہے، ہاں فرق اتنا ہو گا کہ صلحاء اور اللہ تعالیٰ کے محبوب بندے جہنم کے اوپر سے ٹھنڈک محسوس کرتے ہوئے گزریں گے اور جہنم کی گرمی انہیں محسوس تک نہیں ہوگی۔ اور جن گناہگاروں کے دل میں ذرہ برابر بھی ایمان ہو گاتووہ اپنے گناہوں کی سزا بھگتنے کیلیے جہنم میں گریں گے پھر سزا کے بعد جنت میں بھیج دیے جائیں گے۔ جن کے دل میں ذرہ برابر بھی ایمان نہیں ہوگاوہ دوزخ میں گرنے کے بعد وہیں پڑے رہیں گے۔ شاید نیک لوگوں کو جہنم کے اوپر سے گزارنے میں یہ حکمت ہو کہ دوزخ کی ہولناکی دیکھنے کے بعد جنت کی قدر وقیمت بڑھ جائے۔ آخر میں یہ بیان کیا ہے کہ جو آدمی ایمان لائے، عقیدہ اس کا ٹھیک ہو، اعمال سنت کے مطابق ہوں تو اللہ اس کے لیے محبت کی ہوائیں چلادیتے ہیں۔ حدیث پاک میں ہے کہ جب اللہ کسی سے پیار کرتے ہیں تو جبرائیل امین علیہ السلام سے فرماتے ہیں کہ فلاں بندے سے مجھے بہت پیار ہے، جبرائیل فرشتوں سے کہتے ہیں کہ اللہ کو اس بندے سے بہت پیار ہے۔ فرشتے آگے اعلان کرتے ہیں۔ وہ اعلان چلتے چلتے زمین والوں تک آتا ہے۔ پھر اس نیک بندے سے زمین والے نیک لوگ پیار کرتے ہیں۔
سورۃ طہ
سورۃ کے شروع میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو نماز میں مشقت اٹھانے سے منع کیا ہے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر مکہ مکرمہ میں جب قرآن مجید کا نزول شروع ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم پوری پوری رات تہجد میں قرآن مجید کی تلاوت اتنی فرماتے کہ بسا اوقات مسلسل قیام کی وجہ سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے قدم مبارک پر ورم آ جاتا۔ اس آیت میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے فرمایا گیا کہ اتنی زیادہ مشقت اٹھانے کی ضرورت نہیں۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا معمول تبدیل فرمالیا۔ رات کے کچھ حصے میں آرام فرماتے پھر بیدار ہوکر تہجدکی نماز پڑھتے۔ اس کے بعد استویٰ علی العرش کو بیان کیا ہے اہل حق کا مذہب یہ ہے کہ یہ آیت متَشابہات میں سے ہے۔ یعنی اس کا معنی تو معلوم ہے لیکن مطلب اور مراد معلوم نہیں۔ جب حضرت موسیٰ علیہ السلام مدین سے واپس تشریف لارہے تھے تو راستہ بھول گئے۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے دور سے ایک درخت کو جلتا ہوا دیکھا تو اپنے گھر والوں سے کہاکہ یہاں ٹھہرو، میں وہاں سے آگ لے کر آتا ہو ں۔ آپ جب اس درخت کے قریب پہنچے تو عجیب منظر دیکھا کہ اس درخت کی کوئی شاخ یا پتا جلتا نہیں ہے بلکہ آگ نے درخت کے حسن اور خوبصورتی کو مزید بڑھا دیا ہے۔ اسی دوران اس درخت سے موسیٰ علیہ السلام کو اللہ تعالی کی طرف سے یہ آواز آئی اے موسیٰ! میں تمہارا رب ہوں، اپنے جوتے اتار دو کیونکہ تم اس وقت طُویٰ کی مقدس وادی میں ہو۔ میں نے تمہیں نبوت دینے کے لیے منتخب کر لیا ہے اس لیے جو وحی تم پر بھیجی جا رہی ہے اسے غور سے سنو۔ میں ہی اللہ ہوں، میرے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں اس لیے میری عبادت کرو اور مجھے یاد رکھنے کے لیے نماز قائم کرو۔ آگے اللہ تعالیٰ نے جوموسیٰ علیہ السلام سے مکالمہ فرمایااور معجزہ عطاکیا اس کا ذکر ہے۔ آپ کی دعاؤں اور ان کی قبولیت کا بھی تذکرہ ہے۔
جب اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کو فرعون کی طرف بغرض دعوت جانے کا حکم فرمایاتو موسیٰ علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ سے چار چیزیں مانگیں:اے اللہ! جو بات میں سمجھانا چاہتاہو ں میرے اوپر کھول دے تاکہ مجھے سمجھانے میں دقت نہ ہو۔ اے اللہ! مجھے اسباب عطافرمادے۔ اے اللہ! مجھے فصیح زبان عطا فرما دے، زبان کی لکنت ختم ہوجائے تاکہ میں بات کھل کر بتا سکوں۔ یا اللہ! میرے خاندان میں سے میرے بھائی ہارون کو میرا معاون بنادے۔ اس کے ذریعے میری کمر مضبوط فرمااس کو میرے کام میں شامل فرمادے۔ یہ ساری دعائیں اللہ تعالیٰ نے قبول فرمالیں۔ پھر اللہ تعالیٰ نے بطورِ احسان اور تسلی؛ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے بچپن کا واقعہ ذکر فرمایا کہ ہم نے ام موسیٰ کو حکم دیا کہ اسے صندوق میں رکھ کر دریا میں ڈال دیں۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام کی بہن ساتھ ساتھ چلتی رہیں۔ صندوق فرعون کے محل کے پاس پہنچا۔ پھر دودھ پلانے والے معاملے کی صورت میں موسیٰ علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ نے ان کی ماں کے پاس پہنچوا دیا۔ اگلی آیات میں حضرت موسیٰ وہارون علیہما السلام کے فرعون کے پاس جانے کا ذکر ہے۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے ضابطہ بیان فرمایا کہ مٹی سے تم کو پیدا کیا، مٹی میں لوٹائیں گے اور اسی مٹی سے اٹھائیں گے۔ بعض روایات سے یہ بات ثابت ہے کہ جو انسان بھی پیدا ہوتاہے تو رحم مادر میں ایک تو باپ کا نطفہ ہوتاہے اور دوسراجس مٹی میں اس انسان نے دفن ہونا ہوتا ہے اس مٹی کا کچھ حصہ اللہ تعالیٰ فرشتے کے ذریعے ماں کے رحم میں ڈال دیتے ہیں۔ تو جس مٹی میں اس نے دفن ہونا ہوتا ہے وہ مٹی اس میں شامل ہوتی ہے۔ اب اس کی نوعیت کیا ہوتی ہے وہ تو اللہ ہی جانتے ہیں۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: کہ مَیں، ابوبکر اور عمر (رضی اللہ عنہما) ایک ہی مٹی سے بنے ہیں۔اس لیے دفن بھی ایک جگہ ہوئے اور قیامت کے دن اٹھیں گے بھی اسی جگہ سے۔حضرت موسیٰ علیہ السلام کا تفصیلی واقعہ بیان کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ فرمارہے ہیں کہ ماضی میں جوحالات گزرے ہیں ان میں سے کچھ واقعات ہم تمہیں سناتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کاباوجود اُمی ہونے کے بذریعہ وحی حضرت موسیٰ علیہ السلام کا اتنا تفصیلی قصہ بیان فرمانا دلیل ہے کہ آپ اللہ تعالیٰ کی طرف سے رسول اور نبی ہیں۔ گزشتہ آیات میں حضرت آدم علیہ السلام کا قصہ بیان کیا گیا ہے کہ انہوں نے بھول کر اس درخت سے کھالیاتھا جس سے انہیں منع کیا گیا تھا۔ اب اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے دولفظ ''عَصٰی'' اور ''فَغَوٰی'' فرمائے ہیں جن سے بعض لوگوں کو غلطی لگی انہوں نے حضرت آدم علیہ السلام کی عصمت کے خلاف بات کہہ دی۔ جبکہ اہل اسلام کا عقیدہ ہے کہ انبیاء علیہم السلام چھوٹے اور بڑے گناہوں سے معصوم ہیں، اللہ تعالی ان کی حفاظت فرماتے ہیں۔ عَصٰی کا ایک معنی ہے وہ کام کرنا جس کا ارادہ نہ ہو۔ آدمی بعض کام بلا ارادہ کر لیتا ہے، کرنا کچھ چاہتا ہے اور ہو کچھ جاتا ہے، اس کو بھی معصیت کہتے ہیں۔ یہاں یہی معنی مراد ہے۔ یعنی آدم علیہ السلام نے قصداً درخت سے نہیں کھایا تھا بلکہ بھول گئے تھے۔ فَغَوٰی کا ایک معنی ہے کہ دنیاوی معاملات میں انسان کا مشقت میں پڑ جانا، راحت کا ختم ہوجانا، تکلیف میں آجانا۔ یہاں یہی مراد ہے۔ مطلب یہ ہے کہ جنت میں جو عیش تھی وہ ختم ہوگئی اب مشقت پیدا ہوگئی۔ پھر ایک آیت میں پانچوں نمازوں کا ثبوت ملتا ہے۔اس کے بعد پارے کے آخر میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو خطاب کرکے یہ بات ہمیں سمجھائی ہے کہ جو مال ہم نے ان کفار کو دیا ہے آپ کی نگاہ اس پر نہ اٹھے۔ یہ سب دنیا کا مال ہے، آزمائش کے لیے ہے، اللہ کا دیا ہوا رزق بہتر ہے اور باقی رہنے والا ہے، بس آپ خود بھی نماز پڑھیں اور گھر والوں کو بھی نماز کی ترغیب دیں۔