Wed, September 16, 2026

اسمبلیوں سے استعفوں کا آپشن

اسمبلیوں سے استعفوں کا آپشن

چیئر مین تحریک انصاف بیرسٹر گوہر خان نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ وہ اب اسمبلیوں سے احتجاجاً بائیکاٹ کریں گے۔ اس سے پہلے سیاسی پنڈت اس بات کا ذکر کر رہے ہیں کہ ہو سکتا ہے کہ بانی پی ٹی آئی کا اگلا آپشن اسمبلیوں سے استعفوں کا ہو اور وہ اپنے ارکان پارلیمنٹ کو اسمبلیوں سے استعفوں کا حکم دے دیں۔ ایسا اس لیے کہا جا رہا ہے کہ بانی پی ٹی آئی پہلے بھی ایسا کر چکے ہیں۔ یہ بھی ممکن ہے کہ وہ اس کے بعد خیبر پختون خوا اسمبلی کو بھی تحلیل کر دیں۔ بانی پی ٹی آئی اگر ایسا کرتے ہیں تو یہ تحریک انصاف اور خود ان کے لیے گھاٹے کا سودا ہو گا اس لیے کہ اپنے تئیں وہ یہ سب جس مقصد کے لیے کر رہے ہیں اس میں رتی بھر بھی وزن نہیں اور آج کی تحریر میں انہی نام نہاد مقاصد کا پوسٹ مارٹم کریں گے۔ اسمبلیوں سے استعفوں کا بڑا مقصد یہ ہے کہ جب ملک کی ایک بڑی سیاسی جماعت استعفے دے کر اسمبلیوں سے باہر ہو جائے گی تو بین الاقوامی سطح پر اس پورے نظام پر سوالیہ نشان کھڑے ہو جائیں گے اور اس نظام کی وقعت ختم ہو کر رہ جائے گی۔ یہ بانی تحریک انصاف کی سوچ ہے حالانکہ جہاں تک بین الاقوامی سیاست اور تعلقات کی بات ہے تو اس میں کسی کی ذات یا کسی سیاسی جماعت کے مفادات کو دیکھ کر اتار چڑھائو نہیں آتا بلکہ یہ سب ہمیشہ ریاستوں کے آپس کے مفادات کے تابع رہتے ہیں اور اس بات کا تجربہ بانی پی ٹی آئی کو 2022 میں قومی اسمبلی سے مستعفی ہو کر اور پھر دو صوبوں کی اسمبلیاں تحلیل کر کے ہو چکا ہے لیکن اس کے باوجود بھی وہ اگر دوبارہ وہی حماقت کرنا چاہتے ہیں تو شوق سے کر سکتے ہیں اور حکومت کے پاس ان مستعفی ارکان کے استعفوں کو منظور کرنے یا نہ کرنے کے ساتھ ساتھ انہیں منظور کر کے ان نشستوں پر دوبارہ الیکشن کرانے سمیت کئی ایک آپشن موجود ہوں گے لیکن تحریک انصاف کے ہاتھ سے پارلیمانی طاقت سمیت کئی آپشن نکل جائیں گے۔ اب جن نام نہاد مقاصد کے لیے یہ سب کیا جا سکتا ہے اس پر بات ہو جائے۔
بات اگر بین الاقوامی سطح پر تعلقات کی کریں تو اس میں ہر ملک کی خارجہ پالیسی میں چند ممالک کی اہمیت ہوتی ہے جنہیں وہ کسی صورت ناراض نہیں کر سکتا۔ ان کے علاوہ دیگر ممالک کی ناراضی سے لے کر بہت سے دیگر آپشن اس کے لیے کوئی بہت بڑا مسئلہ نہیں ہوتے۔ اب اگر پاکستان کی بات کریں تو امریکہ کے علاوہ جن ممالک کی خاص اہمیت ہے کہ جنہیں وہ کسی صورت ناراض نہیں کر سکتا تو ان میں سعودی عرب، چین، ترکیہ، قطر، یو اے ای اور ایران شامل ہیں۔ اس کے علاوہ آئی ایم ایف اور یورپی یونین کی بھی اپنی ایک خاص اہمیت ہے۔ اب ان سب کے حوالے سے ایک ایک کر کے بات کرتے ہیں۔ سب سے پہلے اگر سعودی عرب کی بات کریں تو جس سعودی ولی عہد نے امریکہ سے واپسی پر اپنے جہاز کو آدھے راستے سے واپس امریکہ بھیج کر خان صاحب کو اتار دیا تھا تو اس کے لیے خان صاحب کی جماعت اسمبلیوں میں رہتی ہے یا نہیں رہتی اس سے کیا فرق پڑتا ہے۔ تحریک انصاف کے دور میں مشیر خزانہ رزاق دائود اور شہباز گل سمیت دیگر وزیر اور مشیر سی پیک پر جو تبرے بھیجتے رہے ان کی وڈیوز آج بھی یو ٹیوب پر موجود ہیں اور امریکہ سے آزادی دلوانے والے میرے قائد انقلاب نے امریکہ کو خوش کرنے کے لیے سی پیک پر کام کی رفتار کو اس حد تک سست کر دیا تھا کہ خطے میں گیم چینجر یہ منصوبہ ایک طرح سے رول بیک ہو کر رہ گیا تھا تو چین کو بانی پی ٹی آئی کی جماعت کے اسمبلیوں میں رہنے یا نہ رہنے سے کیا فرق پڑے گا اور وہ اس پر پاکستان سے کسی بھی قسم کے رد عمل کا اظہار کیوں کرے گا۔ جہاں تک ترکیہ کی بات ہے تو طیب اردوان کے ساتھ شریف فیملی کے ذاتی تعلقات ہیں اور پاک بھارت جنگ کے دوران جس طرح ترکیہ نے 2 ہزار جدید ترین ڈرون دے کر مددکی تو اسے بھی کوئی مسئلہ نہیں ہو گا۔ قطر اور یو اے ای کے حکمرانوں کے ریاست پاکستان کے ساتھ بڑے قریبی تعلق ہیں۔ ایران پاکستان کا ایک اہم پڑوسی ملک ہے اور ایران اسرائیل جنگ کے دوران پاکستان کی موجودہ رجیم نے ایران کے لیے کچھ تو ایسا کیا تھا کہ جس پر ایرانی پارلیمنٹ میں ’’تشکر پاکستان‘‘ کے نعرے بھی لگے تھے اور ایران نے سرکاری سطح پر تشکر پاکستان کا نغمہ بھی بنا لیا اور پھر وزیر داخلہ محسن نقوی کے اس بیان کو بھی ذہن میں رکھیں کہ ’’ایران کو اسرائیل پر جو فتح ہوئی اس کے پیچھے بھی وردی ہے‘‘۔
اس کے بعد جہاں تک آئی ایم ایف کی بات ہے تو بانی کی ہدایت پر تحریک انصاف کی جانب سے خط لکھنے کے باوجود بھی اگر پاکستان کے ساتھ قرض پیکیج پر معاہدہ ہو جاتا ہے تو اسے بھی کوئی فرق نہیں پڑتا کہ کون سی سیاسی پارٹی اسمبلی میں رہتی ہے اور کون سی نہیں رہتی۔ آخر میں یورپی یونین کی اگر بات کریں تو تحریک انصاف کی جانب سے یورپی یونین کو ہزاروں ای میلز بھیجی گئی کہ پاکستان کا جی ایس پی پلس سٹیٹس ختم کیا جائے اور ان ای میلز میں بھی پاکستانی ریاست کو ایک ولن کے طور پر پیش کیا گیا تھا لیکن نتیجہ کچھ نہیں نکلا تو یہاں بھی کوئی خاص فرق نہیں پڑے گا۔ آخر میں امریکہ سے بھی اسی طرح کا رسپانس آئے گا کہ جیسے ٹرمپ کے آنے پر بانی کی رہائی پر آیا تھا۔

ٹیگز: