خالق ارض سماء کے نزدیک مساجد کعبۃ اللہ کی بیٹیاں اور دین اسلام کا قلعہ ہیں نبیؐ آخرالزمان نے آزاد ماحول میسر آتے ہی سب سے پہلا جو عملی قدم اٹھایا وہ قباء میں مسجد کا قیام ہی تھا اس لیے مسجد کا امام میرے نزدیک’’ قلعہ دار‘‘ ہے جو دین اسلام کے تحفظ کے ساتھ احکامات الہٰی اور ارشادات رسولؐ سے آگاہی کی روشنی پھیلا کرخوشنودی رب جلیل کی راہ دکھاتا ہے۔ اس حوالے سے امام مسجد کو معاشرہ کا سب سے معزز اور سب سے زیادہ اہم ترین فرد ہونا چاہئے۔ شہروں اور بالخصوص دیہات میں جائزہ لیا جائے کیا اسلامی جمہوریہ کی شناخت رکھنے والے پاکستان میں ایسا ہے نہات درجہ افسوس کے ساتھ اکثر صورتوں میں ایسا نہیں ہے۔ میری گناہگار نظروں نے پنجاب اور سندھ کے دیہات مساجد کے اماموں کی بے قدری کے دالخراش مناظر دیکھے ہیں۔ بندھے ہوئے گھر سے کوئی روٹی لے کر نہ آئے تو امام خود بھکاری کی طرح اس درسے روٹی لے کر آتا ہے۔ ایسی مساجد میں امام خود ہی مؤذن اور خود ہی مسجد کا خادم ہوتا ہے یعنی روزانہ بلکہ دن میں دوتین مرتبہ صفائی اور وضو کیلئے پانی کا خیال رکھنا اور بعض دیہات میں تو وضوکی ٹونٹیوں کیلئے ہینڈ پمپ سے بالٹیاں بھرکر ٹینکی میں ڈالنا ساری سماجی سرگرمیاں میل جول ختم، پانچوں وقت نماز کیلئے اور بچوں کو قرآن حکیم اور سپارے پڑھانے کیلئے حاضر رہنا پڑتا ہے اور اس سب کا صلہ چند ہزارروپے وہ بھی چندہ جمع کرکے، گاؤں کا جو شخص چندے میں چند ٹکے دوسروں سے زیادہ دے امام کو بڑی ممونیت سے اسے سلام کرتے دیکھا ہے۔
ہوسکتا ہے بڑے شہروں کی بڑی مساجد میں صورتحال مختلف ہو، مثلاًلاہور میں جامعہ اشرفیہ، جامع مدنیہ راوی روڈ، جامعہ نعیمیہ اور دیگر کراچی میں جامع بنوری ٹاؤن، جامعہ الرشیدیہ ، جامعہ باب رحمت گلشن حدید اور دیگر میں آئمہ کرام اور مدرس حضرات کو معقول مشاہرہ ملتا ہوتا ہم گلی محلوں میں واقع مساجد کے معاملات کہیں بہتر اورکہیں دیہات جیسی صورت ہی ہے۔ دین اسلام میں یہ بہت بڑی سہولت ہے جس شخص کودوتین چھوٹی سورتیں یاد ہیں یا صرف چھ آیات ہی ازبر ہیں وہ باجماعت نماز کی امامت کرسکتا ہے لیکن باقاعدہ امام کے لیے حافظ قرآن اور قاری ہونا ضروری ہے ہرمسجد میں چندہ دینے والوں پر مشتمل کمیٹی بن جاتی ہے جس کے بیشتر ارکان جو الحمد للہ کا مطلب بھی نہیں سمجھ سکتے وہ تقرر کیلئے امام سے قرآن حکیم کی تلاوت سنتے ہیں اسی طرح امام کو کوئی تحفظ حاصل نہیں ہوتا کمیٹی کے ارکان جس وقت چاہیں برطرف کرکے نیا امام مقرر کرسکتے ہیں آنکھوں میں کرچیاں بن کر چبھنے والا یہ منظر خود دیکھا ہے کہ اپنی مدت امامت کیلئے امام فضول قسم کے ارکان کمیٹی کی خوشامد کررہے ہیں یقیناً ہرمسجد میں ایسا نہیں ہے سوال پیدا ہوتا ہے کلمہ کے نام پر بننے والے ملک کی کسی ایک مسجد میں بھی ایسا کیوں ہو۔
وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے خود اعتراف کیا ہے کہ پچیس ہزار روپے ماہانہ امام صاحب کیلئے مناسب رقم نہیں ہے اور اس میں مزید اضافہ کی نیت کا بھی اظہار کیا ہے لیکن تمام تر حالات سے آگاہی کے باعث میں پوری دیانت داری سے سمجھتا ہوں کہ یہ پچیس ہزار روپے کی قلیل رقم بھی یقینی طور پر دیہات میں واقع مساجد کے امام حضرات کی کافی حدتک معاشی آزادی کا ذریعہ بن سکتی ہے انہیں ہرماہ مسجد کمیٹی کے ارکان کی طرف دیکھنے کی بجائے بینک سے رقم لے کر گھریلو اخراجات کسی نہ کسی حدتک پورا کرنے کی باوقار سہولت میسر آجائے گی۔ ہوسکتا ہے ایسا نہ ہو مگر میرا گمان یہی ہے کہ بہت سے لوگوں کو علم ہی نہیں کہ امام مسجد بننے کے تقاضے کیا ہیں پہلی شرط ان کا حافظ قرآن ہونا ہے کم ازکم تین سال میں حفظ ہوتا ہے دوسری شرط قاری ہونا شعبہ قرأت میں دوسال لگانے پڑتے ہیں پانچ سال کی ذہنی مشقت خطیب اور مدرس بھی ہوتو آٹھ سال درس نظامی کاکورس کرنا پڑتا ہے اس منصب تک پہنچنے کیلئے کم ازکم تیرہ سال کا تعلیمی سفر طے کرنا پڑتا ہے ۔ جنرل ضیاالحق کے دور میں کسی اسلامی جامعہ سے تیرہ سالہ تعلیمی استعداد کے حوالے سے ملنے والی ڈگری کو ایم اے کے مساوی قرار دے کر لائق تحسین اقدام کیا گیا تھا بہت سی مساجد کے خطیب ایم فل اور پی ایچ ڈی بھی ہیں۔
وزیراعلیٰ مریم نواز کے اس قابل تعریف عمل کی سیاسی بغض و عناد رکھنے والوں نے مخالفت کی تو یہ غیر متوقع نہیں ہے کیونکہ مریم نے جوکچھ بھی کرنا ہے انہیں اس میں کیڑے ہی نظر آئیں گے ان میں سے بعض نے یہ بے ہودہ پروپیگنڈہ بھی کیا کہ پچیس ہزار روپے دے کر مولویوں کا منہ بند کرنے کی کوشش کی ہے تاکہ قادیانیوں کے حق میں قانون سازی کی مخالفت نہ ہوسکے۔ لیکن یہ نادان نہیں جانتے کہ اللہ سبحانہ تعالیٰ نے جس کے سینے کو قرآن حکیم محفوظ کرنے کا اعزاز بخش دیا وہ حرمت رسول پر جان تو قربان کرسکتا ہے پچیس کروڑ کیا پچیس ارب روپے لے کر بھی ختم نبوت کے منافی کسی قانون سازی کا حصہ نہیں بن سکتا۔
مریم نواز تو کیا شریف خاندان کا کوئی بچہ بھی اس کا تصور نہیں کرسکتا بیگم کلثوم نواز کی سیاسی جدوجہد کے دوران چوبیس میں سے سولہ سے اٹھارہ گھنٹے ان کے ساتھ گزارے بے پناہ مصروفیت کے باوجود ان کی کوئی نماز قضاء ہوئی نہ تسبیحات اور تلاوت قرآن حکیم میں تعطل آیا اسی طرح میاں شریف مرحوم سے چھوٹے بچوں تک کو نماز کی پابندی کرتے دیکھا ہے قادیانیت کے حوالے سے ان کے جذبات کیا ہیں۔ اس حقیقت کا اندازہ اس واقع سے لگایا جاسکتا کہ بیگم کلثوم نواز ہر اتوار کو مجلس پاکستان کے نام سے ماڈل ٹاؤن میں خطاب کیا کرتی تھیں ایک طویل خطاب انہوں نے قادیانیوں کی دین اسلام اور پاکستان کے خلاف سازشوں اور ریشہ دوانیوں کے حوالے سے کیا، ایک روز میںنے دوکتابیں شیزان بیکری کے شاپر میں رکھی ہوئی تھیں کیپٹن صفدر کی نظر پڑی میرے ہاتھ سے شاپر چھین کر کتابیں نکالیں اور شاپر ڈسٹ بن میں پھینک دیا اور کہا ’’بخاری صاحب آپ بھی یہ استعمال کررہے ہیں ‘‘ یادرہے شیزان بیکری کی شہرت تھی کہ یہ قادیانیوں کی ملکیت ہے ایسی سوچ اور عمل رکھنے والوں سے یہ توقع وہ قادیانیت نوازی کے مرتکب ہوسکتے ہیں بڑی زیادتی ہے مجھے رب کریم سے یقینی امید ہے دین اسلام کے قلعہ داروں کی بھلائی سوچ کر مریم نواز نے جنت کمالی ہے۔