Wed, September 16, 2026

ایران ،امریکہ کشیدگی: صدر ٹرمپ کا 'کر یا مرو' کا الٹی میٹم، فیصلہ کن پریس کانفرنس کا اعلان

ایران ،امریکہ کشیدگی: صدر ٹرمپ کا 'کر یا مرو' کا الٹی میٹم، فیصلہ کن پریس کانفرنس کا اعلان

واشنگٹن: مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کے بادل گہرے ہو گئے ہیں۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف سخت ترین موقف اپناتے ہوئے منگل کی رات 8 بجے کی ڈیڈ لائن مقرر کر دی ہے، جس کے بعد ایران کے بنیادی ڈھانچے پر بڑے حملوں کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔
صدر ٹرمپ نے جہاں ایک طرف ایران کے ساتھ ایک نیا معاہدہ ہو جانے کی امید ظاہر کی ہے، وہیں دوسری طرف دھمکیوں کی انتہا کر دی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ "معاہدہ ہوا تو ٹھیک، ورنہ ایران کا سب کچھ مٹی میں ملا دیں گے"۔صدر ٹرمپ نے اپنے حالیہ بیان میں ایران کو دو ٹوک الفاظ میں تنبیہ کی ہے۔ ڈیڈ لائن گزرنے کی صورت میں ایران کے بجلی گھر اور اہم پل نشانہ ہوں گے۔
 ٹرمپ نے دھمکی دی ہے کہ امریکی افواج ایران کے تیل کے ذخائر کو اپنے قبضے میں لے لیں گی تاکہ ایران کی معاشی طاقت ختم کی جا سکے۔آج رات 10 بجے صدر ٹرمپ اپنی اعلیٰ فوجی قیادت کے ہمراہ قوم اور عالمی میڈیا کے سامنے آئیں گے۔ اس پریس کانفرنس کو انتہائی اہم قرار دیا جا رہا ہے کیونکہ اس میں ایران کے خلاف ممکنہ فوجی کارروائی کی منظوری یا مذاکرات میں ہونے والی پیش رفت سے پردہ اٹھایا جائے گا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ بیک چینل ڈپلومیسی اب بھی جاری ہے اور واشنگٹن ایران کے ردعمل کا منتظر ہے۔ صدر ٹرمپ آج کے دن کو ایران کے لیے "فیصلے کا دن" قرار دے چکے ہیں۔ دنیا بھر کی نظریں اب امریکی وقت کے مطابق رات 8 بجے کی ڈیڈ لائن پر جمی ہیں کہ آیا تہران جھکنے پر مجبور ہوگا یا خطہ ایک ہولناک جنگ کی لپیٹ میں آ جائے گا۔

ٹیگز: