Wed, September 16, 2026

پائیدار اور مستحکم معاشی ترقی کے بغیر

پائیدار اور مستحکم معاشی ترقی کے بغیر

لگتا ہے کہ حکومت عمران خان کے حوالے سے سیدھی ہو گئی ہے۔ عمران خان جیل میں بیٹھ کر نہ صرف کھلے عام اپنی پارٹی چلا رہے ہیں، دو سال کا عرصہ گزرنے کو ہے حکومت خان کے ہاتھوں زچ دکھائی دیتی ہے۔ وہ نہ صرف زبانی کلامی حکومت کے لئے سوہان روح بنے ہوئے ہیں بلکہ عملاً بھی مشکلات پیدا کرتے رہتے ہیں، ویسے ان کی دشنام طرازی سے تو کوئی بھی محفوظ نہیں ہے، ان کے سوشل میڈیا والے ریاست اور چیف کے خلاف کھلے عام منفی بلکہ غلیظ زبان استعمال کرتے ہیں۔ چیف تو للکارتے ہیں، برے القاب دیتے ہیں۔ہماری سیاسی حکومت اور اتحادی اس حوالے سے زیادہ سیریس نہیںرہتے ہیں، ان کے رویوں سے لگتا ہے کہ انہوں نے عمران خان ایشو فوج کے حوالے کر رکھا ہے ، کہا جاتا ہے کہ عمران خان کو جن بھی انہی نے بنایا تھا اسے اقتدار میں لے کر آئے تھے اب اس جن سے وہ خود ہی نمٹیں۔ کہنے والے تو یہاں تک کہتے ہیں کہ جب تک عمران خان جیل میں ہے اور فوج کے ساتھ برسر پیکار ہے، ان کی حکومت کو کوئی خطرہ نہیں ہے۔ عملاً بھی ایسا ہی نظر آتا ہے کہ انہوں نے عمران خان کے منفی اور ملک دشمن بیانیے کے خلاف کوئی بیانیہ تشکیل دینے میں سرگرمی نہیں دکھائی ہے۔ عمران خان نے ایک نئی نسل کو زہرآلود کر رکھا ہے، انہیں دشنام طرازی اور منفی سرگرمیوں کی راہ دکھائی ہے۔ ہمارے موجودہ حکمران ن لیگی اور پیپلز پارٹی و دیگر سیاسی جماعتوں و سیاستدانوں نے اس منفی ریاستی بیانیے کے خلاف نہ تو کوئی محاذ قائم کرنے میں سرگرمی دکھائی اور نہ ہی کوئی طاقتور مثبت بیانیہ تشکیل دینے کی سرعت دکھائی ہے۔ ڈی جی آئی ایس پی آر نوجوانوں میں مثبت بیانیہ تشکیل دینے کی سرعت دکھائی ہے۔ ڈی جی آئی ایس پی آر نوجوانوں میں مثبت افکار کی تشکیل اور منفی پروپیگنڈے کے خلاف محاذ پر سربکف رہتے ہیں تو دوسری طرف نمک حرام طالبان کے خلاف پاکستان کا دفاع کرنے میں مصروف رہتے ہیں۔ ہمارے سیاستدان حکمران بیرونی دوروں پر فعال نظر آتے ہیں۔ سرکاری فنڈز کے بے دریغ استعمال کے ذریعے اپنی تشہیر میں مصروف نظر آتے ہیں، انہیں عمرانی منفی پروپیگنڈے کے خلاف محاذ آرائی میں قطعاً کوئی دلچسپی نہیں رہی لیکن اب ایسے لگتا ہے کہ حکومت شاید جاگ گئی ہے یا جگائی گئی ہے۔ ریاست کے خلاف منفی سرگرمیوں کے مرکز اور محور قیدی نمبر 804 کے گرد گھیرا تنگ کرنے کا فیصلہ کر لیا گیا ہے۔ کوئی بھی ملاقاتی اب باہر آکر سیاسی منڈی نہیں لگا سکے گا۔ قیدی کا سیاسی پارٹی چلانے کا حق ختم، حق نہیں بلکہ ایک سزا یافتہ مجرم کی پارٹی چلانے اور انتشار پھیلانے کی آزادی ختم کرنے کا فیصلہ ہو گیا ہے۔ چلیں دیر آید درست آید۔ برطانیہ میں بیٹھے شہزاد اکبر اور میجر عادل کے خلاف بھی حکومت فعال ہوتی نظر آرہی ہے۔ ان دو ملزمان کی حوالگی کا عمل بھی شروع کر دیا گیا ہے۔ ہمارے داخلہ امور کے نقوی صاحب نے برطانوی سفیر سے ملاقات کر کے دونوں کی فائلیں اس کے حوالے بھی کر دی ہیں۔ گویا اس حوالے سے کچھ سرگرمی، عملی اقدامات کی صورت میں نظر آنے لگی ہے۔ دیکھتے ہیں کہ نتیجہ کیا نکلتا ہے ویسے تاریخی اعتبار سے سیاسی قسم کے ملزمان کی حوالگی کی مثالیں بہت کم ہیں۔ حکومت پاکستان نے ایم کیو ایم کے الطاف حسین کو یہاں واپس پاکستان لانے کی کاوشیں بھی کیں لیکن کامیابی نہیں ہو سکی۔ عمران خان حکومت نواز شریف کو واپس لانے کی انتھک کاوشیں کرتی رہی لیکن ناکام رہی۔ مونس الٰہی، فرح گوگی اور ملک ریاض و غیرہ بھی اسی صف میں شامل ہیں۔ مغرب میں صرف دو طرح کے ملزمان کو حوالگی کی جاتی ہے۔ ایک ایسے مطلوب افراد جو منی لانڈرنگ میں ملوث پائے گئے ہوں اور دوسرے دہشت گردی میں شامل افراد، بینک آف پنجاب کے ہمیش خان کی حوالگی اس کی ایک مثال ہے۔ اس لئے حکومتی کاوشیں اپنی جگہ درست بھی ہو سکتی ہیں۔ شہزاد اکبر اور میجر عادل راجہ پاکستان کے خلاف محاذ قائم کر رہے ہیں۔ جھوٹا پروپیگنڈہ بھی پھیلاتے ہیںاور اسی طرح کی دیگر سرگرموں میں بھی ملوث ہیں لیکن برطانیہ میں آزادی تحریر و تقریر کی مد میں یہ سب کچھ شاید جائز ہے، اس لئے انہیں برطانیہ بدر نہیں کیا جائے گا بلکہ پاکستان کی طرف سے ان افراد کی حوالگی کی کاوشیں، انہیں برطانیہ میں سیاسی پناہ لینے کا مضبوط امیدوار بھی بنا سکتی ہیں بہرحال دیکھتے ہیں کہ آنے والے دنوں میں واقعات کیا رخ اختیار کرتے ہیں۔
عمران خان کے ساتھ ملاقاتیوں پر قوانین کا اطلاق ایک اچھی روایت ہے لیکن کیا عمران خان کی منفی اور شرانگیز حرکتیں ختم ہو جائیں گی، ان کی زہر انگیزی کم ہو جائے گی؟ لگتا ہے ایسا نہیں ہو گا کیونکہ پی ٹی آئی کا خمیر ہی شرانگیزی اور نفرت پر اٹھایا گیا ہے، ان کی سیاست نفرت پر استوار ہے، اقتدار میں آنے سے پہلے اور اقتدار میں آنے کے بعد بھی ان کی یہی سیاست روبہ عمل رہی۔ اقتدار سے رخصتی کے بعد تو اس کو چار چاند لگ گئے، ان کے چیلے چانٹے تو کھل کھلا کر پاکستان کے خلاف سرگرم عمل ہیں۔ عمران خان اور ان کی سیاست جو کچھ بھی ہمارے سامنے ہے اس کے بارے میں کوئی شک و شبہ نہیں ہونا چاہئے۔ ان کے حواری کھلے عام کہتے پائے گئے ہیں کہ عمران نہیں تو پاکستان بھی نہیں ہے گویا عمران خان پاکستان سے بھی بلند ہے، کم از کم ان کے ماننے والوں کے نزدیک تو ایسا ہی ہے، ان کی عوامی پذیرائی کے بارے میں بھی کسی کو شک و شبہ نہیں ہونا چاہئے۔ سیاسی بیانات کو ایک طرف رکھ کر فروری 2024ءکے انتخابات کے نتائج کا تجزیہ کر لیں تو صورتحال واضح ہو جاتی ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ عمران خان کے ساتھ برتاﺅ کیا ہونا چاہئے۔ اسے ریاست دشمن اور ملک دشمن کے طور پر لینا چاہئے یا ایک سیاسی رہنما کے طور پر سلوک کرنا چاہئے۔ ایسے لگتا ہے کہ ریاست اور حکومت شاید کسی مخمصے کا شکار ہے۔ کوئی واضح پالیسی دیکھنے میں نہیں آرہی ہے۔2 سال سے اسے قید میں رکھا ہوا ہے۔ 9مئی کے واقعات سے جو دباﺅ تحریک انصاف پر پڑا تھا، وہ بھی ہوا ہو گیا ہے۔ الٹا اب تو تحریک انصاف والے اسے فالس فلیگ آپریشن قرار دیتے نظر آتے ہیں۔ تحریک انصاف کی سوشل میڈیا ٹیم اور اس کے رہنما جھوٹ اور مکر کی خبریں پھیلا کر سیاسی و معاشرتی بے اطمینانی پھیلانے کا باعث بن رہے ہیں، جس کے باعث معاشی تعمیر و ترقی کا خواب حقیقت نہیں بن پا رہا ہے، ویسے کئی ایک دیگر عوامل بھی ایسے ہیں جن کے باعث پاکستان کی قومی معیشت کھلے پن کا اظہار نہیں کر پا رہی ہے۔ کروڑوں افراد خط غربت سے نیچے زندگیاں گزارنے پر مجبور ہیں۔ 10 مئی کی بھارت پر ہماری عسکری فتح اپنی جگہ بہت بڑی بات ہے لیکن صرف عسکری فتح کے سہارے ملک نہیں چل سکے گا، اس کے لئے پائیدار اور مستحکم معاشی ترقی کا ہونا ضروری ہے جو سردست ہوتی نظر نہیں آرہی ہے۔

ٹیگز: