ویسے تو پاکستان میں دہشت گردی کا آغاز بم دھماکوں کی صورت میں 80کی دہائی میں ہو چکا تھا لیکن پھر جنرل مشرف کے دور میں خود کش حملوں کی صورت میں جس دہشت گردی کا سلسلہ شروع ہوا تو اس نے تھمنے کا نام نہیںلیا اور ایک موقع تو ایسا بھی آیا کہ ایک ہی دن میں کئی خود کش حملے کئے گئے اور نتیجہ یہ نکلا کہ پاکستان کے 80ہزار سے زائد شہری شہید ہو چکے ہیں اور اربوں کھربوں ڈالر کا پاکستانی معیشت کو نقصان ہو چکا ہے ۔ 2014میں آپریشن ضرب عضب کے بعد دہشت گردی میں نمایاں کمی ہونا شروع ہو گئی تھی اور کچھ عرصہ بعد ہی ایک وقت ایسا آیا کہ دہشت گردی قریب قریب ختم ہو کر رہ گئی لیکن پھر 2021میں پاکستان کی جیلوں میں بند ہزاروں دہشت گردوں کہ جن میں سزائے موت کے قیدی بھی شامل تھے انھیں صدارتی معافی کے ذریعے رہا کیا گیا اور اسی طرح افغانستان سے بھی ہزاروں دہشت گردوں کو پاکستان لایا گیا اور اس کے بعد ان اقدامات کا جو نتیجہ نکلنا تھا وہ نکلا اور 2022میں پی ڈی ایم کی حکومت آئی تو ان دہشت گردوں کو جن مقاصد کے لئے لایا گیا تھا اس کے لئے انھیں متحرک کر دیا گیا لیکن اس بار ماضی کی نسبت دہشت گردی کچھ مختلف تھی ۔ ماضی میں بھی افواج پاکستان اور سکیورٹی فورسز کو نشانہ بنایا جاتا تھا لیکن اس کے ساتھ ساتھ محرم الحرام اور ربیع الاول کے جلوسوں، مجالس ،مساجد ، امام بارگاہوں ، تعلیمی درس گاہوں اور عوامی مقامات سمیت ہر جگہ حملے کئے گئے لیکن گذشتہ تین سال سے دہشت گردی کی جو نئی لہر شروع ہوئی تو اس میں یقینا کچھ ٹارگٹڈ قتل ہوئے لیکن 90%سے زیادہ سکیورٹی فورسز کو نشانہ بنایا گیا جن میں خاص طور پر افواج پاکستان کو ٹارگٹ کیا جارہا ہے لیکن اس میں حیرت کی بات یہ ہے کہ دو صوبوں بلوچستان اور خیبر پختون خوا میں دہشت گردی ہو رہی ہے ۔ بلوچستان میں قوم پرست علیحدگی پسند بی ایل اے دہشت گردی میں ملوث ہے جبکہ خیبر پختون خوا میںٹی ٹی پی جو ایک انتہا پسند مذہبی جماعت ہے وہ متحرک ہے۔ دونوں کے نظریات میں زمین آسمان کا فرق ہے کسی ایک جگہ کوئی ایک نقطہ بھی میل نہیں کھاتا لیکن یہ حیرت کی بات نہیں کہ دونوں کا ٹارگٹ ایک ہے یعنی سکیورٹی فورسز اور خاص طور پر افواج پاکستان ۔ اس کا صاف مطلب یہ ہے کہ دونوں کے نظریات قیادت ہر چیز مختلف ضرور ہے لیکن ایک ہی ٹارگٹ کو نشانہ بنانے سے یہ بات واضح ہو گئی کہ ان دونوں کا ماسٹر مائنڈ ایک ہی ہے اور اب اس میں کسی شک و شبہ کی گنجائش ہی نہیں رہی کہ وہ ماسٹر مائنڈ ہندوستان ہے ۔
گذشتہ چند ماہ سے دہشت گردی کی وارداتوں میں بہت زیادہ اضافہ ہو گیا تھا لیکن سیانے کہتے ہیں کہ جب شیر دھاڑتا ہے تو بہت سے کتے بلے ویسے ہی اپنے اپنے بلوں میں دبک کر بیٹھ جاتے ہیں ۔ اب ہندوستان جو ان دہشت گردوں کا مائی باپ ہے اسے جو عبرت ناک شکست ہوئی ہے اس کے بعد ہندوستان نے پاکستان میں دہشت گردی کے اپنے تمام سلیپنگ سیلز کو فعال کر دیا ہے لیکن دوسری جانب اب زمینی حقائق میں کچھ ایسی تبدیلیاں آ رہی ہیں کہ جن سے بڑا واضح نظر آ رہا ہے کہ خدائے بزرگ و برتر نے چاہا تو اب پاکستان میں متحرک ہر طرح کے دہشت گردوں کی شامت آ چکی ہے ۔ خیبر پختون خوا میں دہشت گردی میں کمی ایسی انتہائی مثبت تبدیلی نظر آ رہی ہے اور اس کے پیچھے پاکستانی سکیورٹی فورسز کی فتنہ الخوارج کے خلاف کارروائیاں بھی ہیں اور گذشتہ دنوں چین میں پاکستان اور افغانستان کے درمیان جو سہ فریقی مذاکرات ہوئے ہیں ان کا بھی عمل دخل ہے ۔ ان مذاکرات کے اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار کے دورہ افغانستان کے بڑے مثبت نتائج نکلے ہیں اور تحریک طالبان افغانستان کی طرف سے ایک بیان جاری کیا گیا ہے کہ جس میں ٹی ٹی پی کو متنبہ کیا گیا ہے کہ امیر کی اجازت کے بغیر پاکستان میں ( دہشت گردی کی ) کوئی کارروائی جائز نہیں ۔ چین میں افغانستان کے ساتھ جو بات ہوئی ہے اس کی بڑی اہمیت ہے اس لئے کہ دہشت گردی میں پاکستان کے 80ہزار سے زائد بے گناہ شہری تو جاں بحق ہوئے ہی ہیں لیکن مختلف مواقع پر پاکستان میں کام کرنے والے چینی ہنر مند افراد بھی اس دہشت گردی کی بھینٹ چڑھ چکے ہیں تو چین اور اس کے بعد ترکیہ کا دہشت گردی میں ساتھ پاکستان کے لئے ایک نیک شگون جبکہ دہشت گردوں کے لئے موت کا پیغام ہے ۔ پاک افغان بارڈر پر گذشتہ دنوں پاکستان اور ترکیہ کی انٹیلی جنس ایجنسیوں کے اشتراک سے ہونے والے ایک آپریشن میں داعش کا ایک انتہائی اہم اور مطلوب کمانڈر ابو یاسر الترکی المعروف اوزگر التون کو ہلاک کیا گیا ۔
آنے والے دنوں میں خیبر پختون خوا میں تودہشت گردی کے واقعات میں خاطر خواہ کمی ہونے کے امکانات ہیں اور جہاں تک بلوچستان میںمتحرک فتنہ الہندوستان کے دہشت گردوں کا تعلق ہے تو ان کے گرد بھی شکنجہ کس دیا گیا ہے اور وہاں پر ان کے پاس دو ہی آپشن ہیں ایک وہ اپنے مائی باپ ہندوستان چلے جائیں اور دوسرا یہ کہ ریاست پاکستان کے سامنے سر نگوں ہو کر ہتھیار ڈال کر معافی مانگیں ۔ ان دو کے علاوہ ان کے پاس کوئی تیسرا راستہ نہیں ہے اور روز روشن کی طرح واضح نظر آنے والے زمینی حقائق کے باوجود بھی اگر فتنہ الہندوستان کے دہشت گردوں نے اپنے سرپرست کے لئے کچھ گڑ بڑ کرنے کی کوشش کی تو ان کا سر کچل دیا جائے گا کیونکہ فتح مبین کے بعدافواج پاکستان کے حوصلے بہت بلند ہو چکے ہیں ۔
میری فوج جیسا تو کوئی ہے ہی نہیں
اور دہشت گرد تو کوئی شے ہی نہیں