گزشتہ روز معروف قانون دان رانا مہتاب خان کے ساتھ کیانی ہال، ہائی کورٹ بار میں ایک مختصر مگر فکر انگیز نشست رہی۔ موضوع نظامِ انصاف، آئینی اصلاحات اور ریاستی اداروں کی سمت تھا۔ گفتگو ابھی اپنے منطقی انجام تک پہنچی بھی نہ تھی کہ عدالتی وقفہ ختم ہو گیا اور بحث ادھوری رہ گئی۔ تاہم اس نشست میں اٹھنے والے بعض سوالات ایسے تھے جو محض وکلا برادری تک محدود نہیں بلکہ پورے معاشرے کے مستقبل سے جڑے ہوئے ہیں۔ انہی سوالات کو قارئین کے سامنے رکھنا مقصود ہے تاکہ اس اہم قومی مباحثے میں عوامی رائے بھی شامل ہو سکے۔پاکستان میں گزشتہ چند برسوں کے دوران ایک نمایاں رجحان یہ سامنے آیا ہے کہ موجودہ اداروں کی اصلاح کے بجائے نئے اداروں، نئے فورمز اور نئے انتظامی ڈھانچوں کے قیام کو مسائل کا حل سمجھا جا رہا ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا یہ واقعی اصلاحات ہیں یا موجودہ نظام پر عدم اعتماد کا اظہار؟اسی تناظر میں 27ویں آئینی ترمیم کے بعد آئین میں شامل آرٹیکل 202A اور آئینی بنچوں کے قیام کا تصور سامنے آیا۔ اس ترمیم کا بنیادی مقصد یہ تھا کہ آئینی نوعیت کے مقدمات کو عمومی قانونی تنازعات سے الگ کر کے خصوصی بنچوں کے سپرد کیا جائے تاکہ آئینی تشریح میں تخصص، تسلسل اور یکسانیت پیدا ہو۔ بظاہر یہ ایک مثبت پیش رفت دکھائی دیتی ہے کیونکہ جدید قانونی نظاموں میں تخصیص کو ناگزیر سمجھا جاتا ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا آئینی بنچوں کے قیام کے لیے صرف آئینی ترمیم کافی ہے؟ متعدد قانونی ماہرین کا خیال ہے کہ جب تک صوبائی سطح پر جامع قانون سازی، واضح قواعدِ کار، مقدمات کی درجہ بندی کے اصول اور ججز کی نامزدگی کے شفاف طریقہ کار وضع نہیں کیے جاتے، تب تک آرٹیکل 202A اپنی حقیقی روح کے مطابق نافذ نہیں ہو سکتا۔ اگر آئینی اصلاحات صرف آئین کی کتاب تک محدود رہ جائیں اور عملی ڈھانچہ تشکیل نہ پا سکے تو اصلاح کا مقصد فوت ہو جاتا ہے۔دوسری طرف فوجداری نظامِ انصاف کی صورتحال بھی کچھ مختلف نہیں۔ برسوں سے پراسیکیوشن کے اداروں میں پیشہ ورانہ مہارت کی کمی، ناقص قانونی پیروی اور غیر موزوں تقرریوں کی شکایات سامنے آتی رہی ہیں۔ عدالتوں میں مقدمات صرف تفتیش کی بنیاد پر نہیں جیتے جاتے بلکہ مضبوط استغاثہ ان کی کامیابی کی بنیاد ہوتا ہے۔ جب استغاثہ کمزور ہو تو بہترین تفتیش بھی مطلوبہ نتائج پیدا نہیں کر پاتی۔اسی پس منظر میں متنازعہ کرائم کنٹرول ڈیپارٹمنٹ (CCD) کا قیام عمل میں آیا۔ اس کا مقصد جدید تفتیشی طریقوں کو فروغ دینا اور سنگین جرائم کے خلاف مو¿ثر کارروائی کو یقینی بنانا تھا۔ تاہم ایک بنیادی سوال آج بھی اپنی جگہ موجود ہے کہ اگر پراسیکیوشن کا نظام اپنی پرانی کمزوریوں کے ساتھ برقرار رہے تو کیا صرف ایک نیا تفتیشی ادارہ انصاف کی فراہمی کو یقینی بنا سکتا ہے؟ بعض ناقدین کے نزدیک سی سی ڈی کا قیام پولیس کے روایتی ڈھانچے پر عدم اعتماد کا اظہار ہے، جبکہ اس کے حامی اسے جدید تقاضوں سے ہم آہنگ ایک ضروری قدم قرار دیتے ہیں۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ تفتیش، استغاثہ اور عدلیہ ایک ہی زنجیر کی مختلف کڑیاں ہیں؛ ایک کڑی کی کمزوری پورے نظام کو متاثر کرتی ہے۔اس سے بھی زیادہ اہم اور متنازعہ بحث مختلف پیرا فورسز اور متوازی نفاذی ڈھانچوں کے قیام سے متعلق ہے۔ دنیا بھر میں قانون کی حکمرانی کا اصول یہ ہے کہ اختیارات واضح ہوں، ادارے جوابدہ ہوں اور ریاستی طاقت آئین و قانون کے تابع ہو۔ لیکن جب ریاست موجودہ سول اداروں کی استعداد بڑھانے کے بجائے نئے نفاذی ڈھانچے قائم کرنے لگے تو کئی آئینی اور انتظامی سوالات جنم لیتے ہیں۔ کیا یہ ادارہ جاتی اصلاح ہے یا اختیارات کی نئی تقسیم؟ کیا یہ قانون کی حکمرانی کو مضبوط کرے گی یا متوازی نظاموں کو جنم دے گی؟یہ سوالات اس لیے بھی اہم ہیں کہ عام شہری اپنی روزمرہ زندگی میں قانون کے نفاذ میں نمایاں تضادات محسوس کرتا ہے۔ ایک طرف شہریوں کے لیے رفتار کی سخت پابندیاں ہیں، سیٹ بیلٹ کے استعمال پر سختی سے عمل درآمد کرایا جاتا ہے اور معمولی خلاف ورزی پر فوری جرمانہ عائد ہو جاتا ہے۔ دوسری طرف موٹر سائیکل سواروں کی ایک بڑی تعداد ٹریفک قوانین کی کھلم کھلا خلاف ورزی کرتی دکھائی دیتی ہے۔ قانون کی حکمرانی کا تقاضا صرف قانون بنانا نہیں بلکہ اس کا یکساں، منصفانہ اور بلا امتیاز نفاذ ہے۔حقیقت یہ ہے کہ مضبوط ریاستیں اداروں کی تعداد سے نہیں بلکہ اداروں کی کارکردگی سے پہچانی جاتی ہیں۔ اگر ہر مسئلے کا حل ایک نئے محکمے، نئی فورس یا نئے فورم کے قیام میں تلاش کیا جائے
تو اس سے نظام میں پیچیدگی اور اختیارات کے تصادم کا خطرہ پیدا ہوتا ہے۔ آئینی بنچ، سی سی ڈی، پراسیکیوشن کی اصلاح اور پیرا فورسز کا کردار دراصل ایک ہی بنیادی سوال کے مختلف پہلو ہیں: کیا پاکستان آئینی اور قانونی اداروں کو مضبوط بنا رہا ہے یا متوازی نظاموں کی طرف بڑھ رہا ہے؟ریاست کی اصل طاقت آئین کی بالادستی، قانون کی مساوی حکمرانی، پیشہ ور عدلیہ، مو¿ثر پراسیکیوشن اور جوابدہ انتظامیہ میں مضمر ہوتی ہے۔ اگر اصلاحات کا مقصد انہی ستونوں کو مضبوط بنانا ہے تو ان کا خیر مقدم ہونا چاہیے، لیکن اگر نئے ادارے پرانے مسائل کے حل کے بجائے صرف ایک اور انتظامی پرت کا اضافہ بن جائیں تو سوالات اور خدشات برقرار رہیں گے۔ قارئین! کیا آرٹیکل 202A کے تحت آئینی بنچوں کا قیام عدالتی تخصیص کی حقیقی ضرورت ہے؟ کیا سی سی ڈی فوجداری نظامِ انصاف میں مو¿ثر تبدیلی لا سکے گی؟ اور کیا پیرا فورسز کا بڑھتا ہوا کردار انتظامی ضرورت ہے یا متوازی نظامِ حکمرانی کی بنیاد؟ ان سوالات کے جواب ہی اس امر کا تعین کریں گے کہ پاکستان واقعی قانون کی حکمرانی کی طرف بڑھ رہا ہے یا آئین و قوانین کی ایک نئی مڈبھیڑ کی طرف۔