ہم وہ نسل ہیں جس نے صدی اور ہزاری بدلتی دیکھی ہے لیکن اُس سے بھی زیادہ اہم جو ہزاروں سال میں ختم ہوتا ہے وہ بھی ہمارے عہد میں ختم ہو گیا ۔ یعنی ایک عہد ختم ہو ا جسے ہم انڈسٹریل ایج کہتے ہیں ۔ پتھر کے آغاز سے شروع ہونے والی تہذیب کانسی ¾ لوہا ¾ زراعت اور انڈسٹریل عہد کے خاتمے کے بعد اب انفارمیشن اینڈ ٹیکنالوجی کے دور میں داخل ہو چکی ہے ۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ مادی حالات انسانی شعور کا تعین کرتے ہیں اور جب آلاتِ پیدا وار تبدیل ہوتے ہیں تو انسانی شعور بھی ایک جناتی جست لگا دیتا ہے ۔ یہ یقینا تاریخ میں پہلی بار نہیں ہوا بلکہ آسمان خود اِن تجربوں کا سب سے بڑا شاہد ہے ۔ پانی پت کی پہلی جنگ ہمارے سامنے ٹیکنالوجی کی سب سے بڑی فتح کے طور پر متعارف ہوئی جب ابراہیم لودھی کے ہاتھیوں نے پہلی بار بارود کی آواز سنی تو الٹا بھاگتے ہوئے اپنی ہی فوج کو روند تے چلے گئے۔ یہ توپ کا اس خطے میں پہلا استعمال تھا جو ظہیر الدین بابر اپنے ساتھ لایا ۔ یہاں اس بات کی وضاحت کر دوں کہ قطب الدین ایبک سے لے کر احمد شاہ ابدالی(1767) تک اس خطے پر سارے حملے ایک مسلمان نے دوسرے مسلمان پر کیے ۔ بنگال کی جنگ ِ پلاسی 1757ءمیں ہوئی لیکن وہاں تاجروں کے روپ میں آئے انگریزوں نے سازشوں کے ذریعے جنگ جیتی ۔ ایک تحریر جو امریکی یونیورسٹی کے زیر تعمیر پی ایچ ڈی پاکستانی ڈاکٹر مسٹر زورین نظامانی کی نظر سے گزری تو یہ سوچنے پر مجبو ر ہو گیا کہ امریکہ کا حال بھی اس حوالے سے کچھ بہتر نہیں ہے۔ اس نوجوان کی یہ پہلی تحریر میری نظر سے گزری ہے جبکہ غزہ اور اسرائیل وارمیں مجھے اِن کی کوئی تحریر پڑھنے کو نہیں ملی ۔ پاک بھارت جنگ میں بھی میں اِن کے تجزیے سے محروم رہا ہوں ۔ ممکن ہے کہ کہیں کوئی اشاعت ہوئی ہو لیکن میری بدقسمتی کے میرے دائرئہ قدرت سے باہر رہیں ۔انگریز ی لفظ youکا ترجمہ ہم نے ”آپ “کیا ہے حالانکہ یہ” تم“ بنتا ہے اور جب ادارے کے بارے میں لکھا جائے تو صرف ”تم“ ہی بنتا ہے البتہ کسی مقدس ہستی کیلئے ہو تو آپ ترجمہ ہی کرنا چاہیے۔ ”اٹی از اوور “ کا تخاطب ڈی جی آئی ایس پی آر اور افواج پاکستان ہے ۔ موصوف نے یہ تو بتایا ہے کہ اقتدار کے طاقتور بوڑھے مرد وں اور عورتوں کیلئے سب کچھ ختم ہو چکا ہے کیونکہ آپ جو کچھ نوجوان نسل کو بیچ رہے ہیں وہ کچھ بھی نہیں خرید رہے ۔ اب یہاں پہلا سوال تو یہ ہے کہ اگر وہ کچھ نہیں خرید رہے تو وہ کیا خریدنا چاہتے ہیں ؟ اس کا کوئی ذکر موصوف نے اپنی تحریر میں نہیں کیا ۔ اُن کے نزدیک سکولوں اور کالجوں میںدیئے جانے والے لیکچر اور سیمینارز بھی حب الوطنی کو فروغ دینے میں ناکام رہے ہیں۔ اُن کے مطابق حب الوطنی فطری ہوتی ہے اوریہی اس تحریر کا سب سے بڑا تضاد ہے کہ اگر حب الوطنی فطری ہوتی ہے تو یہ کنڈیشنل کیسے ہوسکتی ہے یعنی یہ برابر کے مواقع ¾ مضبوط انفراسٹرکچر اور موثر نظام سے کیسے جڑی ہو سکتی ہے۔ کیونکہ پھر تو یہ تو الگ الگ چیزیں ہیں ۔ کیا غزہ کے لوگ بدترین صورت حال میں ملک چھوڑ کر بھاگ گئے؟ کیا وینزویلا کے صدر اور اُن کی اہلیہ کی گرفتاری کے بعد مقامی لوگوں نے ملک سے محبت کرنا چھوڑ دی ؟کیا عراقی برستے ہوئے بارود میں اپنے وطن کو چھوڑ کر بھاگ نکلے تھے ؟ جبکہ اُس وقت وہاں کسی قسم کے حقوق کا نام و نشان بھی نہیں تھا ۔ وطن سے محبت ایمان کا حصہ ہوتی ہے اور پردیس جانے والے بھی جب کام کاج سے فارغ ہوتے ہیں تو اپنے وطن سے ہی رابطہ کرتے ہیں جہاں اُن کی زبان ¾ کلچر ¾ دوست ¾ رشتے دار اور بچپن کی یادیں ہوتی ہیں ۔ یہ درست بات ہے کہ موجودہ نوجوان انفارمیشن کی اس بھرمار میں بہت زیادہ باخبر ہے لیکن ہمیں یہ بھی تجزیہ کا حصہ بنانا چاہیے کہ جہاں غلط خبریں پھیلانے والے موجود ہوں وہاں کانوجوان بہت سے غلط پروپیگنڈا کا شکار بھی ہو جاتا ہے جیسا کہ پاکستان میں ہوا اور پاکستان سے باہر بیٹھے یوٹیوبر روزانہ کچھ نہ کچھ پاکستان کے خلاف نیا کرکے سوتے ہیں ۔مسٹر زورین نظامانی کی بے ربط تحریر میں ربط صرف اور صرف اس وجہ سے آیا کہ اُسے اخبار سے اتروا دیا گیا اور کچھ بعید نہیں کہ یہ خود ہی لگوا کراتارا گیا ہو تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ پڑھ سکیں کیونکہ ابھی تک کسی اتروانے والے کانام سامنے نہیں آیا ۔ ایسا کرنا بھی پروپیگنڈا کاحصہ ہوتا ہے اور جس بچے کی پرورش ہی ایکٹرز کی گود میں ہوئی ہے اُس سے تو اس سے زیادہ کی توقع کی جاسکتی تھی ۔ کوئی کسی کو سوچنے پر مجبورنہیں کررہا اور نہ ہی خیالات بلند آواز میں کہنے پرکسی کی آکسیجن بند ہو رہی ہے۔ فکر کا مطلب ہے با آواز بلند سوچنا اور سوچنے کا مطلب ہے بغیر آواز کے بولنا میکس ملر نے فکر کی یہی تعریف کی ہے ۔ دانشور اور سیاسی کارکن کے تفکرمیں زمین آسمان کا فر ق ہوتا ہے۔ شاید وہ اپنے خیالات بلند آواز سے کہنے سے ڈرتے ہوں کیونکہ وہ سانس لینا پسند کرتے ہیں۔ کا ش آپ نے ٹرمپ کے بارے میں یہ لکھا ہوتا کہ” جو کچھ آپ نے وینز ویلا کے صدر کے ساتھ کیا ہے دنیا اسے دیکھ رہی ہے لیکن دنیا کو آپ کی پروا نہیں۔ آپ سکیورٹی کے بغیر گھر سے باہر بھی نہیں نکل سکتے۔“ تو آپ کو معلوم ہو تا کہ سانس لینے کی قیمت پاکستان
سے باہر کیا ہے۔ باقی ملک صرف بھگوڑے چھوڑ رہے ہیں کیونکہ اگر آپ کے سارے تھیسز کو تسلیم بھی کرلیا جائے تو ” ماں بیمار ہو تو بیٹے اُسے چھوڑ کر نہیں بھاگتے ۔“ ایسا بدبخت اور بزدل بیٹے کرتے ہیں ۔ مسٹر نظامانی ہرشخص آپ کی طرح صاحب ِ حیثیت نہیں کہ امریکہ بھی پہنچا جائے اورپی ایچ ڈی بھی کررہا ہو ۔ یہاں تو بچے چور رستوں سے جاتے ہوئے سمندروں میں ڈوب جاتے ہیں اور یہ کسی طاقتورکے خوف سے نہیں بھاگتے بلکہ زیادہ بہتر زندگی کیلئے چور رستہ اختیارکرتے ہیں جس میں اپنے ماں باپ کے آبائی مکان تک بیچ جاتے ہیں ۔طاقتور بوڑھوں میں آپ نے جیل میں بند بوڑھے کے بارے میں ایک بھی لفظ نہیں لکھا جو سب سے زیادہ طاقتور اور پاپولر ہونے کا دعودار ہے۔وینزویلا میں جو کچھ ہوا اُس کے بعد آپ کو علم ہونا چاہیے کہ دنیا ایک مہا سامراج کی زد میں ہے جس کی پشت پر مہا سرمایہ داری کھڑی ہے اور آپ انہیں کی گود میں بیٹھ کر بجائے غزہ کے مظلوموں اور وینزویلا کے حقوق نگلنے والوں کی بات کریں آپ کو ساری دنیا میں پاکستان کے ادارے اور بزرگ ہی نظر آئے ۔کہانی ختم ہوئی نہیں کہانی ختم ہو رہی ہے سازشوں اور بیرونی آقاﺅںکی خوشنودی حاصل کرنے والوں کی۔