یہ نظام جسے ہم ریاست کا نام دیتے ہیں، درحقیقت ایک ایسا ڈھانچہ بن چکا ہے جو اپنی بقا کے لیے عوام کی سانسوں تک کو گروی رکھ چکا ہے۔ یہاں قانون کتابوں میں ہے، انصاف تقریروں میں اور ریاست صرف پریس کانفرنسوں میں ہی متحرک اور زندہ نظر آتی ہے۔ باقی جو حقیقت ہے، وہ سڑکوں پر بکھری ہوئی ہے۔کچرے کے ڈھیروں کے ساتھ، بھوکے بچوں کی آنکھوں میں اور ان ماو¿ں کی خاموشی میں جو اپنے بچوں کو آدھی روٹی کھلا کر خود پانی پی کر سو جاتی ہیں۔یہاں مسئلہ صرف کرپشن کا نہیں، یہ پورا نظام ایک سوچ پر کھڑا ہے۔استحصال کی سوچ، برتری کی سوچ اور اس یقین پر کہ عوام کو ہمیشہ کمزور، منتشر اور مجبور رکھنا ہی حکمرانی کا واحد طریقہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یہاں تعلیم کبھی عام نہیں ہونے دی گئی، شعور کو ہمیشہ دبایا گیا، اور سوال اٹھانے والوں کو یا تو غدار بنا دیا گیا یا خاموش کرا دیا گیا۔قیامِ پاکستان سے آج تک ایک جھوٹ مسلسل بیچا جا رہا ہے کہ "ملک اپنی تاریخ کے نازک ترین دور سے گزر رہا ہے" ، گویا پچھتر برس سے یہ ملک بچایا ہی جا رہا ہے، چلایا کبھی نہیں گیا۔ ہر حکومت، ہر فوجی وردی، ہر جمہوری نعرہ، ہر عدالتی وعدہ، سب کچھ صرف ایک مقصد کے گرد گھومتا ہے کہ عوام کو ان پڑھ اور بیوقوف رکھو، اپنی کرسی بچاو¿۔حقیقت یہ ہے کہ نازک دور کبھی ملک پر نہیں آیا، ہمیشہ صرف حکمرانوں کے اقتدار پر آیا ہے اور جب ا±ن کی کرسی ہلتی ہے اور انہیں اقتدار سے الگ کیا جاتا ہے تو وہ اس زلزلے کی ساری شدت عوام پر ڈال دیتے ہیں۔ ان کے لیے مشکل وقت کا مطلب ہے پروٹوکول کم ہو گیا ، اسٹبلشمنٹ کا اعتبار کم ہو گیا جبکہ عوام کے لیے مشکل وقت کا مطلب ہے چولہا بجھ گیا۔ وہ کھا پی کے بھاگ جاتے ہیں، ہم خالی برتن اٹھا کر قطاروں میں لگ جاتے ہیں۔آج کے پاکستان میں نہ ریاست شرمندہ ہے، نہ حکمرانوں کو کوئی شرم ہے اور نہ اداروں میں ضمیر باقی ہے۔ جو عدالت میں ہے، وہ امیر کے لیے ہے۔ جو ہسپتال ہے، وہ سفارش والوں کے لیے ہے۔ جو تعلیم ہے، وہ اونچی دیواروں کے اندر ہے۔ باقی عوام؟ وہ صرف بجلی کے بل، مہنگائی اور آٹے کی بوریوں کے لیے زندہ ہیں۔۔ یا مرنے کے لیے۔
کوئی حکومت ایسی نہیں آئی جس کے دور میں عوام نے سکون کا سانس لیا ہو۔ کسی نے غربت ختم نہیں کی ، ملازمتوں کے مواقع پیدا نہیں کئے بلکہ سب کے سب صرف نئے ٹیکس لگا کر اپنی ناکامی چھپاتے ہیں۔ ہر دور میں عوام لٹتے رہے اور حکمران اپنے ذاتی بینک اکاو¿نٹس بھرتے رہے۔ جمہوریت کو ایک مذاق بنا دیا گیا ہے۔زرعی ملک کے نام پر دھوکہ کھانے والی قوم آج آٹا چینی اور دالیں سب کچھ درآمد کر رہا ہے۔ کسان بدحال، زمین بنجر اور حکومتی پالیسی مفلوج ہیں کیونکہ عمل درآمد نہیں ہوتا ،صرف منافع کمانے والے زندہ ہیں، باقی سب صرف سانس لے رہے ہیں۔جنہیں ہم لیڈر سمجھتے ہیں وہ صرف دلال ہیں سامراجی ایجنڈے کے، عالمی سود خوروں کے ، مافیا کے اور خود غرضی کے اور جو لوگ پاکستانیت کے نعرے لگاتے ہیں، ا±ن کا پاکستان صرف مائیک کے آگے ہوتا ہے، دل اور عمل میں نہیں ہوتا۔آج ایک عام آدمی کی زندگی صرف زندہ رہنے کی جدوجہد بن کر رہ گئی ہے۔ اس کے خواب، اس کی خواہشیں، اس کی عزتِ نفس سب کچھ مہنگائی کی چکی میں پس چکا ہے۔ بجلی کا بل آتا ہے تو گھر میں سناٹا چھا جاتا ہے، آٹے کی قیمت بڑھتی ہے تو بچوں کی آنکھوں میں سوال پیدا ہوتے ہیں اور پٹرول مہنگا ہوتا ہے تو پورا نظام زندگی لڑکھڑا جاتا ہے۔ مگر ایوانوں میں بیٹھے لوگوں کے لیے یہ سب صرف اعداد و شمار ہیں، ایک گراف کی لائنیں ہیں جو اوپر نیچے ہوتی رہتی ہیں۔
یہاں سب کچھ بکا ہوا ہے فیصلے، اصول، ضمیر، حتیٰ کہ خاموشی بھی۔ جو بولتا ہے وہ خطرہ بن جاتا ہے اور جو خاموش رہتا ہے وہ اس نظام کا حصہ۔ میڈیا سے لے کر منبر تک، ہر جگہ ایک مخصوص بیانیہ بیچا جا رہا ہے تاکہ عوام کو حقیقت سے دور رکھا جا سکے۔ انہیں مذہب، قومیت اور جذباتی نعروں میں الجھا کر اصل مسائل سے ہٹایا جا رہا ہے۔ یہ صرف نااہلی نہیں، یہ ایک منظم ناکامی ہے ایسی ناکامی جس سے چند مخصوص طبقات فائدہ اٹھاتے ہیں۔ کسان قرضوں میں ڈوبا ہوا ہے، مزدور اجرت کے لیے ترس رہا ہے، اور نوجوان بے روزگاری کے اندھیروں میں راستہ تلاش کر رہا ہے۔ مگر حکمران طبقہ اب بھی ترقی کے خواب بیچ رہا ہے، ایسے خواب جو صرف اشتہارات میں خوبصورت لگتے ہیں، حقیقت میں نہیں۔
اصل مسئلہ یہ ہے کہ ہم نے بطور قوم اپنے حق کے لیے کھڑا ہونا چھوڑ دیا ہے۔ہمیں عادی بنا دیا گیا ہے تکلیف،ناانصافی اور خاموشی کا۔ ہم ہر نئے بحران کو قسمت سمجھ کر قبول کر لیتے ہیں، ہر نئے ٹیکس کو مجبوری کہہ کر ادا کر دیتے ہیں اور ہر نئے ظلم کو وقتی کہہ کر بھلا دیتے ہیں۔ یہی خاموشی اس نظام کی سب سے بڑی طاقت ہے۔لیکن تاریخ گواہ ہے کہ جب ظلم حد سے بڑھتا ہے تو خاموشی ٹوٹتی ہے اور جب خاموشی ٹوٹتی ہے تو نظام لرزتے ہیں۔ آج وہی مقام آ چکا ہے۔ یہ صرف معاشی بحران نہیں، یہ اخلاقی دیوالیہ پن ہے۔ یہ صرف حکمرانی کی ناکامی نہیں، یہ ریاستی تصور کی شکست ہے۔
اب سوال یہ نہیں کہ حالات کب بدلیں گے، سوال یہ ہے کہ ہم کب بدلیں گے۔ کب ہم یہ فیصلہ کریں گے کہ ہم صرف ووٹ ڈالنے والی مشینیں نہیں، بلکہ ایک زندہ قوم ہیں؟ کب ہم یہ سمجھیں گے کہ تبدیلی صرف نعروں سے نہیں، عمل سے آتی ہے؟ کب ہم اپنے اندر وہ حوصلہ پیدا کریں گے جو ایک قوم کو غلامی سے آزادی تک لے جاتا ہے؟
یہ جدوجہد آسان نہیں ہو گی۔ اس میں قربانیاں ہوں گی، نقصان ہو گا اور شاید وقتی انتشار بھی۔ مگر اگر یہ قدم نہ اٹھایا گیا تو آنے والا وقت اس سے کہیں زیادہ بھیانک ہو گا۔ بھوک صرف جسم کو نہیں کھاتی، یہ انسان کی روح کو بھی ختم کر دیتی ہے اور جب ایک قوم کی روح مر جائے، تو وہ صرف ایک ہجوم بن کر رہ جاتی ہے بغیر شناخت، بغیر مقصد۔آج ہمیں فیصلہ کرنا ہے کہ ہم ہجوم بن کر جینا چاہتے ہیں یا قوم بن کر۔ ہمیں طے کرنا ہے کہ ہم اپنے بچوں کو ایک ایسا ملک دینا چاہتے ہیں جہاں وہ عزت سے جی سکیں، یا ایک ایسا نظام جہاں وہ بھی ہماری طرح صرف زندہ رہنے کی جنگ لڑیں۔یہ نظام خود نہیں بدلے گا، اسے بدلنا پڑے گا اور اسے بدلنے کے لیے سب سے پہلے ہمیں اپنے اندر کی غلامی کو ختم کرنا ہو گا۔ ہمیں سوال کرنا ہو گا، ہمیں جواب مانگنا ہو گا اور ہمیں اپنے حق کے لیے کھڑا ہونا ہو گا چاہے اس کی قیمت کچھ بھی ہو۔کیونکہ اب بات بہت آگے جا چکی ہے۔ یہ صرف سیاست کا مسئلہ نہیں، یہ بقا کا سوال ہے۔ یہ صرف حکومتوں کی ناکامی نہیں، یہ ایک پورے نظام کی شکست ہے کیونکہ ملک آج تباہی کے آخری کنارے پر کھڑا ہے اور یہ تباہی اوپر والوں کے لیے بحران نہیں، کاروبار ہے کیونکہ ہر بحران میں ان کے بینک بیلنس بڑھتے ہیں، ان کے محل اور جائیدادیں باہر بنتی ہیں۔ اگر اب بھی ہم نے اپنے اندر قوم بننے کا حوصلہ پیدا نہ کیا، تو آنے والا وقت صرف بھوک، جرم اور خانہ جنگی کی علامت ہو گا۔ ان حکمرانوں، بیوروکریٹس، سیاستدانوں، ذخیرہ اندوزوں اور سود خور سرمایہ داروں کے خلاف فیصلہ کن جدوجہد نہ کی گئی، تو یہ ملک صرف ایک جغرافیہ بن کر رہ جائے گا، قوم نہیں کیونکہ یا تو یہ نظام بچے گا، یا عوام کیونکہ دونوں اکٹھے نہیں بچ سکتے۔