پی آئی اے کا شمار کبھی دنیا کی بہترین ایئر لائنز میں ہوا کرتا تھا اسے دنیا کے تمام ایئرپورٹس پر باوقار حیثیت حاصل تھی۔ پی آئی اے کا جہاز دنیا کے جس ایئرپورٹ پر لینڈ کرتا لوگ اسے جہازوں کے سربراہ کے طور پر دیکھا کرتے تھے۔ ان کا نعرہ ”باکمال لوگ لاجواب سروس“ واقعی درست تھا۔ اپنے چھوٹے فلیٹ کے ساتھ بھی یہ دنیا کے بہت سے ملکوں اور شہروں کے لیے آپریشن چلا رہا تھا۔ یوں لگ رہا تھا کہ اگر یہ ادارہ اسی طرح اگلے چند سال کام کرتا رہا تو شاید ایشیا کا واحد ادارہ بن جائے جس کے پاس سب سے زیادہ جہاز اور سب سے زیادہ روٹس ہوں گے۔ پی آئی اے کو بہت سے ممالک میں استاد کی حیثیت حاصل تھی۔ اس ادارے کے پائلٹس نے اپنی مہارت اور جدوجہد کا لوہا ساری دنیا میں منوایا۔ اس ادارے کے ماہرین نے ایئر مالٹا کے بیس فیصد شیئرز 1977 میں خریدے اسے تکنیکی سٹاف فراہم کیا پھر ایئر چائنہ، سعودی عربین ایئر لائنز، رائل اردن ایئر، ایئر لیبیا، ملائیشین ایئر لائنز، سری لنکا، نیپال، روانڈا اور ایمرٹس کو چلانے میں اپنے جہاز اور پائلٹس دئیے۔ انہیں دنیا کی کامیاب ترین ایئر لائنز میں شامل کرایا۔ یہ اس وقت دنیا کی واحد ایئر لائن تھی جسے یہ تمام ممالک اپنا محسن تصور کرتے تھے۔ یہاں پر سوال تو ذہن میں آیا ہو گا کہ آخر کیا ہوا کہ اتنی باعزت باوقار اور کامیاب ترین ایئر لائن تباہی کے کنارے پہنچ گئی؟
اس کی ایک نہیں بہت سی وجوہات ہیں جن میں سے چند ایک پیش خدمت ہیں، پی آئی اے کی تباہی میں سب سے اہم کردار سیاسی مداخلت نے ادا کیا اس کی بربادی میں پیپلز پارٹی، مسلم لیگ ق، مسلم لیگ ن اور پی ٹی آئی برابر کی شریک ہیں۔ اس ادارے پر قبضہ کرنے کی دوڑ نے اسے برباد کیا ان تمام سیاسی جماعتوں نے بغیر کسی مہارت کے اپنے ووٹر سپوٹرز اور انویسٹرز کو پی آئی اے میں بھرتی کیا جن کی نالائقی اور نااہلی نے اس ادارے کی جڑیں ہلا کر رکھ دیں۔ قابل اور ذہین لوگ جو اس ادارے کو کامیاب بنانے کے لیے کوشاں تھے سب کو کھڈے لائن لگا دیا گیا، اپنے بندوں کو کرپشن کرنے اور ادارے کو تباہ کرنے کے لیے کھلا چھوڑ دیا گیا۔ دوسرے نمبر پر مالی بے ضابطگیوں یا کرپشن کو لے لیں جنہوں نے جہازوں کی مرمت کے لیے استعمال شدہ پرزے دوگنا زیادہ قیمت پر خریدے اور جو خریدے گئے انہیں چوری کر کے پھر سے بلیک مارکیٹ میں فروخت کر دیا گیا۔ اس سے ادارے کو اربوں روپے کا نقصان پہنچا اور اسے قرضوں کی دلدل میں دھکیل دیا گیا۔ اس ادارے کی تباہی کی تیسری وجہ میرٹ کی بجائے ذاتی تعلقات کو ترجیح دے کر سیکڑوں کی تعداد میں مفت ٹکٹیں تقسیم کی گئیں اور اس کے ساتھ اپنے من پسند لوگوں کو اعلیٰ تکنیکی عہدوں پر نوکریاں دی گئیں۔ ان نا اہل لوگوں کی وجہ سے ادارے میں جدید مینجمنٹ پریکٹسز متعارف نہیں کرائی گئیں جو اسے دور جدید کے تقاضوں کے مطابق ڈھال سکتیں۔ اس ادارے کی مارکیٹنگ کی گئی اور نہ ہی لوگوں کو عزت دی گئی۔ جہازوں کی مسلسل تاخیر نے مسافروں کو لمبے انتظار کے ساتھ پی آئی اے سے مکمل طور پر بد ظن کر دیا تو انہوں نے متبادل ایئر لائنز کا انتخاب کرنا شروع کر دیا۔ مسافروں کی کمی نے بھی ادارے کی تباہی میں بڑا حصہ ڈالا۔ پرانے اور غیر مو¿ثر جہازوں کو زبردستی فضائی بیڑے میں شامل رکھا گیا، پرانے جہازوں کی فٹنس پر اتنے اخراجات آئے کہ ادارہ یہ بوجھ برداشت نہ کر سکا یعنی اس ادارے کے ساتھ یوں ہوا کہ
پرانا ٹٹوا کھا گیا بٹوا
پھر بھی رہا ٹٹوے کا ٹٹوا
حالانکہ چاہیے تو یہ تھا کہ ہر سال پانچ سے دس جہاز اس فلیٹ میں نئے شامل کیے جاتے جب ادارہ اس زبوں حالی کا شکار تھا تو اس کے تابوت میں آخری کیل پی ٹی آئی کے وزیر غلام سرور نے ٹھونک دیا جس نے اسمبلی کے فلور پر پاکستان کے پائلٹس کو جعلی ڈگریوں والے کہا، یوں دنیا کے بہت سے ممالک نے قومی ایئر لائن کی پروازوں پر اپنے ممالک میں داخلے پر پابندی عائد کر دی یہ تو تھی پی آئی اے کی بربادی کی داستان۔ ان تمام بربادیوں کے باوجود اب بھی اس ڈوبتے ادارے کو بچایا جا سکتا ہے۔
پانی آنکھ میں بھر کے لایا جا سکتا ہے
اب بھی جلتا شہر بچایا جا سکتا ہے
موجودہ گورنمنٹ جب سے وجود میں آئی ہے، پی آئی اے کو فروخت کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ حکومت نے جتنی کوششیں اس سے جان چھڑانے کے لیے کی ہیں اگر اتنی ہی اسے بحال کرنے کے لیے کی جاتیں تو شاید پاکستان کا ایک بڑا ادارہ تباہ ہونے سے بچ جاتا۔ اگر حکومت از سر نو جائزہ لے تو اس کے بچنے کے راستے اب بھی موجود ہیں۔
جناب وزیراعظم اگرآپ، آپ کے وزیر ہوا بازی اور آپ کے بیوروکریٹس کے پاس اس ادارے کو بچانے کے لیے کوئی عملی تجویز نہیں ہے تو میں آپ کی خدمت میں پیش کیے دیتا ہوں۔ مجھے امید ہے کہ اگر ان تجاویز کو پی آئی اے کے حوالے سے کسی میٹنگ میں زیر بحث رکھ لیا جائے تو بہت سے راستے نکل آئیں گے۔ سب سے پہلے تو جن ممالک کی ایئر لائنز کو آپ نے بنایا تھا، ان سے مدد مانگ لی جائے۔ اگر یہ ممکن نہیں تو قطر ایئر ویز ہماری ایئر لائن کے ساتھ پارٹنرشپ کرنے کو تیار تھی ان کے ساتھ بات وہیں سے شروع کر لی جائے جہاں سے ٹوٹی تھی۔ اگر وہ ہمارے ساتھ پارٹنرشپ میں آ جاتے ہیں اور ساتھ میں ایک دو ایئرپورٹس کے انتظامات بھی مانگ لیتے ہیں تو کوئی حرج نہیں اگر آو¿ٹ سورس کر دئیے جائیں تو بہت سے مسائل حل ہو سکتے ہیں کیونکہ ان کے پاس دنیا کی بہت سی ڈیسٹینیشن کے لائسنس موجود ہیں۔ اگر وہ ایسا نہیں کرتے تو چائنہ ایئر لائنز سے جے وی کر لی جائے یا پھر موٹروے کی طرز پر پچاس نئے اور جدید جہاز لیز پر لے لیے جائیں ان کی کمائی سے ان کی قسطیں اتار دی جائیں۔ آخر پانچ دس سال میں وہ جہاز ہمارے ہو ہی جائیں گے۔ اگر یہ تجویز بھی قابل عمل نہیں ہے تو پھر ائیر ایشیا ملائیشیا کی ایک بجٹ ایئر لائن ہے جو بہت سے ممالک کے لیے اپنے فضائی آپریشنز چلا رہی ہے ان کے ساتھ جے وی کر لی جائے تاکہ اس ڈوبتے ہوئے ادارے کو بچایا جا سکے۔ ان میں سے اگر کسی کے ساتھ بھی انتظامی بنیادوں پر جائنٹ وینچر کر لیا جاتا ہے تو سب سے پہلے اربوں کھربوں روپے جو پنشن کی مد میں اور کرپشن ہو رہی ہے وہ بچائے جا سکیں گے۔ دوسرا تمام کرپٹ افسران، انتظامی ملازمین اور درجہ چہارم کے کرپٹ ترین ملازمین کو چن چن کر نوکریوں سے نکال دیا جائے اور آئندہ کے لیے یہ فارمولا بنا دیا جائے کہ اس ادارے میں نوکریاں صرف کنٹریکٹ بیسڈ نکالی جائیں تاکہ سب کو پتہ ہو کہ اگر کام نہ کیا تو ایگریمنٹ ری نیو نہیں ہو گا۔ ایسا نہ کیا گیا تو ہر گزرتے دن کے ساتھ یہ ادارہ قومی خزانے پر مزید بوجھ ڈالتا جائے گا۔ اس لیے جناب وزیراعظم فوری طور پر ایکشن پلان ترتیب دیں تاکہ اس سفید ہاتھی کے اخراجات کا حل نکالا جا سکے۔