Wed, September 16, 2026

بے پناہ خاص دن

بے پناہ خاص دن


آج بے پناہ خاص دن ہے۔ آج کا دن پاکستان کی تاریخ میں ایک ایسا مبارک اتفاق ہے جو نہ آج سے پہلے کبھی رونما ہوا اور نہ آئندہ کبھی ہونے کا امکان ہے کہ آج ہم بہ یک وقت دو جشن منا رہے ہیں۔ ایک جشن ہے نبی آخرالزماں حضرت محمد مصطفیﷺ کی ولادت باسعادت کے پندرہ سو سال مکمل ہونے کا اور دوسرا جشن معرکہ حق میں کامیابی کے بعد پہلے یوم دفاع کا۔ یہ دونوں جشن ایک دوسرے کے ساتھ مربوط و منسلک ہیں کہ ہم جس عظیم ہستی کے پیروکار ہیں اسی کی تعلیم کردہ قوت ایمانی سے ہم نے معرکہ حق میں شاندار فتح حاصل کی۔ ایک ایسی فتح جس نے تاریخ کے دھارے کا رخ موڑ دیا ہے۔ معرکہ حق میں نہ صرف پاکستان فتح یاب ہوا بلکہ عالم اسلام کو بھی ایک نیا حوصلہ ملا جبکہ اسلام مخالف قوتوں میں خوف اور تشویش کی لہر دوڑ گئی۔ اس عظیم فتح کے پیچھے صرف اور صرف وہ جذبہ کارفرما تھا جس کی بدولت اصحاب باصفا نے بدر و حنین جیسے معرکے سر کیے، اہل بیت اطہار نے کربلا جیسی عظیم الشان داستان رقم کی اور مسلمانوں کی فتوحات کا ایک سلسلہ تاریخ کے اوراق کا حصہ بنا۔ ہم سب بہت خوش قسمت ہیں کہ اس مبارک دن کا مشاہدہ کرنے کے لیے زندہ ہیں کہ ایسے اتفاقات نصیب والوں ہی کا حصہ بنتے ہیں۔
بے شک محمد الرسول اللہﷺ خدا کے بعد اس کائنات کی سب سے بزرگ ہستی ہیں۔ وہ ہستی جس نے ہم سے سچے خدا کا تعارف کرایا۔ اس خدا کا مقدس پیغام اسی کے پاک کلام کی صورت میں ہم تک پہنچایا۔ اپنی حیات طیبہ کو اس کلام کا عملی نمونہ بنا کر دکھایا۔ ایسا نمونہ جس کے بارے میں خود اس کتاب نے کہا کہ اس کی پیروی کرو کہ یہی بہترین ہے۔ اس ہستی نے ہمیں بتایا کہ خدا سے اپنے تعلق کو کس طرح استوار کرنا ہے، کیسے اس کے احکام کو بجا لانا ہے کیونکر اس کی بڑائی کا اعتراف کرنا ہے۔
کامیاب زندگی کے لیے ہر مسلمان کا ایک ایک لمحہ آقائے دو جہاں حضرت محمد مصطفیﷺ کی پیروی اور اتباع میں گزرنا چاہیے کہ اطاعت رسول ہی اطاعت الٰہی کے راستے کا پہلا زینہ ہے لیکن آج کا خاص الخاص دن ہم سے تقاضا کرتا ہے کہ ہم سب اپنے اپنے گریبانوں میں جھانکیں اور اس سوال کا جواب تلاش کریں کہ کیا ہم اپنے عظیم رہبر و رہنما کی پیروی کا حق ادا کر رہے ہیں۔ ان کے آفاقی پیغام کو سمجھ رہے ہیں۔ اللہ کی جو کتاب وہ لائے ہم نے اس کتاب کو اپنی زندگیوں پر کتنا لاگو کیا ہے۔ کیا ہم اس کے اصل پیغام کو سمجھ پائے یا اپنی سہولت کے لیے اپنی اپنی مرضی کے مطالب نکال لیے۔
وہ کتاب جو کسی پہاڑ پر نازل ہوتی تو اسے ریزہ ریزہ کر دیتی کیا اسے پڑھتے ہوئے کبھی ہم پر بھی ویسا لرزہ طاری ہوا جیسا حبیب خدا صلی اللہ علیہ والہ وسلم پر طاری ہو جاتا تھا۔ کیا ہمارے دلوں کے پتھر کبھی اپنی جگہ سے سرکے۔ پیارے آقا تو خشیت الٰہی سے راتوں کو جاگتے اور اپنی امت کی بخشش اور نجات مانگتے رہے۔ ہم میں سے کتنے ہیں جو ان کی اتباع میں ایسا کرتے ہیں۔ ہم عشق کے دعوے دار تو ہیں لیکن راتوں کو جاگنا تو درکنار ہم تو وہ پانچ نمازیں بھی ادا نہیں کرتے جو ہم پر فرض کی گئی ہیں۔ قرآن کو کھول کر اس کی آیتوں پر غور نہیں کرتے بلکہ اسے جزدانوں میں بند کر کے گھر کی سب سے اونچی جگہ پر رکھ دیتے ہیں اور سال بھر اسے بھولے رہتے ہیں۔ ہم نے کبھی غور ہی نہیں کیا کہ یہ عظیم کتاب ہمیں کیا کیا سکھاتی ہے۔
خدا نے اپنی پاک کتاب میں جا بجا اپنی بڑائی بیان کی اور اس کے حبیب نے وہ بڑائی من و عن ہم تاک پہنچائی تاکہ ہم ٹھیک سے جان لیں کہ خدا کتنا بڑا اور طاقتور ہے۔ سورہ فاتحہ میں خدا کی تعریف ہو یا آیت الکرسی میں خدا کے اختیار کا تذکرہ، سورہ مومنون میں خدا کے نور کی تمثیل ہو یا سورہ رحمان میں اس کی نعمتوں کی تفصیل، سورہ حشر میں کلام الٰہی کی طاقت اور خدا کی صفات کا بیان ہو یا سورہ اخلاص میں خدا کی وحدانیت کا احاطہ، قرآن کریم کی آیات بینات کے ذریعے ہم سے خدا کا مکمل تعارف کرایا گیا۔ یہ تعارف کرانے کا مقصد اپنے غضب سے ڈرا کر اور آخرت کی زندگی کے انعامات کا وعدہ کر کے بنی نوع انسان کو رسول اکرم کے اسوہ حسنہ پر عمل کرنے کی طرف راغب کرنا تھا تاکہ ہم اپنی تخلیق کے مقصد کو پورا کریں اور اشرف المخلوقات بن کر ایک اچھا معاشرہ تشکیل دیں اور اس کے سامنے سرخرو ہوں ورنہ اس نے تو اپنی کتاب مبین میں کہہ دیا ہے کہ وہ بے نیاز ہے، اسے اس بات کی کوئی پروا نہیں کہ کوئی اس کا حکم مانتا ہے یا نہیں مانتا۔ اس نے واضح کر دیا کہ حکم ماننے والا فائدے میں رہے گا اور نہ ماننے والا نقصان میں اور ہر کوئی اپنے نفع نقصان کا خود ذمہ دار ہے۔
آج پندرہ سو سالہ جشن میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم پر ہمیشہ سے زیادہ اس بات کی ضرورت ہے کہ ہم اپنے پیارے آقا حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے اسوہ حسنہ پر پوری طرح عمل پیرا ہو جائیں جو کہ سراسر قرآن ہے۔ معرکہ حق کے تناظر میں یہ ضرورت اور بھی زیادہ بڑھ جاتی ہے کہ ہمارا ایمان ہی ہماری اصل قوت ہے جو ہمیں آخرت ہی میں سرخرو نہیں کرے گا بلکہ اس دنیا میں بھی ہماری ڈھال اور ہمارا ہتھیار ہے۔
ہمارے عشق کے زبانی دعوے اور نمائشی اقدامات کے ذریعے اس کا اظہار ہماری اپنی تسکین کا باعث تو ہو سکتا ہے لیکن خدا اور رسول کی بارگاہ میں شاید شرف باریابی حاصل نہ کر سکے۔ خدا اور رسول کو راضی کرنے کے لیے ضروری ہے کہ ہم اس اعلیٰ ترین مثال کی پیروی کریں جس کے بارے میں اقبال نے کہا تھا ”لوح بھی تو قلم بھی تو تیرا وجود الکتاب“۔

ٹیگز: