Wed, September 16, 2026

پاکستان پھر فرنٹ لائن پر....!

پاکستان پھر فرنٹ لائن پر....!

امریکا، اسرائیل اور ایران جنگ میں ایک مرتبہ پھر پاکستان کا کردار بطور ثالث سامنے آیا ہے جبکہ مصر بھی معاونت میں شریک ہے۔ غیر ملکی میڈیا کی رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ پاکستان اور مصر نے امریکا اور ایران کے درمیان رابطے بحال رکھے ہوئے ہیں اور رپورٹس میں ترکیے کا نام بھی لیا جا رہا ہے۔ امریکی نشریاتی ادارے سی این این نے پاکستانی سرکاری ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ پاکستان اور مصر ان ممالک میں شامل ہیں جو امریکا اور ایران کے حکام کے درمیان رابطے کا ذریعہ بن رہے ہیں۔ رپورٹ میں بتایا گیا کہ یہ خبر اس وقت سامنے آئی ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو آبنائے ہرمز کھولنے کے لیے نئی ڈیڈ لائن کے ساتھ وارننگ دی کہ اس سے پہلے کہ امریکا ایرانی توانائی کے مراکز کو نشانہ بنانا شروع کرے، آبنائے ہرمز کھول دیں۔ قبل ازیں پاکستان کے دفتر خارجہ کی جانب سے ہفتے کو سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر جاری ایک بیان میں کہا گیا تھا کہ نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے اپنے ایرانی ہم منصب عباس عراقچی سے ٹیلیفونک رابطہ کیا اور اس دوران انہوں نے خطے میں کشیدگی میں کمی لانے کے لیے تمام کوششوں کی حمایت کا اعادہ کیا اور مسائل کو بات چیت اور سفارت کاری کے ذریعے حل کرنے کی اہمیت پر زور دیا۔ الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اتوار کو مختلف میڈیا نمائندوں سے بات کرتے ہوئے بیانات دئیے جہاں انہوں نے ایک طرف ایران میں تیل کو قبضے میں لینے اور سب کچھ اڑانے کی بات کی وہی دوسری جانب انہوں نے کہا کہ امریکا ان لوگوں کو استثنیٰ دے گا جو ایران کے ساتھ بات کرنا چاہتے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ان کے قریبی مشیر جیرڈ کشنر اور سٹیو ویٹکوف ایرانی مذاکرات کاروں سے بات کر رہے ہیں۔ الجزیرہ نے مزید بتایا کہ متعدد رپورٹس میں بتایا گیا کہ مصر، پاکستان اور ترکیے مذاکرات کار ہیں لیکن ذرائع نے یہ بھی بتایا کہ سٹیو ویٹکوف اور جیرڈ کشنر براہ راست ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی سے پیغام رسانی کے ذریعے بات کر رہے ہیں۔ مزید بتایا گیا کہ اس خبر کی تصدیق نہیں ہے لیکن ٹرمپ کہہ رہے ہیں ان کے قریبی مذاکرات کار جیرڈ کشنر اور سٹیو ویٹکوف مذاکرات کے لیے ایرانی نمائندے کے ساتھ قریبی طور پر بات کر رہے ہیں۔ دوسری جانب ایران جنگ کے خاتمے کیلئے پاکستان کا تیار کردہ منصوبہ ایران اور امریکی قیادت کو پہنچانے کی بھی باتیں سامنے آئی ہیں۔ رائٹرز کے مطابق امریکا اور ایران کو جنگ ختم کرنے کا منصوبہ موصول ہو گیا ہے۔ پاکستان کی جانب سے تیار کردہ فریم ورک تہران اور واشنگٹن کو پیش کیا گیا جس میں فوری جنگ بندی اور بعد ازاں جامع معاہدے کی تجاویز شامل ہیں۔ منصوبے کے تحت جنگ بندی کے فوراً بعد آبنائے ہرمز کو دوبارہ مکمل کھولنے کا امکان ہے۔ رپورٹس کے مطابق پاکستان کے فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر نے امریکی نائب صدر جے ڈی وینس، خصوصی ایلچی سٹیو ویٹکوف اور ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی سے مسلسل رابطے کیے۔ منصوبے کے مطابق 45 روزہ جنگ بندی کے بعد اسلام آباد میں حتمی مذاکرات متوقع ہیں جبکہ معاہدے میں ایران کی جانب سے جوہری ہتھیار نہ بنانے کی یقین دہانی کے بدلے پابندیوں میں نرمی اور منجمد اثاثوں کی بحالی شامل ہو سکتی ہے۔ اس طرح عالمی نشریاتی ادارے ایک مرتبہ پھر پاکستان کے کردار کی تعریف کر رہے ہیں اور جنگ رکوانے کے لئے ان کاوشوں کو قدر کی نگاہ سے دیکھ رہے ہیں۔ ادھر اس جنگ کے تناظر میں اگر پاکستان کی معاشی حالت کی بات کریں تو تجزیہ کار یہ کہنے پر مجبور ہیں کہ پاکستان میں بھارت جیسا تیل بحران پیدا نہیں ہوا۔ حکومت نے وقت پر مناسب اقدامات اٹھائے ہیں جس سے فائدہ ہو رہاہے۔ گوادر بندرگاہ پر رش بڑھنا بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔ گوادر پورٹ پر ایک اور بحری جہاز ایم وی ریوا گلوری 11 ہزار 629 میٹرک ٹن کارگو لے کر پہنچ گیا۔ اس حوالے سے وزیر بحری امور محمد جنید انوار چودھری نے اعلان کرتے ہوئے بتایا کہ گوادر پورٹ پر تجارتی سرگرمیاں تیز ہو گئیں، جس سے عالمی شپنگ کمپنیوں کا اعتماد بحال ہونا شروع ہو گیا۔ جنید انوار چودھری نے کہا کہ پورٹ پر بڑھتی ہوئی سرگرمیاں اس کی سٹرٹیجک اہمیت کا واضح ثبوت ہیں، حکومت بندرگاہی نظام کو مزید مو¿ثر اور فعال بنانے کے لیے اقدامات کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ گوادر پورٹ پر کارگو جہازوں کی آمد میں اضافے سے بندرگاہ کی اہمیت مزید بڑھنے لگی ہے، سرمایہ کاروں اور شپنگ کمپنیوں کو گوادر پورٹ پر مکمل سہولیات فراہم کریں گے۔ وزیر بحری امور کا کہنا تھا کہ گوادر پورٹ خطے میں ٹرانزٹ اور ٹرانس شپمنٹ تجارت کا اہم مرکز بنتی جا رہی ہے، بندرگاہ کو عالمی معیار کا میرین گیٹ وے بنانے کے لیے پُرعزم ہیں۔ ان تمام حالات سے ثابت ہو رہا ہے کہ پاکستان کی سفارتی کاوشیں رنگ لا رہی ہیں اور موجودہ سیٹ اپ چیلنجز سے پوری طرح نمٹ رہا ہے۔

ٹیگز: