Wed, September 16, 2026

 نئے صوبوں کا فیصلہ عوام کی مرضی سے ہوگا، محسن نقوی

 نئے صوبوں کا فیصلہ عوام کی مرضی سے ہوگا، محسن نقوی

لاہور: وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا ہے کہ نئے صوبوں اور انتظامی یونٹس کے قیام کا فیصلہ عوام کی مرضی سے ہونا چاہیے، کوئی ایک سیاسی جماعت یا اس کے نمائندے اس عمل کو نہیں روک سکتے۔ انہوں نے کہا کہ ریاستی نظام میں بہتری کے لیے ’’ری سیٹ‘‘ ضروری ہے، تاہم اس کا مطلب نظام کو توڑنا نہیں بلکہ اس کی خامیوں کو دور کرنا ہے۔

 قومی پالیسی مکالمہ سے خطاب کرتے ہوئے محسن نقوی نے کہا کہ ایک ماہ پانچ روز قبل نظام کو ری سیٹ کرنے سے متعلق ان کے بیان کو حکومت یا کسی سیاسی جماعت سے جوڑا گیا، حالانکہ ان کا اشارہ کسی سیاسی جماعت یا سیاسی بندوبست کی طرف نہیں تھا۔

 انہوں نے کہا کہ ہمیں 79 سال سے چلنے والے ملکی نظام کا جائزہ لینا ہوگا اور دیکھنا ہوگا کہ ہم کہاں کھڑے ہیں۔ اگر نظام مطلوبہ نتائج نہیں دے رہا تو اس کے مثبت اور منفی پہلوؤں کا جائزہ لے کر اصلاحات کرنا ہوں گی۔

 وفاقی وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ بڑھتی ہوئی آبادی کے باعث انتظامی ڈھانچے پر بھی نظرثانی کی ضرورت ہے۔ کیا ایک بیوروکریٹ کروڑوں افراد کی آبادی کے فیصلے اکیلے کرسکتا ہے؟ بحث اس بات پر ہونی چاہیے کہ ملک میں کتنے انتظامی یونٹس ہونے چاہئیں۔

 محسن نقوی نے کہا کہ اگر عوام نئے انتظامی یونٹس چاہتی ہے تو انہیں بننا چاہیے، اس معاملے کو عوام کی مرضی پر چھوڑ دینا چاہیے۔ نئے یونٹس بننے سے کسی کی شناخت تبدیل نہیں ہوگی اور نہ پنجابی، سندھی یا پشتون شناخت ختم ہوگی۔

 انہوں نے اسلام آباد کو صوبہ بنانے کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ وہ اسلام آباد کو صوبہ بنانے کے سب سے بڑے حامی ہیں۔ ان کے مطابق انتظامی فیصلے عوام کے قریب اور فیصلہ سازی کا عمل تیز ہونا چاہیے۔

 وزیر داخلہ نے کہا کہ نئے صوبوں کے معاملے پر جذباتی تقاریر کے بجائے سنجیدہ مکالمہ اور قومی اتفاق رائے ضروری ہے۔ حکومت اور اپوزیشن کو مل بیٹھ کر تمام تجاویز کا جائزہ لینا چاہیے اور جو فیصلہ عوام کی رائے سے ہو اسے تسلیم کیا جانا چاہیے۔

 محسن نقوی نے تعلیم، صحت، صاف پانی اور غذائیت کی صورتحال پر بھی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بنیادی سہولیات عوام کا حق ہیں۔ ملک میں ہر دس میں سے چار بچوں کو مناسب اور بنیادی غذا میسر نہیں جبکہ صرف 55 فیصد پاکستانیوں کو پینے کا صاف پانی دستیاب ہے۔

 انہوں نے کہا کہ عوام کا پیسہ عوام کی ضروریات پر خرچ ہونا چاہیے۔ اگر موجودہ نظام مطلوبہ نتائج نہیں دے رہا تو اسے بہتر بنانا ضروری ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ وہ اپنے عہدے پر رہیں یا نہ رہیں، آئین کے دائرے میں رہتے ہوئے نظام کی بہتری کی بات سے پیچھے نہیں ہٹیں گے۔

ٹیگز: