شنگھائی تعاون تنظیم اجلاس ایسے وقت میں ہوا ہے جب دنیا کی بڑی طاقتیں سیاسی اور معاشی بالا دستی حاصل کرنے کے خبط میں مبتلا ہیں۔ وہاں موجود سربراہانِ مملکت یہ باور کرا رہے تھے کہ اب دنیا میں طاقت کے مراکز بدل رہے ہیں، امریکہ اور مغرب کی بالادستی کا زمانہ اب زیادہ دیر تک جاری رہنے والا نہیں اور آنے والے دور میں عالمی سیاست و اقتصادیات کی قیادت کرنے کے لئے جنوب کے ممالک بھی سنجیدہ امیدوار ہیں۔ ساری دنیا کی نظریں اس کانفرنس کے اعلامیہ پر مرکوز تھیں۔ بالکل ہوا بھی عین امیدوں کے مطابق، متفقہ اعلامیہ دنیا کے لئے ایک مؤثر اور معنی خیز پیغام ہے۔ اس وقت دنیا کو یہ چیلنج درپیش ہے کہ اس نئی صورتحال میں کس نوعیت کے اقدامات انسانوں کی فلاح و بہبود کا باعث بن سکتے ہیں۔ کیا ماضی کی مانند جس کی لاٹھی اس کی بھینس کا رویہ امن و سلامتی کا ذریعہ بن سکتا ہے یا اجتماعی سلامتی جو مساوات کے اصولوں پر مبنی ہو سے دنیا کے مستقبل کو سنوارا جا سکتا ہے۔ ایس سی او اعلامیے میں دہشت گردی کے حوالے سے پاکستان کے مؤقف کی تائید پاکستان کی یقیناً بڑی کامیابی ہے۔ پہلگام، جعفر ایکسپریس اور خضدار حملوں کی سخت مذمت کی گئی جو کہ پاکستان کا شروع سے ہی مؤقف تھا کہ اگر ممالک پراکسیز کے ذریعے دہشت گردی کی وارداتوں کی سرپرستی کرتے رہیں گے تو اس سے دنیا میں دہشت گردی ختم نہیں ہو گی بلکہ اس میں اضافہ ہو گا اور یہ صورتحال کسی طور بھی کسی ملک کے لئے بہتر نہیں ہو گی۔ پاکستان ایک عرصے سے خود دہشت گردی کا شکار ہے اور اس میں کوئی دو رائے نہیں ہے کہ دہشت گردی میں انڈیا کا کلیدی کردار ہے مگر اس سب کے باوجود انڈیا دنیا بھر میں پاکستان کے خلاف ہر وقت دہشت گردی کا پروپیگنڈا کرتا پھرتا ہے۔ پاکستان جس عفریت سے نبرد آزماہے، اس کے شہری جن عذابوں سے گزر رہے ہیں۔ اپنے پیاروں کے ساتھ ساتھ جانی و مالی نقصان سے دوچار ہے، ساری دنیا کو اس حوالے سے سوچنا چاہیے اور آگے آ کر اس کی مدد کرنی چاہیے۔
پاکستان وہ ملک ہے جس نے دہشت گردی کی جنگ میں فرنٹ سے لیڈ کرتے ہوئے بہت سے مسائل کا سامنا کیا ہے اور اس وجہ سے آج ہماری معیشت زبوں حالی کا شکار ہے۔ پاکستان کی معیشت کو 152 ارب ڈالر اور 90000 انسانی جانوں کا زیاں برداشت کرنا پڑا۔ اب جب کہ دنیا میں دہشت گردی میں کمی آ چکی ہے لیکن پاکستان کو اسی صورتحال کا سامنا ہے۔ انڈیا ایک طویل عرصے سے بین الاقوامی برادری کو یہ باور کرانے کی کوشش کر رہا ہے کہ پاکستان کی جانب سے اس کو مستقل طور پر دہشت گردی کا سامنا ہے اور اس مؤقف سے اس نے فائدہ بھی بہت اٹھایا ہے بلکہ اس آڑ میں اس کی طرف سے کشمیر میں جاری انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں سے دنیا کی توجہ ہٹانے میں
کامیاب رہا۔ وزیرِ اعظم شہباز شریف نے دہشت گردی، علیحدگی پسندی اور انتہا پسندی کو پورے خطے کے لیے سنگین خطرہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان دہشت گردی کی ہر شکل اور ہر صورت کی مذمت کرتا ہے، دنیا سیاسی مفادات کے لیے دہشت گردی کو بطور ہتھیار استعمال کرنے والے ممالک کے جھوٹے بیانیے کو تسلیم نہیں کرتی، بلوچستان و خیبر پختونخوا میں دہشت گرد حملوں میں بیرونی ہاتھ ملوث ہونے کے ثبوت موجود ہیں۔ بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں دہشت گرد حملوں کے پسِ پردہ بیرونی ہاتھ کو عالمی فورم پر سامنے لانا پاکستان کی سفارت کاری کے لیے ایک مضبوط قدم ہے۔ یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ اب پاکستان اپنے مسائل صرف داخلی بیانیے تک محدود نہیں رکھنا چاہتا بلکہ عالمی برادری کو بھی اس میں شریک کر رہا ہے تا کہ دنیا دیکھے کہ دہشت گردی کے اس کھیل کا اصل محرک کون ہے۔
شنگھائی تعاون تنظیم کے رکن ممالک نے اس بات پر زور دیا ہے کہ دہشت گردی کے تمام پہلوؤں کا مؤثر انداز میں مقابلہ کیا جائے اور اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعلقہ قرار دادوں، عالمی انسدادِ دہشت گردی کی حکمتِ عملی اور اقوامِ متحدہ کے اصولوں کے مطابق تمام دہشت گرد تنظیموں کے خلاف مشترکہ اور مؤثر کارروائی کی جائے۔ دنیا تیزی سے بدل رہی ہے۔ طاقت کا توازن محض عسکری صلاحیتوں سے نہیں بلکہ معیشت، تجارت، ٹیکنالوجی اور سفارتکاری سے طے ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج کی دنیا جارحیت اور محاذ آرائی سے زیادہ تعاون، شراکت داری اور معاشی استحکام کی متقاضی ہے۔ کوئی بھی ملک تنہا ترقی کی منازل طے نہیں کر سکتا حتیٰ کہ بڑی طاقتیں بھی عالمی معیشت کے دھارے سے الگ ہو کر اپنا وجود برقرار نہیں رکھ سکتیں۔
یہ بات تاریخ کا حصہ ہے کہ گزشتہ صدی کے آخری عشرے کے دوران سوویت یونین کی افغانستان سے پسپائی کے بعد پاکستان کی خواہش کے برعکس امریکہ نے اس جنگ میں افغانستان پر سوویت قبضے کو ناکام بنانے کی کوششوں میں حصہ لینے والے مجاہدین کے گروپوں کو ان کے حال پر چھوڑ دیا تھا جس کا نتیجہ وہاں طویل خانہ جنگی اور ایک بڑی تباہ حالی کی شکل میں سامنے آیا۔ یہ بھی سبھی کے علم میں ہے کہ اسی خانہ جنگی کے دوران طالبان کو آگے آنے کا موقع ملا اور پھر انتہا پسند اور دہشت گرد قوتوں نے ان کو یر غمال بنا لیا۔ جس سے پاکستان کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ اب ایک بار پھر نیٹو فورسز ایک دم سے افغانستان سے نکل گئیں جس سے ماضی جیسی صورتحال ایک بار پھر پیدا ہو گئی۔ آج بھارت کی مدد سے تحریکِ طالبان پاکستان کے لوگ پاکستان میں دہشت گردی وارداتیں کر رہے ہیں۔ یہ بات کسی صورت نظر انداز نہیں کی جا سکتی کہ امریکہ اور اس کے اتحادیوں نے یہاں دہشت گردی کے خلاف جو مہم شروع کی پاکستان اگر اس میں سرگرم کردار ادا نہ کرتا، اپنی سرزمین کسی دوسرے ملک کے خلاف استعمال ہونے کی یقین دہانی نہ کراتا اور اس مہم میں فرنٹ لائن سٹیٹ کا کردار ادا کرنے کے علاوہ نیٹو فورسز کو لاجسٹک سپورٹ مہیا نہ کرتا تو اب تک دہشت گردی کے خلاف جو کامیابیاں حاصل ہوئی ہیں وہ ممکن نہ ہو سکتیں۔ ایس سی او اعلامیے سے ظاہر ہوتا ہے کہ اگر دنیا سے دہشت گردی کو ختم کرنا ہے تو اس کے لیے ناانصافی کے خاتمے کے ساتھ یہ بھی ضروری ہے کہ غربت کا خاتمہ کیا جائے۔ دہشت گردی میں غربت کا عنصر شامل ہے، لہٰذا دہشت گردی کے خاتمے کے لیے غربت کا خاتمہ ناگزیر ہے۔ ترقی پذیر ملکوں کی اقتصادی و معاشی، زرعی ٹیکنالوجی اور دیگر پالیسیاں ایسی ہیں جن کی وجہ سے دن بہ دن غربت میں اضافہ ہی ہوتا جا رہا ہے۔ اگر امیر ممالک واقعتاً غربت اور دہشت گردی کا خاتمہ چاہتے ہیں تو پھر انہیں چند کام کرنا ہوں گے۔ ترقی پذیر اور تیسری دنیا کے مطالبات بھی یہی ہیں کہ وہ عالمی منڈی تک ان کی پہنچ میں اگر رعایت نہیں دے سکتیں تو کم از کم رکاوٹ بھی نہ ڈالیں۔ بلاشبہ شنگھائی تنظیم تنازعات و دہشت گردی کے خاتمے اور عالمی امن و ترقی کے عمل میں کلیدی کردار انجام دے سکتی ہے۔