کلچر کی آسان ترین تعریف یہی کی جا سکتی ہے کہ ’’ زمین کے کسی مخصوص جغرافیے میں ٗ انسانوں کا کوئی گروہ جب صدیوں تک اکٹھے رہتے ہوئے جو کام بھی تواتر اور تسلسل کے ساتھ سرانجام دیتا ہے وہ اُس کا کلچر کہلاتا ہے‘‘ جو نسل در نسل منتقل ہونے کے ساتھ ساتھ اتنا مضبوط ہو جاتا ہے کہ لوگ صرف اُس میں رہنا ہی پسند نہیں کرتے بلکہ اُس کی اطاعت کے عادی ہو جاتے ہیں سو کلچر کو کسی بھی مصنوعی طریقے سے کسی بھی قوم پر مسلط نہیں کیا جا سکتا کیونکہ یہ کبھی بھی درآمد نہیں ہوتا بلکہ اپنی مٹی سے پھوٹتا ہے یہی وجہ ہے کہ دنیا ئے اسلام توحید و رسالت پر متفق ہونے کے باوجود مختلف کلچرز میں بٹی ہوئی ہے۔ کلچر تخلیق بھی ہوتا ہے اور تقلیدی بھی ٗاس کی مثال انتہائی آسانی سے سمجھی جا سکتی ہے کہ ندی نالے ہر سال نئے رستوں سے شور مچاتے ٗ درخت گراتے ٗ میدانوں تک پہنچتے ہیں جہاں وہ پُرسکون ہو کراپنی وسعت آخری حدوں تک لے جاتے ہیں لیکن دریا ہر سال بنتے ندی نالوں سے ہی ہیں سو ندی نالوں کی حیثیت تخلیقی کلچر سی ہے جب کہ دریا ایک بڑی تہذیب بن کر سمندر کی آفاقی تہذیب میں اتر جاتا ہے ۔دریاوں کی تقلید ہوتی ہے جبکہ ندی نالے اپنا رستہ چونکہ ہر بار خود بناتے ہیں سو انہیں تخلیقی ہی کہا جائے گا ۔ پاکستانی کلچر ابھی جھولے میں ہے مگر لعل پنگھوڑے میں دکھائی دے رہا ہے لیکن ابھی اُس کے جوان اور با شعور ہونے میں ایک طویل عرصہ درکار ہے ۔ قرآن و سنت نے جس عظیم ترین ہستی کو رول ماڈل قراردیا ہے وہ کالے کو گورے پر اور عربی کو عجمی پر کوئی فوقیت نہیں دیتی یعنی اصل بات وہ صداقت و امانت ہے جو آپ ؐسرکار کا حقیقی کردار ہے اور دنیا بھر کے مسلمانو ں کا ایک ہونا چاہیے ۔ وراثت کی تقسیم درست ہونی چاہیے ٗ قدر زائد کو اسلام نے منع فرمایا ہے بلکہ ایسا کرنے والوں کو بدترین عذاب کی خبر سنائی ہے ٗ ہمسائے سے اچھا سلوک کرنے کا حکم دیا ہے ٗ صفائی کونصف ایمان قرار دیا گیا ہے ٗ رشوت لینے اوردینے والے کو دو زخی قراردیا گیا ہے ٗغریبوں اور یتیموں سے بہترین سلوک کا حکم ہے ٗ ذخیرہ اندوزی کو لعنت قراردیا گیا ہے اور ایسے ہزاروں احکامات ہیں جو اسلامی معاشرے کی اعلیٰ ترین اقدار ہونی چاہیں ۔
محترمہ وزیر اعلیٰ پنجاب نے پنجابی کلچر اور پنجابی زبان کو پرموٹ کرنے کا پیغام دے کر مجھے تو نہال کردیا ہے ۔کاش ! یہ توفیق اُن سے پہلے وزراء اعلیٰ کو بھی ہوتی لیکن اگر محترمہ مریم نواز صاحبہ اپنا پیغام پنجابی زبان میں ریکارڈ کروا دیتیں توبسنت کی خوشی دوگنی ہو جانی تھی ۔ میری خواہش ہے کہ میں اپنی پنجابی وزیر اعلیٰ کو پنجابی میں نہ صرف تقریر کرتے سنو بلکہ پنجابی کو پنجاب کیلئے لازمی زبان قرار دینے کا قانون بنا کر ہمیشہ کیلئے پنجابیوں کی متفقہ علیہ وزیر اعلیٰ بنتے ہوئے بھی دیکھ سکوں۔مجھے حیرت ہے کہ کسی وزیر مشیر نے پاس کھڑے ہو کر یہ مشورہ نہیں دیا کہ میڈم آپ پنجابی زبان سیکھنے اور سکھانے کی بات کر رہی ہیں تو خود بھی پنجابی زبان میں بات کرلیں ۔ مریم نواز صاحبہ پنجابی میں بات کریں گی تو ہماری بیٹیاں بھی پنجابی بولنے میں فخر محسوس کریں گی کیونکہ جس طرح پنجابی کو ’’ بدتمیز زبان ‘‘ کے مرتبے پر فائز کرنے کیلئے گزشتہ دہائیوں میں کوشش ہوتی رہی ہے اُس کا بھی کفار ہ ہو جائے گا ۔بھاٹی گیٹ لاہور میں ہونے والے دلخراش واقعہ نے سارے معاشرے کو ہلا کر رکھ دیا۔ جہاں انسان اکٹھے رہتے ہیں وہاں حادثات ہوجاتے ہیں لیکن اگر جرم ہو رہا ہوہے اور وہ حاکم کے علم میں ہو تووہ ظالم ہے اور اگر ظلم ہو رہا ہے اور وہ حاکم کے علم میں نہیں تووہ غافل ہے ۔ ظالم اور غافل کبھی بھی دیرپا حکمران نہیں ہوتے ۔ حادثہ ہو گیا اِس کادُکھ ہے لیکن اُس سے بڑا حادثہ تو حادثے کے بعد ہو ا کہ جب مرنے والوں کے خاوند کو ہی تھانے میں چھترول شروع کردی گئی ۔ ایک اعلیٰ پولیس آفیسر کا یہ کہناکہ ایس ایچ او نے تشدد نیک نیتی سے کیا ہے لیکن جلد بازی کرگیا ہے ۔جناب ! ایس ایچ او نے جلد بازی نہیں کی اُس کی اور متعلقہ ایس پی کی صلاحیت ہی اس سے زیادہ نہیں تھی۔ وہ اس سے آگے سوچنے کی عقل سے محروم تھے ۔ وزیر اعلیٰ پنجاب نے پنجاب اور لاہور کے ذمہ داران عوامی ملازمین (Public Servents) کو بٹھا کر جو دھلائی کی ہے وہ یقینا تحسین کے لائق ہے ۔
بسنت میں کبھی پتنگ بازی شامل نہیں تھی لیکن جب انسان اکٹھے رہتے ہیں تو بہت کچھ نیا تخلیق کرتے رہتے ہیں۔ پتنگ بازی چین سے شروع ہوئی اور گپتا دور میں موجودہ اتر پردیش، دہلی، بہار اور پنجاب تک پہنچی ۔ ابتدا میں یہ شاہی خاندانوں ٗ امرء ا اور فوجی طبقے تک محدود تھی کیوں کہ پتنگ فوجی اشاروں کیلئے بھی استعمال ہوتی تھی ۔10ویںسے 12ویں صدی میں اس کا باقاعدہ آغاز ہوا ۔پتنگ بازی دربار سے گلیوں تک پہنچی لیکن اسے عروج شہشاہ جلال الدین اکبراور نورالدین جہانگیر کے زمانے میں نصیب ہوا جب اسے باقاعدہ ثقافتی تفریخ کا درجہ دے دیا گیا اور دیکھتے ہی دیکھتے لاہور، دہلی اور آگرہ اس کے بڑے مراکز بن گئے ۔ اصل میں بسنت تو ایک زرعی یا موسمی تہوار ہے جو بہار کی آمد، سرسوں کے پھول، خوشی اور رنگ بکھیرتا دکھائی دیتا ہے ۔ بسنت کے موسم میں ہوائیں پتنگ کے لیے انتہائی ساز گار ہوتی ہیں اور پھر بہار رنگوں کی علامت ہونے کی وجہ سے پیلا رنگ جسے بسنت کی علامت سمجھا جاتا تھا اور یہ سمجھ مذہبی نہیں موسمی تھی ۔آسمان رنگ برنگی پتنگوں سے درباری سرپرستی میں رنگوں سے اٹ گیا۔ مسلم حکمرانوں نے بسنت کوہمیشہ مذہبی کے بجائے ثقافتی تہوار ہی مانا ورنہ کم از کم اورنگ زیب اس پر پابندی ضروری لگاتا ۔ امیر خسرو کے کلام میں بسنت کی موجودگی اور موسیقی میں راگ بسنت بہار تو اس بات کی کھلی شہادت ہیں کہ یہ خوشی، شباب اور زندگی کی علامت ہے۔پتنگ بازی کے تسلسل نے اسے بسنت کے مزاج سے جوڑ دیا اور بسنت پتنگ کے بغیر ادھوری سمجھی جانے لگی۔ بسنت نہ تو ہندو مذہبی رسم تھی اور نہ اسلامی عبادت ہے بلکہ برصغیر کی مشترکہ ثقافت کا ارتقائی نتیجہ ہے جس کو محبت ٗ رواداری اور بھائی چارے کی اساس سمجھا جا سکتا ہے ۔وزیر اعلیٰ پنجاب محترمہ مریم نواز صاحبہ نے ایک جرات مندأنہ اقدام کرکے پنجاب او ر بالخصوص لاہور یوں کے دل جیت لئے ہیں ۔ پنجاب بھر سے رشتے دار اوردوست احباب بسنت منانے لاہور آ رہے ہیں یہ غم کی بہت سی خبروں میں ایک بڑی خوشی کی خبر ہے اب عوام کی ذمہ داری ہے کہ وہ ذمہ دار شہری ہونے کا ثبوت دیں تاکہ آئندہ بسنت سارے پنجاب میں منائی جا سکے ۔ یاد رکھیں صرف مضبوط کلچر ہی انتہا پسندی کو جڑ سے اکھاڑ سکتا ہے ۔