Wed, September 16, 2026

روس بھارت قربتیں

روس بھارت قربتیں

روس کے صدر ولادی میر پوتن اس وقت بھارت کے دورے پر ہیں۔ وہ چار برس کے بعد بھارت آئے ہیں، ان کا یہ دورہ بڑی طاقتوں کے مابین بڑھتے ہوئے خلفشار کے سبب بہت اہمیت کا حامل ہے، ان کے اس دورے سے قبل امریکہ دونوں ممالک کے ساتھ مختلف محاذ کھولے ہوئے تھا، وہ چاہتا تھا کہ روس اور بھارت دونوں چین کی نسبت اس سے زیادہ قربت اختیار کریں۔ اس خواہش کا پس منظر یہ ہے کہ امریکہ آج دنیا میں کسی ایک ملک سے خائف ہے تو وہ صرف چین ہے جس کی فوجی اور اقتصادی طاقت وقت کے ساتھ ساتھ بڑھتی رہی۔ امریکہ اپنے تمام تر حربوں کے باوجود ترقی کی اس رفتار کو کم کر سکا نہ روک سکا۔ اپنے مقصد کے حصول کے لئے امریکہ نے روس اور بھارت دونوں پر پابندیاں لگا کر انہیں ہراساں کرنے کی کوششیں جاری رکھیں لیکن دونوں ملک اس کے آگے نہ جھکے۔ روسی صدر نے الاسکا ملاقات کے دوران مضبوط موقف اختیار کیا اور ٹرمپ کے رعب میں نہ آئے۔ بھارتی وزیراعظم نریندرا مودی نے بھی کوئی لچک نہ دکھائی، متعدد موقعوں پر انہوں نے ٹرمپ کی خواہش کے برعکس اس سے ملاقات نہ کی۔ ایک سے زائد مرتبہ ان کی فون کال نہ سنی۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ امریکی صدر نے مختلف موقعوں پر انہیں اپنا دوست کہنا شروع کر دیا اور امریکہ بھارت تعلقات کا اکثر ذکر کرتے نظر آتے۔ اس سے قبل انہوں نے بھارت کا ناک میں دم کئے رکھا۔ بھارتیوں کو ہتھکڑیوں میں جکڑ کر چارٹر طیاروں میں بٹھا کر امریکہ سے نکالا، بھارت پر ٹیرف لگایا، اسے روس سے تیل کی خریداری پر سخت نتائج کی دھمکیاں دیں۔ امریکی صنعتکاروں سے کہا کہ وہ بھارت میں سرمایہ کاری نہ کریں اور بھارتی مصنوعات کا راستہ روکنے کے لئے ہر وہ حربہ اختیار کیا جو ان کی دانست میں کارگر ثابت ہو سکتا تھا۔ انہوں نے یہی رویہ روس کے ساتھ اختیار کئے رکھا۔ انہوں نے روسی تیل کمپنیوں پر پابندیاں عائد کر دیں۔ انہوں نے ایڑی چوٹی کا زور لگا دیا کہ دنیا کو روسی تیل کی خریداری سے بازرکھ سکیں لیکن ان کے تمام اقدامات کا نتیجہ یہ نکلا کہ بھارت میں امریکہ کے خلاف نفرت میں اضافہ جبکہ روس اور چین کے لئے مثبت جذبات میں اضافہ ہوا۔ اس موقع پر امریکہ کی طرف سے درپردہ یہ کوششیں بھی کی گئی کہ بھارت اور چین کے درمیان ایک جنگ شروع ہو جائے ، خواہ یہ چند روزہ ہی کیوں نہ ہو۔
امریکہ اگر گزشتہ چند ماہ کے دوران بھارت اور روس پر مختلف قسم کے دبائو نہ ڈالتا تو روسی صدر کا جاری دورہ بھارت شاید مزید کچھ عرصہ تک نہ ہوتا۔ امریکی خفیہ ایجنسیاں، سی آئی اے اوول آفس اور تھنک ٹینک جارحانہ پالیسیاں بناتے وقت یہ بھول گئے کہ ان کے دبائو کے نتیجے میں ان کے مخالف کو کیا فائدہ ہو سکتا ہے۔ روس کے ساتھ امریکہ کی دشمنی پرانی ہے۔ بھارت اس کا دشمن نہ تھا بلکہ اس کے لئے ایک بہت بڑی مارکیٹ تھا لیکن دونوں کو ایک ساتھ ڈرانے دھمکانے کے ساتھ دونوں ملکوں کی لیڈرشپ نے مزید قریب آنے کا فیصلہ کیا۔ بین الاقوامی تعلقات میں صدیوں سے یہی اصول کارفرما ہے۔ دوست کا دوست آپ کا دوست جبکہ دشمن کا دشمن آپ کا دوست ہوتا ہے، اسی طرح آپ کے دشمن کا دوست آپ کا دشمن ہوتا ہے جبکہ آپ کا براہ راست دشمن تو آپ کا دشمن ہوتا ہی ہے۔ پاکستان کے منصوبہ ساز بھی اس اصول کو کسی حد نظرانداز کئے بیٹھے ہیں۔ ہمارا دوست جس کی ہم نے چالیس برس تک میزبانی کی آج ہمارے دشمن کے ساتھ تعلقات بڑھا رہا ہے، ہم اس کے ساتھ دوستی کا رشتہ مضبوط کرنے کا سنہری موقع کھو چکے ہیں لیکن اس حوالے سے کچھ وقت ہمارے ہاتھ میں ہے، کچھ عرصہ بعد شاید نہ رہے۔
امریکی صدر کا غیرسنجیدہ رویہ بھی امریکہ بھارت میں دراڑ گہری کرنے کا سبق بنا یہ بات اپنی جگہ درست کہ پاکستان ائیرفورس نے بھارتی ائیرفورس اور بھارت کا غرور خاک میں ملا دیا لیکن امریکی صدر مختلف اوقات میں گرے ہوئے بھارتی طیاروں کی تعداد میں ازخود اضافہ کرتے رہے اور بھارت کے زخموں پر نمک چھڑکتے رہے۔ وہ ایک تیر سے دو شکار کھیل رہے تھے۔ ایک طرف تو پاکستانیوں کا دل جیتنے کی کوشش کر رہے تھے۔ دوسری طرف وہ پاک بھارت جنگ شروع کرانے کے بعد اسے بند کرا کے اپنا نوبل پرائز سی وی بہتر کرنے میں بھی دلچسپی رکھتے تھے۔ گزشتہ تین ماہ میں امریکہ کے تمام اقدامات بھارت اور روس کو قریب لانے کی وجہ بنے ہیں۔ دونوں ملکوں کی دوستی پرانی ہے لیکن اب مزید شعبوں میں تعاون انہیں مزید قریب لے آئے گا۔
بھارت بڑی مقدار میں روس سے تیل خریدتا ہے۔ موجودہ حالات میں وہ روس سے مزید بہتر نرخوں اور بہتر شرائط پر تیل خریدے گا۔ روس اسے یہ سہولتیں بخوشی مہیا کرے گا۔ چند روسی کمپنیوں پر تیل فروخت کرنے کی پابندی لگائی گئی ہے لیکن روسی ہاتھ گھما کر ناک پکڑ لیں گے، انہیں اس سے کوئی نہیں روک سکتا۔ روسی صدر کے حالیہ دورہ بھارت کے موقع پر روسی اسلحہ کی فروخت کے بڑے اہم معاہدے ہوئے ہیں، جن میں لڑاکا جہاز، ان کے انجن، الیکٹرانکس نظام ، میزائل اور دیگر اسلحہ شامل ہے۔ روس چھوٹے ہتھیاروں کے معاملے میں بھی دنیا سے بہت آگے ہے۔ امریکہ، یورپ و دیگر ممالک ایک سال میں جتنے آرٹلری شیل تیار کرتے ہیں۔ روس اس سے زیادہ صرف ایک ماہ میں تیار کر لیتا ہے۔ روس کی اس صلاحیت کا علم دنیا کو یوکرین جنگ کے موقع پر ہوا جب روس نے اعلان کیا کہ وہ کئی برس تک اپنی جنگی صلاحیت کے زور پر جنگ جاری رکھ سکتا ہے جبکہ یوکرین، امریکہ اور یورپ کا ہر معاملے میں محتاج ہے۔
یوکرین میں روس کی فتح اور بھارت کے ساتھ قربت بڑھنے کا امریکہ کو جو نقصان ہو گا۔ امریکی حلقوں میں اس کا احساس بیدار ہونے لگا ہے۔ اس خیال کے پیش نظر امریکہ نے بھارت میں ایسے سفیر کو تعینات کرنے کا فیصلہ کیا ہے جو بھارتی قیادت کے ساتھ ماضی میں اچھے تعلقات قائم کرنے میں بہت کامیاب رہا ہے لیکن یہ امریکی سفیر شاید اسی نقصان کو اب فائدے میں نہ بدل سکے جو حالیہ چند برسوں میں امریکی پالیسیوں سے امریکہ کو پہنچا ہے۔ امریکی صدر کا موجودہ دور اس اعتبار سے بھی یاد رکھا جائے گا کہ وہ اپنی ہی ٹیم اپنے ہی ملک کے خلاف گول کرنے والے کھلاڑیوں میں سرفہرست ہے اور اپنے مخالفین کو ایک دوسرے کے قریب لاتے رہے بالخصوص روس و بھارت۔

ٹیگز: