Wed, September 16, 2026

دہشت گردی کے سائے میں انسانی حقوق کی سیاست

دہشت گردی کے سائے میں انسانی حقوق کی سیاست

پاکستان میں لاپتہ افراد اور جبری گمشدگیوں کا مسئلہ ایک حساس اور جذباتی موضوع ہے۔ اس پر بحث ہونی چاہیے، سوال اٹھنے چاہئیں اور قانون کے مطابق جواب بھی ملنے چاہئیں۔ لیکن جب اس مسئلے کو حقائق کے بجائے سیاسی مقاصد اور بیرونی ایجنڈوں کے لیے استعمال کیا جائے تو تصویر دھندلا جاتی ہے۔ ریاستِ پاکستان بالخصوص کا اہم ادارہ پاک آرمی نے ہمیشہ اس معاملے کو ایک سنجیدہ قانونی مسئلہ قرار دیا ہے، نہ کہ نظرانداز کیے جانے والا معاملہ۔ 2011 میں وفاقی حکومت نے باقاعدہ طور پر Commission of Inquiry on Enforced Disappearances (CoIED)  قائم کیا۔ اس کمیشن کا مقصد یہی تھا کہ جبری گمشدگیوں کے الزامات کی تحقیقات ہوں، ذمہ داروں کا تعین ہو اور متاثرہ خاندانوں کو قانونی راستہ فراہم کیا جائے۔ یہ کوئی خفیہ یا غیر رسمی نظام نہیں بلکہ ایک عدالتی و ادارہ جاتی ڈھانچہ ہے جو مسلسل کام کر رہا ہے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ملک بھر میں رجسٹرڈ کیسز میں سے 83 فیصد سے زائد نمٹائے جا چکے ہیں۔ خصوصاً بلوچستان میں تقریباً 94 فیصد کیسز حل کیے جا چکے ہیں۔ یہ اعداد و شمار اس بات کا ثبوت ہیں کہ ریاست اس معاملے سے نظریں نہیں چرا رہی بلکہ اسے قانونی عمل کے ذریعے حل کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ وقت کے ساتھ ساتھ نگرانی کے نظام کو مزید مضبوط کیا گیا۔ پارلیمانی سطح پر جائزہ میکانزم متعارف کرایا گیا تاکہ شفافیت بڑھے اور احتساب کا عمل بہتر ہو۔ 2025 میں حکومتِ بلوچستان نے ایک قانون متعارف کرایا۔ اس قانون کا مقصد حراست میں لیے گئے افراد کے معاملے کو باقاعدہ قانونی فریم ورک میں 
لانا، شفافیت بڑھانا اور انتہا پسندی سے واپسی کے پروگراموں کو قانونی تحفظ دینا ہے۔ اس میں یہ شق بھی شامل کی گئی کہ کسی بھی لاپتہ فرد کے سرپرست ریاست کو بروقت اطلاع دینے کے پابند ہوں گے، تاکہ معلوماتی خلا ختم ہو۔ یہ اقدامات اس تاثر کی نفی کرتے ہیں کہ ریاست اس مسئلے کو دبانا چاہتی ہے۔ اگر ایسا ہوتا تو باقاعدہ کمیشن، پارلیمانی نگرانی اور قانون سازی کی ضرورت ہی پیش نہ آتی۔
حقیقت کا دوسرا رخ بھی ہے۔ بلوچستان میں کئی ایسے واقعات سامنے آئے جہاں بعض افراد کو سیاسی تنظیموں نے ’’لاپتہ‘‘ قرار دیا، لیکن بعد میں وہ مسلح تنظیموں کے حملوں میں مارے گئے یا خود انہی تنظیموں نے انہیں اپنا فدائی یا سرگرم کارکن تسلیم کیا۔ مارچ 2025 میں جعفر ایکسپریس ریسکیو آپریشن کے دوران ہلاک ہونے والے دہشت گرد ودود ستکزئی کی مثال سامنے آئی، جسے پہلے لاپتہ افراد کی فہرست میں پیش کیا گیا تھا۔ اسی طرح فروری 2026 میں تربت میں انسداد دہشت گردی کارروائیوں کے دوران ہلاک ہونے والے سلیم بلوچ کو بھی بعض حلقوں نے پہلے ‘‘جبری گمشدگی’’ کا کیس قرار دیا تھا، لیکن بعد میں وہ دہشت گرد کارروائی میں ملوث پایا گیا۔ ایسے واقعات سوال اٹھاتے ہیں کہ کیا ہر الزام حقیقت پر مبنی ہوتا ہے؟۔ ریاست کا مؤقف یہ ہے کہ کچھ تنظیمیں اس مسئلے کو انسانی حقوق کے نام پر بین الاقوامی سطح پر اچھالتی ہیں کیونکہ یہ بیانیہ مغربی دنیا میں توجہ حاصل کرتا ہے۔ حکومت کے مطابق یہ ایک وسیع ہائبرڈ وار کا حصہ ہے جس میں بیرونی عناصر بلوچستان میں عدم استحکام پیدا کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ 2016 میں بھارتی خفیہ ایجنسی سے وابستہ آفیسر کلبھوشن یادیو کی گرفتاری کے بعد پاکستان نے بارہا الزام لگایا کہ بلوچستان میں دہشت گردی کو بیرونی سرپرستی حاصل رہی ہے۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ بلوچستان کئی برسوں سے دہشت گردی اور مسلح بغاوت کا شکار رہا ہے۔ 2000 کی دہائی کے اوائل سے لے کر آج تک سیکورٹی فورسز، اساتذہ، مزدوروں اور عام شہریوں کو نشانہ بنایا گیا۔ ریاست کا بنیادی فرض شہریوں کی جان و مال کا تحفظ ہے۔ اگر انسداد دہشت گردی آپریشن نہ ہوں تو ریاست کی عملداری کمزور ہو جائے گی۔
کسی بھی جمہوری معاشرے میں شفافیت، عدالتی نگرانی اور انسانی حقوق کا احترام بنیادی اصول ہوتے ہیں۔ لیکن یہ بھی ضروری ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ کو کمزور کرنے کے لیے غلط معلومات یا من گھڑت کہانیوں کو بطور ہتھیار استعمال نہ کیا جائے۔ آج ضرورت اس بات کی ہے کہ حقائق اور پروپیگنڈے میں فرق کیا جائے۔ اگر کوئی کیس ہے تو اسے قانونی فورم پر لایا جائے، جیسا کہ 2011 سے قائم کمیشن کر رہا ہے۔ لیکن اگر دہشت گردی میں ملوث افراد کو ’’لاپتہ‘‘ کہہ کر پیش کیا جائے تو اس سے اصل متاثرین کے مقدمات بھی کمزور ہوتے ہیں۔ ریاست کا واضح پیغام ہے: انسداد دہشت گردی کی کارروائیاں پوری قوت سے جاری رہیں گی، کیونکہ امن اور قانون کی عملداری پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہو سکتا۔ ساتھ ہی قانونی اصلاحات اور نگرانی کا عمل بھی جاری رہے گا تاکہ کسی بے گناہ کے ساتھ ناانصافی نہ ہو۔ بلوچستان کی خوشحالی اور استحکام کسی کے ایجنڈے کا یرغمال نہیں بننے دیا جائے گا۔ سچائی اور قانون کی بالادستی ہی وہ راستہ ہے جس سے ریاست مضبوط بھی ہوتی ہے اور عوام کا اعتماد بھی بحال رہتا ہے۔

ٹیگز: