Wed, September 16, 2026

غیروں پر کرم، اپنوں پر ستم!

غیروں پر کرم، اپنوں پر ستم!

پاکستانی معاشرے کے بارے میں عمومی تاثر یہ ہے کہ ہم ایک کھلے دل کے، مہمان نواز اور دوسروں کے لیے آسانیاں پیدا کرنے والے لوگ ہیں۔ یہ خوبی صرف عام افراد تک محدود نہیں بلکہ ہماری حکومتی پالیسیوں میں بھی کسی حد تک جھلکتی ہے۔ غیر ملکی سرمایہ کاروں کے لیے سہولیات، ہمسایہ ممالک کے ساتھ تعاون اور عالمی سطح پر مثبت کردار ادا کرنے کی کوششیں اسی رویے کا حصہ ہیں۔ بظاہر یہ سب خوش آئند ہے، لیکن اگر اس تصویر کو ذرا قریب سے دیکھا جائے تو ایک اہم سوال سر اٹھاتا ہے۔ کیا نظام میں یہی کشادہ دلی اپنے لوگوں کے لیے بھی موجود ہے؟۔
حالیہ دنوں میں گوادر فری زون میں کام کرنے والی ایک چینی کمپنی ہین جنگ کی خبر نے اس سوال کو مزید نمایاں کر دیا۔ کمپنی نے اچانک اعلان کیا کہ وہ اپنی سرگرمیاں بند کر رہی ہے اور پاکستان و چین میں اپنے ملازمین کو فارغ کر رہی ہے۔ وجہ یہ بتائی گئی کہ کمپنی کا منصوبہ تمام بین الاقوامی معیار پر پورا اترنے کے باوجود پاکستانی حکام سے ضروری منظوری حاصل نہ کر سکا، جس کے باعث اس کی برآمدات رکی رہیں۔ کمپنی کا کہنا تھا کہ اس کے منصوبے نے چین کے کسٹمز اور عالمی خوراکی تحفظ کے تقاضوں کو پورا کیا، لیکن پاکستان میں عملدرآمد کی سطح پر غیر یقینی صورتحال نے اس کے کاروبار کو ناممکن بنا دیا ہے۔ یہاں تک کہ کمپنی نے دیگر چینی سرمایہ کاروں کو بھی خبردار کیا کہ وہ پاکستان میں سرمایہ کاری سے پہلے پالیسیوں کے نفاذ میں موجود خلا اور ادارہ جاتی غیر یقینی صورتحال کا جائزہ لیں۔
یہ ایک غیر معمولی صورتحال تھی۔ ایک طرف ایک غیر ملکی کمپنی کا لہجہ خاصا سخت اور کسی حد تک دھمکی آمیز تھا تو دوسری طرف پاکستانی حکومت کی جانب سے فوری ردعمل دیکھنے میں آیا۔ اعلیٰ سطح پر مداخلت کی گئی اور چند ہی دنوں میں مسئلہ حل کر لیا گیا۔ کمپنی کے مطابق وزیراعظم اور وزیرِ منصوبہ بندی کی معاونت سے معاملات طے پا گئے۔ یقیناً یہ خوش آئند بات ہے کہ ایک اہم سرمایہ کاری کو بچا لیا گیا۔ خاص طور پر ایسے وقت میں جب پاکستان کو زرمبادلہ کے شدید دبا¶ کا سامنا ہے اور برآمدات میں اضافہ ناگزیر ہے۔ 
لیکن اس کے ساتھ ساتھ ایک بنیادی سوال بھی سامنے آتا ہے۔ کیا یہی رفتار اور سنجیدگی پاکستانی کمپنیوں کے مسائل حل کرنے میں بھی دکھائی جاتی ہے؟۔
پاکستانی کاروباری برادری عرصہ دراز سے ریگولیٹری پیچیدگیوں، ٹیکس کے مسائل، اجازت ناموں میں تاخیر اور پالیسیوں کے غیر واضح نفاذ کی شکایت کرتی آئی ہے۔ چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار تو خاص طور پر اس صورتحال سے متاثر ہوتے ہیں۔ جہاں انہیں نہ تو فوری رسائی حاصل ہوتی ہے اور نہ ہی ان کے مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر سنا جاتا ہے۔ مثلاً پچھلے کافی دنوں سے پاکستان کی تاجر برادری 8 بجے دکانیں بند ہونے سے کافی پریشان ہے۔ ان کی آمدن پر گہرا اثر پڑا ہے۔ اگر ایک غیر ملکی کمپنی کے تحفظات پر چند دنوں میں اعلیٰ سطح کی مداخلت ہو سکتی ہے، تو کیا یہی سہولت مقامی سرمایہ کاروں کو نہیں ملنی چاہیے؟ اگرچہ یہ درست ہے کہ چین کے ساتھ ہمارے تعلقات بہت خاص ہیں۔ چین اور پاکستان ہمیشہ ایک دوسرے کے ساتھ کھڑے رہے ہیں۔ پاکستان نے چین کے مغربی دنیا سے تعلقات بنانے میں کردار ادا کیا تو چین بھی پاکستان کے ساتھ کھڑا نظر آیا، چین نے پاکستان کو ہتھیار اور لڑاکا طیارے دیئے تو پاکستان کے جانبازوں نے ان کا معرکہ حق میں بھارت کے خلاف ایسا بہترین استعمال کیا کہ رپورٹس کے مطابق چین کی ہتھیار بنانے والی صنعت کا منافع بہت زیادہ بڑھ گیا ہے۔ سی پیک میں چین نے کھل کر سرمایہ کاری کی تو پاکستان نے بھی دل کھول کر خصوصی رعایتیں دیں۔ اسی طرح پاکستان کو انرجی بحران کا سامنا تھا تو پاکستان نے چینی کمپنیوں کے لیے پاکستان دروازے کھول دئیے۔ چینی کمپنیوں نے متعدد منصوبے شروع کیے، جس سے بجلی کی پیداوار میں نمایاں اضافہ ہوا۔ تاہم اس کے ساتھ ساتھ مالی بوجھ بھی بڑھ گیا۔ گزشتہ سال دسمبر کے اعداد و شمار کے مطابق پاکستان کی جانب سے انڈیپنڈنٹ پاور پروڈیوسرز کو ادائیگیاں 1.2 ٹریلین روپے تک پہنچ چکی ہیں، جن میں تقریباً 500 ارب روپے چینی کمپنیوں کو کپیسٹی پیمنٹ کی مد میں واجب الادا ہیں۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق ان چینی کمپنیوں کو پاکستان کے دیگر پرانے معاہدوں سے زیادہ منافع ادا کیا جاتا ہے۔ ویسے کیا پاک چین دوستی کا تقاضا یہ نہیں تھا کہ یہ معاہدے دیگر معاہدوں سے سستے اور ہر طرح کے اضافی چارجز مثلاً کپیسٹی پیمنٹس کے بغیر ہوتے تاکہ پاکستان کے غریب عوام کے لئے آسانی ہوتی؟ یہ سہولتیں صرف چینی کمپنیوں کو میسر نہیں، پاکستانی حکومتوں کا رویہ مغربی کمپنیوں کے ساتھ بھی دوستانہ رہتا ہے۔ لیکن میرا یہ سوال ہمیشہ سے رہا ہے جو میں نے اس تحریر کے آغاز میں بھی اٹھایا کہ دوسروں پر نوازشیں تو ٹھیک ہیں لیکن یہ سہولت اپنوں کے لیے کیوں نہیں؟
چین کے علاوہ بھی بات کریں تو پاکستان نے اپنے دیگر ہمسایہ ممالک کے ساتھ بھی ہمیشہ مثبت رویہ اپنایا ہے۔ ایران امریکہ جنگ کے دوران پاکستان نے ایران کا ساتھ دیا، حالانکہ ماضی میں ایران کے تعلقات بھارت کے ساتھ زیادہ گرمجوش رہے ہیں۔ اس سے متحدہ عرب امارات ہم سے ناراض ہو گیا۔ افغانستان کے معاملے میں بھی پاکستان نے کئی دہائیوں تک تعاون کیا، لیکن اس کے بدلے میں اکثر سکیورٹی و معاشی چیلنجز کا سامنا کرنا پڑا۔ جس کا براہ راست اثر پاکستانی کی معیشت اورعوام پر پڑتا ہے۔ بدلے میں کس کو کیا ملا یہ الگ داستان ہے۔ یہ تمام مثالیں اس بات کو ظاہر کرتی ہیں کہ پاکستان نے ہمیشہ دوسروں کے لیے آسانیاں پیدا کرنے کی کوشش کی ہے۔ لیکن اصل سوال یہ ہے کہ کیا یہی سہولت اپنے لوگوں کے لیے بھی دستیاب ہے؟ کیا پاکستانی صنعتکار، تاجر اور سرمایہ کار اور عوام بھی اسی سطح کی توجہ اور سہولت کے مستحق نہیں؟۔
مسئلہ غیر ملکی سرمایہ کاری یا سہولت دینے سے نہیں، بلکہ توازن نہ ہونے کا ہے۔ اگر حکومت غیر ملکی کمپنیوں کو سہولیات فراہم کرتی ہے تو یہ ایک مثبت قدم ہے، لیکن اس کے ساتھ ساتھ مقامی کاروباری طبقے کو بھی وہی اہمیت دینا ضروری ہے۔ کیونکہ یہی وہ لوگ ہیں جن کا مستقبل، سرمایہ اور زندگی مکمل طور پر پاکستان سے جڑی ہوئی ہے۔ وقت آ گیا ہے کہ پالیسی ساز اس گہرے تضاد پر سنجیدگی سے غور کریں۔ ایک ایسا نظام تشکیل دینا ہو گا جہاں غیر ملکی اور مقامی سرمایہ کاروں کے درمیان فرق کم ہو۔ دونوں کو یکساں مواقع اور سہولیات فراہم کی جائیں۔ یہی توازن پاکستان کی معیشت کو مستحکم بنیادوں پر کھڑا کر سکتا ہے اور حقیقی ترقی کی راہ ہموار کر سکتا ہے۔

ٹیگز: