Wed, September 16, 2026

شریا کلرا نے بازی مار لی، ’لاک اپ 2‘ کی فاتح بن گئیں

شریا کلرا نے بازی مار لی، ’لاک اپ 2‘ کی فاتح بن گئیں

ممبئی : نیٹ فلکس کے ریئلٹی شو ’لاک اپ: سچ یا سزا‘ سیزن 2 کا فیصلہ کن مرحلہ مکمل ہوگیا، جہاں کانٹینٹ کریئٹر شریا کلرا نے تمام حریفوں کو پیچھے چھوڑتے ہوئے کامیابی اپنے نام کر لی۔

شریا کلرا نے گرینڈ فائنل میں شیوانگی جوشی کو شکست دے کر شو کی فاتح بننے کا اعزاز حاصل کیا۔ کامیابی کے بعد انہیں ٹرافی کے ساتھ ایک کروڑ روپے کی انعامی رقم بھی دی گئی۔ فاتح کے اعلان کے وقت شریا جذباتی ہو گئیں اور اپنی خوشی کے آنسو نہ روک سکیں۔

شو کے آخری مرحلے میں شرکا کو کئی مشکل امتحانات اور چیلنجز کا سامنا کرنا پڑا۔ فائنل کی شروعات ایک جسمانی مقابلے سے ہوئی، جس میں رام کپور پانچویں نمبر پر رہتے ہوئے ٹائٹل کی دوڑ سے باہر ہو گئے۔

بعد ازاں ’بلف ماسٹر‘ ٹاسک میں یوگیش راوت نے اپنی چالوں سے دیگر امیدواروں کو متاثر کرنے کی کوشش کی۔ انہوں نے شیوانگی جوشی، شریا کلرا اور شلپا شندے کے خلاف ’غیر محفوظ‘ سٹیٹس بینڈ حاصل کرنے کے لیے حکمت عملی اپنائی۔ یوگیش شلپا شندے کو قائل کرنے میں کامیاب رہے، جس کے بعد شلپا کا سفر ختم ہوگیا جبکہ یوگیش فائنل تھری میں پہنچ گئے۔

آخری مرحلے میں ٹاپ تھری امیدواروں کو جیوری کے سامنے پیش ہونا پڑا، جہاں معروف شخصیات اور صحافیوں نے ان سے سوالات کیے۔ شیوانگی جوشی سے ہرشد چوپڑا کے ساتھ ان کے تعلقات سے متعلق سوال کیا گیا، جبکہ یوگیش راوت کو ان کے رویے اور کھیل کے انداز پر تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔

شریا کلرا بھی تنقید سے محفوظ نہ رہ سکیں۔ اویز دربار نے ان پر الزام لگایا کہ وہ ساتھی امیدواروں کے ساتھ مخلص نہیں رہیں اور کچھ راز افشا کیے۔ اس کے علاوہ شو کے دوران ان کے رویے اور دیگر شرکا سے اختلافات پر بھی سوال اٹھائے گئے۔

جیوری کے فیصلے کے بعد یوگیش راوت فائنل کی دوڑ سے باہر ہو گئے، جس کے بعد شریا کلرا اور شیوانگی جوشی کے درمیان ٹرافی کے لیے آخری مقابلہ رہ گیا۔

آخر میں جیلرز، سابق شرکا اور ’جنتا کی جیوری‘ کے ووٹس کی بنیاد پر فاتح کا انتخاب کیا گیا، جس میں شریا کلرا کامیاب قرار پائیں۔ دوسری جانب شیوانگی جوشی نتیجے کے بعد مایوسی کا اظہار کرتی نظر آئیں۔

شریا کلرا کی یہ کامیابی ان کے لیے ایک یادگار لمحہ بن گئی، جبکہ انہوں نے اپنے منفرد انداز اور حکمت عملی سے شو کے دوران ناظرین کی توجہ حاصل کیے رکھی۔

ٹیگز: