ایک محاورہ ہے ”جس کی لاٹھی، اس کی بھینس“۔ اگر عالمی تاریخ پر نظر ڈالی جائے تو بعض ناقدین کے نزدیک یہ محاورہ کئی مواقع پر عالمی طاقتوں، خصوصا امریکہ، کی خارجہ پالیسی پر صادق آتا دکھائی دیتا ہے۔ دوسری طرف امریکہ کا مقوقف یہ رہا ہے کہ اس کی فوجی کارروائیاں دہشت گردی کے خاتمے، اپنے اتحادیوں کے دفاع، بین الاقوامی سلامتی یا انسانی حقوق کے تحفظ کے لیے کی گئیں۔ حقیقت کو سمجھنے کے لیے دونوں زاویوں کو سامنے رکھنا ضروری ہے۔ دوسری جنگِ عظیم کے بعد امریکہ دنیا کی سب سے بڑی عسکری اور معاشی طاقت بن کر ابھرا۔ سرد جنگ کے دور میں اس نے سوویت یونین کے اثر و رسوخ کو روکنے کے لیے مختلف خطوں میں براہِ راست یا بالواسطہ مداخلت کی۔ ناقدین کہتے ہیں کہ اس پالیسی نے کئی ممالک میں طویل عدم استحکام کو جنم دیا، جبکہ امریکی پالیسی ساز اسے اپنے قومی مفادات اور عالمی توازن کے لیے ضروری قرار دیتے رہے۔
کوریا میں 1950کی جنگ کے دوران امریکہ اقوام متحدہ کے تحت جنوبی کوریا کے دفاع کے لیے فوجی اتحاد کا حصہ بنا۔ اس جنگ میں لاکھوں افراد ہلاک ہوئے اور آج تک جزیرہ نما کوریا تقسیم ہے۔ ویتنام میں امریکی مداخلت جدید تاریخ کی طویل ترین اور متنازع جنگوں میں شمار ہوتی ہے۔ لاکھوں ویتنامی شہری اور ہزاروں امریکی فوجی مارے گئے۔ جنگ کے اختتام پر امریکہ کو پسپائی اختیار کرنا پڑی، جبکہ ویتنام کو انسانی اور معاشی اعتبار سے شدید نقصان پہنچا۔ لاطینی امریکہ میں بھی امریکہ پر متعدد ملکوں میں مداخلت کے الزامات لگتے رہے۔ گوئٹے مالا، چلی، نکاراگوا اور پاناما جیسے ممالک میں امریکی کردار پر آج بھی تاریخ دان بحث کرتے ہیں۔ ان اقدامات کو بعض لوگ کمیونزم کے پھیلا کو روکنے کی کوشش قرار دیتے ہیں، جبکہ ناقدین انہیں خودمختاری میں مداخلت کہتے ہیں۔ 1983میں گریناڈا اور 1989میں پاناما میں امریکی فوجی کارروائیاں ہوئیں۔ امریکہ نے ان کارروائیوں کو اپنے شہریوں کے تحفظ اور علاقائی استحکام کے لیے ضروری قرار دیا، لیکن ان پر بین الاقوامی سطح پر تنقید بھی ہوئی۔1991میں خلیجی جنگ کے دوران امریکہ نے وسیع بین الاقوامی اتحاد کے ساتھ کویت سے عراقی افواج کو نکالنے کے لیے کارروائی کی۔ اس جنگ کو اقوام متحدہ کی قراردادوں کی حمایت حاصل تھی، تاہم اس کے بعد خطے میں امریکی فوجی موجودگی بڑھ گئی۔
افغانستان پر 2001 میں 11 ستمبر کے حملوں کے بعد کارروائی کی گئی۔ مقصد القاعدہ اور طالبان کے خلاف کارروائی بتایا گیا۔ تقریبا بیس سال بعد امریکی افواج کے انخلا کے ساتھ طالبان دوبارہ اقتدار میں آ گئے، جس سے اس طویل جنگ کے نتائج پر کئی سوالات اٹھے۔ 2003 میں عراق پر حملہ شاید امریکہ کی سب سے زیادہ متنازع فوجی کارروائیوں میں شمار ہوتا ہے۔ اس وقت یہ مو¿قف اختیار کیا گیا کہ عراق کے پاس بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیار موجود ہیں، مگر بعد میں ایسے ہتھیار نہیں ملے۔ اس جنگ کے نتیجے میں صدام حسین کی حکومت ختم ہوئی، لیکن عراق طویل عرصے تک بدامنی، فرقہ وارانہ تشدد اور دہشت گردی کا شکار رہا۔2011میں لیبیا میں نیٹو کی کارروائی، جس میں امریکہ بھی شامل تھا، معمر قذافی کی حکومت کے خاتمے پر منتج ہوئی۔ ناقدین کے مطابق اس کے بعد لیبیا میں سیاسی انتشار اور مسلح گروہوں کی سرگرمیاں بڑھ گئیں۔ شام میں امریکہ نے مختلف ادوار میں داعش کے خلاف فضائی حملے کیے اور بعض مقامی گروہوں کی حمایت بھی کی۔ شام کی خانہ جنگی میں کئی عالمی اور علاقائی طاقتوں کی مداخلت نے صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا۔
یمن میں امریکہ نے دہشت گرد تنظیموں کے خلاف ڈرون حملے کیے اور بعض علاقائی اتحادیوں کی حمایت بھی کی۔ ان کارروائیوں پر شہری ہلاکتوں کے حوالے سے انسانی حقوق کی تنظیموں نے متعدد سوالات اٹھائے۔ حالیہ برسوں میں ایران کے ساتھ کشیدگی، روس اور چین کے ساتھ بڑھتی ہوئی رقابت، اور مشرقِ وسطیٰ میں امریکی کردار بھی عالمی بحث کا موضوع رہے ہیں۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ طاقت کے استعمال نے کئی خطوں میں دیرپا امن قائم نہیں کیا، جبکہ امریکی حکام کا موقف ہے کہ بعض مواقع پر فوجی کارروائی ناگزیر تھی۔ اس تمام بحث کا ایک اور اہم پہلو معاشی اور انسانی نقصانات ہیں۔ جہاں بھی جنگ مسلط ہوئی، وہاں صرف فوجیں ہی آمنے سامنے نہیں آئیں بلکہ عام شہری بھی اس کی قیمت چکاتے رہے۔ لاکھوں افراد بے گھر ہوئے، ہزاروں خاندان بکھر گئے، معیشتیں تباہ ہوئیں، صحت اور تعلیم کے نظام متاثر ہوئے اور پورے کے پورے معاشرے عدم استحکام کا شکار ہو گئے۔ افغانستان، عراق، لیبیا اور شام اس کی نمایاں مثالیں ہیں، جہاں جنگوں کے اثرات آج بھی مکمل طور پر ختم نہیں ہو سکے۔
امریکہ کے ناقدین کا کہنا ہے کہ اگرچہ ہر فوجی کارروائی کے لیے مختلف وجوہات پیش کی گئیں، لیکن ان جنگوں کے بعد متعلقہ ممالک میں پائیدار امن قائم نہ ہو سکا۔ دوسری طرف امریکہ اور اس کے اتحادیوں کا موقف یہ ہے کہ بعض کارروائیاں دہشت گردی کے خلاف ناگزیر تھیں اور کئی مواقع پر اقوام متحدہ کی قراردادوں یا اتحادی ممالک کی درخواستوں کے تحت کی گئیں۔ یہی وجہ ہے کہ ان جنگوں پر عالمی سطح پر آج بھی مختلف آرا موجود ہیں۔ بین الاقوامی تعلقات میں طاقت ایک حقیقت ہے، لیکن طاقت کے ساتھ ذمہ داری بھی وابستہ ہوتی ہے۔ جب طاقتور ممالک بین الاقوامی قانون، اقوام متحدہ کے منشور اور ریاستوں کی خودمختاری کو نظر انداز کرتے ہیں تو کمزور ممالک خود کو غیر محفوظ محسوس کرتے ہیں۔ یہی وہ مقام ہے جہاں ”جس کی لاٹھی، اس کی بھینس“ کا محاورہ ذہن میں آتا ہے۔ تاریخ ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ طاقت وقتی طور پر کسی جنگ کا رخ بدل سکتی ہے، مگر دیرپا امن صرف انصاف، اعتماد، سفارت کاری اور بین الاقوامی قوانین کے احترام سے ہی ممکن ہوتا ہے۔ اگر عالمی طاقتیں اپنے مفادات کے ساتھ ساتھ کمزور ریاستوں کے حقوق کا بھی یکساں خیال رکھیں تو دنیا زیادہ محفوظ اور پُرامن بن سکتی ہے۔ اسی تناظر میں ”جس کی لاٹھی، اس کی بھینس“ کا محاورہ محض ایک کہاوت نہیں بلکہ عالمی سیاست پر ایک گہرا تبصرہ محسوس ہوتا ہے۔ جب طاقت قانون پر غالب آ جائے تو انصاف کمزور پڑ جاتا ہے، لیکن جب قانون سب پر یکساں لاگو ہو تو طاقت بھی ذمہ داری میں بدل جاتی ہے۔ یہی وہ اصول ہے جس پر ایک منصفانہ اور پائیدار عالمی نظام کی بنیاد رکھی جا سکتی ہے۔