آج سے ٹھیک 29برس قبل 5نومبر 1996ء بروز سوموار اسلامی جمہوریہ پاکستان کے صدر فاروق احمد خان لغاری نے آئین کے آرٹیکل 58(2)B کا استعمال کرتے ہوئے اسمبلیاں تحلیل اور بے نظیر بھٹو کی حکومت کو برطرف کر دیاتھا۔یہ ان دنوں کی بات ہے جب اسلام آباد نومبر میں کافی خنک اور سرد ہو جایا کرتا تھا لیکن اقتدار کے ایوانوں میں پنپتی محلاتی سازشوں اور گرما گرم بحث مباحثوں نے سیاسی درجہ حرارت بہت بڑھا دیا تھا۔ اسے اقتدار کا کھیل کہیے یا بدقسمتی کہ بے نظیر بھٹو کے دوسرے دورِ اقتدار کے خاتمے میں سیاسی مخالفین سے زیادہ اپنوںنے کردار ادا کیاتھا۔ اس وقت اپوزیشن نے صورتحال کا فائدہ تو اٹھایا لیکن دن بہ دن کمزور ہوتی بے نظیر بھٹو کی حکومت کو گرتی ہوئی دیوار سمجھ کر دھکا نہیں دیا بلکہ اپنوں کی مہربانی سے بے نظیر حکومت اپنی ہی جماعت کے بوجھ تلے دب گئی۔ 5نومبر1996ء کو پاکستان پیپلز پارٹی کی چیئرپرسن محترمہ بے نظیر بھٹو کے اڑھائی سالہ دور حکومت کا خاتمہ ہوااور ملک معراج خالد کو نگران وزیراعظم مقرر کیا گیا۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ 5 نومبر کو امریکہ میں صدارتی انتخابات کیلئے ووٹ ڈالے جارہے تھے‘ ایسے میں بے نظیر بھٹو کی ایوان اقتدار سے رخصتی کی خبر نے ہلچل مچادی۔سردار فاروق احمد خان لغاری کی جانب سے اس تاریخ اور وقت کے انتخاب میں شاید یہ عنصر بھی کارفرما تھا کہ دنیا بھر کے جمہوری اور ابلاغی اداروں کی نظریں امریکی انتخابات پر لگی ہوں گی اور اس جانب عالمی میڈیا کی نظر کم ہی پڑے گی ۔
اُس روز بے نظیر بھٹو کی حکومت برطرفی ہماری سیاست کا ایسا نوحہ ہے جو آج تک کسی نہ کسی شکل میں پڑھا جا رہا ہے۔ اس برطرفی کے پس منظر کی بات کریں تو اگرچہ اُس وقت پے در پے پیش آنے والے واقعات سے سیاسی حالات کے نبض شناس تجزیہ کاروں کو کسی ڈرامائی تبدیلی کے آثار نمایاں ہوتے ہوئے محسوس ہو رہے تھے مگر عوام کی غالب اکثریت کے لیے اسمبلیوں کی رخصتی کی خبر دھماکے سے کم نہ تھی۔ اس کی وجہ یہ نہیں تھی کہ چھ برس میں یہ تیسری حکومت تھی جو آئین کی دفعہ 58 ٹو بی کا نشانہ بنی تھی بلکہ اس فیصلے میں حیرت کا پہلو صدر فاروق لغاری کے ہاتھوں اپنی پارٹی اور قائد کی حکومت کا خاتمہ تھا۔
محترمہ بے نظیر بھٹو 6اکتوبر1993ء کو ہونیوالے عام انتخابات میں کامیابی حاصل کر کے دوسری بار وزیراعظم بنی تھیں۔ سردار فاروق احمد خان لغاری کا تعلق بھی پیپلز پارٹی سے ہی تھا اور وہ 14نومبر 1996ء کو صدرِ پاکستان منتخب ہوئے تھے ۔ بے نظیر بھٹو ان کو ’’فاروق بھائی‘‘ کہتی تھیں۔ قیوم نظامی نے تو یہاں تک لکھا ’’ مجھے یاد ہے جس دن فاروق لغاری نے صدارت کا حلف اٹھایا بے نظیر بھٹو نے اس قدر خوشی کا اظہار کیا کہ پہلے کبھی ان کو اتنا خوش نہیں دیکھا گیا تھا۔‘‘ بے نظیر بھٹو کے فاروق لغاری پر اعتماد کا یہ عالم تھا کہ ان کی حکومت برطرف کرنے سے قبل معروف صحافی عارف نظامی مرحوم نے یہ خبر شائع کی کہ فاروق لغاری اپنی ہی جماعت کی سربراہ بے نظیر بھٹو کی حکومت برطرف کرکے اسمبلیاں تحلیل کرنے جارہے ہیں۔ جب یہ خبر بے نظیر بھٹو کے سامنے آئی تو بے نظیر بھٹو کے منہ سے یہ برجستہ جملہ نکلا کہ ’’فاروق بھائی ایسا نہیں کرسکتے‘‘یہ خبر جھوٹی ہے۔ لیکن ایسا ہی ہوا۔محترمہ بے نظیر بھٹو کے دوسرے دور ِحکومت کے آخری دنوں میں جماعت اسلامی کے امیر قاضی حسین احمد احتجاجی تحریک کے سرخیل تھے ، انہوںنے حکومت کے خاتمے کے لیے لانگ مارچ اور اسلام آباد میں دھرنے کا اعلان کیا۔ ان کے احتجاج کا پہلا مرحلہ جون 1996 ء میں راولپنڈی سے اسلام آباد میں داخل ہونے کی کوشش کی صورت میں تھا۔ اس وجہ سے مری روڈ تصادم کا مرکز بنا اور کافی ہنگامہ آرائی ہوئی جس میں قیمتی جانیں بھی گئیں۔ اسی سال 27 اکتوبر کو انہوں نے ایک بار پھر اسلام آباد میں دھرنا دینے کا پروگرام بنایا۔ اس روز اسلام آباد اور راولپنڈی میں بدترین فسادات ہوئے۔ اگلے روز مظاہرین پولیس کا گھیرا توڑ تے ہوئے پارلیمنٹ ہاؤس کے سامنے پہنچنے میں کامیاب ہو گئے۔ حکومت اور اپوزیشن کی اسی آنکھ مچولی کے دوران بے نظیر حکومت کا خاتمہ ہو گیا۔
فاروق احمد خان لغاری نے حکومت پردوسرے الزامات کے علاوہ بے نظیر بھٹو کے حکم پر ججوں، سیاسی رہنماؤں اور فوجی و سول حکام کے ٹیلیفون کو انٹیلی جنس بیورو کے ذریعے غیر آئینی طریقے سے ٹیپ کرنے کا الزام لگایا تھا۔ بے نظیر بھٹو نے ان الزامات کو رد کرتے ہوئے خود فون ٹیپنگ کا شکار ہونے کا دعویٰ کیا تھا۔ بے نظیر بھٹو نے اپنی حکومت کی برطرفی کو عدالت میں چیلنج کیا۔ 29 جنوری 1997 ء کو سنائے گئے فیصلے میںسپریم کورٹ کے سات رکنی بینچ کے چھ ججوں نے صدر فاروق احمد خان لغاری کے ہاتھوں پانچ نومبر 1996 ء کو سابق وزیراعظم بے نظیر بھٹو کی بحیثیت چیف ایگزیکٹیو برطرفی اور وفاقی کابینہ اور قومی اسمبلی کی تحلیل کو درست قرار دیا تھاجبکہ ایک رکن نے قومی اسمبلی، وزیراعظم (درخواست گزار) اور ان کی کابینہ کی بحالی کی حمایت کی ۔اس فیصلہ کے بعد پٹیشنرز بے نظیر بھٹو اور یوسف رضا گیلانی نے نظر ثانی کی درخواست دائر کی، جو عدالت عظمیٰ میں زیر سماعت مقدمات کی زیادتی (بیک لاگ) کے باعث 28 سال تک سنی ہی نہیں جا سکی تھی اور اب گزشتہ برس اس کیس کی سماعت ہوئی تھی۔
5نومبر 1996ء کی اس حکومتی برطرفی اور اس کے پس منظر کو بیان کرنے کا مقصد یہ ہے کہ ہماری سیاست آج بھی روایتی ڈگر پر چل رہی ہے اور سیاست کا یہ نوحہ ایسے سیاسی اخلاقیات کو ظاہر کرتا ہے جہاں اقتدار کی ہوس، ذاتی مفادات اور جھگڑے عوامی مسائل پر حاوی ہو جاتے ہیں۔ یہ نوحہ ان سیاسی رویوں پر روتا ہے جو انتقام، دھاندلی، اقربا پروری اور مفاد پرستی پر مبنی ہیں، جو جمہوریت کے بنیادی اصولوں کی نفی کرتے ہیں۔جمہوریت میں تو ہر کام عوام کی فلاح کیلئے کیا جاتا ہے۔ یہ نوحہ اس سیاست کے لیے ہے جو لوگوں کی خدمت کرنے کی بجائے انہیں تقسیم کرتی ہے، جھگڑوں اور انتشار کو ہوا دیتی ہے، اور ایسی صورتحال پیدا کرتی ہے جس میں عوام کا نقصان ہوتا ہے۔سیاست کا یہ نوحہ ایک ایسی صورتحال کا ماتم ہے جب سیاست اپنے اصلی مقاصد سے ہٹ جاتی ہے اور بدعنوانی، انتشار اور ذاتی مفادات پر مبنی ہو جاتی ہے، جس کی وجہ سے عوام کی زندگیوں پر منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ ایسی سیاست کی اصلاح کی ضرورت ہے۔