Wed, September 16, 2026

کابل انتظامیہ کے دعوے دھرے کے دھرے رہ گئے: افغانستان میں عالمی دہشت گردوں کی بڑھتی سرگرمیوں پر 'سی ایس ٹی او' کا ہنگامی انتباہ

کابل انتظامیہ کے دعوے دھرے کے دھرے رہ گئے: افغانستان میں عالمی دہشت گردوں کی بڑھتی سرگرمیوں پر 'سی ایس ٹی او' کا ہنگامی انتباہ

ماسکو :افغانستان میں عالمی دہشت گرد گروہوں کی موجودگی اور ان کی بلا روک ٹوک کارروائیوں پر عالمی برادری کے خدشات کی ایک بار پھر تصدیق ہو گئی ہے۔ روس اور وسطی ایشیائی ممالک کے سیکیورٹی اتحاد 'کولیکٹو سکیورٹی ٹریٹی آرگنائزیشن' (سی ایس ٹی او) نے افغان صورتحال کو خطے سمیت پوری دنیا کے لیے انتہائی خطرناک قرار دے دیا ہے۔

سی ایس ٹی او کے سیکرٹری جنرل تالانت بیک ماسادیکوف نے اپنے حالیہ بیان میں کہا ہے کہ افغانستان کے اندر پائیدار امن کے قیام میں ناکامی کے باعث بدامنی پھیل رہی ہے، اور وہاں بین الاقوامی دہشت گرد تنظیموں کی سرگرمیاں مسلسل بڑھ رہی ہیں۔
سیکرٹری جنرل نے خبردار کیا کہ افغانستان میں دہشت گردوں کے مضبوط ہوتے نیٹ ورکس اب صرف خطے کے لیے نہیں، بلکہ ایشیا اور یورپ دونوں کے مجموعی امن و امان کے لیے ایک بڑا اور فعال خطرہ بن چکے ہیں، جس کا تدارک فوری طور پر ضروری ہے۔

عالمی امور کے ماہرین کا کہنا ہے کہ سی ایس ٹی او کی جانب سے افغانستان کی سیکیورٹی صورتحال پر اس کڑے موقف کے بعد، کابل میں قائم عبوری حکومت کے ان دعوؤں کی ساکھ بری طرح متاثر ہوئی ہے جن میں وہ افغان سرزمین کو بیرونی دہشت گردی کے لیے استعمال نہ ہونے دینے کا یقین دلاتی آئی ہے۔

ٹیگز: