Wed, September 16, 2026

جنگ کے بوجھ تلے دبی اسرائیلی معیشت: ایک ہفتے میں 3 ارب ڈالر کا خسارہ، معمولاتِ زندگی مفلوج

جنگ کے بوجھ تلے دبی اسرائیلی معیشت: ایک ہفتے میں 3 ارب ڈالر کا خسارہ، معمولاتِ زندگی مفلوج

تل ابیب: ایران کے ساتھ جاری فوجی کشیدگی اسرائیل کے لیے ایک مہنگا سودا ثابت ہو رہی ہے۔ اسرائیلی وزارتِ خزانہ نے اعتراف کیا ہے کہ جنگی حالات اور ملک گیر پابندیوں کے باعث قومی معیشت کو محض سات دنوں میں 3 ارب ڈالر کا غیر معمولی نقصان پہنچا ہے۔
اسرائیلی مالیاتی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر جنگ کی شدت کم بھی ہو جائے، تب بھی معیشت کو سنبھلنا مشکل ہو گا۔
 وزارتِ خزانہ کے مطابق، کم پابندیوں والی صورتحال میں بھی اسرائیل کو ہر ہفتے ڈیڑھ ارب ڈالر کا نقصان برداشت کرنا پڑے گا۔حفاظتی اقدامات کے تحت افرادی قوت (Labor Force) کی سرگرمیوں پر پابندی نے پروڈکشن سیکٹر کو مکمل طور پر جام کر دیا ہے۔
جنگی خوف اور حکومتی احکامات نے پورے ملک کو ایک "خاموش لاک ڈاؤن" میں دھکیل دیا ہے۔ ملک بھر میں اسکول اور کالج غیر معینہ مدت تک کے لیے بند کر دیے گئے ہیں۔ کسی بھی قسم کے بڑے اجتماع پر پابندی عائد ہے، جس سے سیاحت اور تفریحی صنعت تباہ ہو کر رہ گئی ہے۔
 مارکیٹوں میں خریداروں کی عدم موجودگی اور ملازمین کے گھروں تک محدود ہونے سے روزانہ کی بنیاد پر کروڑوں ڈالر کا نقصان ہو رہا ہے۔
دفاعی اور معاشی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اسرائیل کی دفاعی لاگت اور معاشی جمود کا یہ امتزاج طویل مدتی کساد بازاری (Recession) کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتا ہے۔ ایران کے ساتھ محاذ آرائی نے عالمی سرمایہ کاروں کے اعتماد کو بھی ٹھیس پہنچائی ہے۔

ٹیگز: