دنیا بظاہر ترقی کے نئے دور میں داخل ہو چکی ہے، مصنوعی ذہانت، خلا تک رسائی کے منصوبے، ڈیجیٹل انقلاب اور جدید سائنسی دریافت انسانی تاریخ کے نئے باب رقم کر رہی ہیں۔ مگر اس چمکتی تصویر کی دوسری طرف زمین پر انسان بنیادی ضروریات کے لیے بھی جدو جہد کر رہا ہے۔ یہ وہ زمانہ ہے جہاں ترقی کے نعرے بلند ہیں مگر عام آدمی کی زندگی کی سانسیں کمزور پڑتی جا رہی ہیں۔ عالمی سطح پر معاشی عدم استحکام، جنگی صورتحال، توانائی کے بحران اور سپلائی چین کی مشکلات نے مہنگائی کو ایک عالمی رجحان بنا دیا ہے۔ پاکستان بھی اس عالمی صورتحال سے الگ نہیں ہے بلکہ یہاں مہنگائی کا دباﺅ زیادہ شدت کے ساتھ محسوس کیا جاتا ہے۔ آئے روز بڑھتی مہنگائی کے با عث عام آدمی کے لیے دو وقت کی روٹی کا حصول بھی ایک چیلنج بن گیا ہے۔ تعلیم اور صحت کے شعبے بھی مہنگائی کی زد میں ہیں، غریب والدین کے لیے بچوں کو معیاری تعلیم فراہم کرنا دشوار ہو چکا ہے۔ بیماریوں سے لڑنے کے لیے دوا اور غذا کی ضرورت ہوتی ہے لیکن ہماری بدقسمتی ہے کہ ہمارے ہاں دونوں کا ہی فقدان ہے۔ یہ کہنا بھی کسی صورت غلط نہیں ہو گا کہ عام آدمی کو یہاں میں زندگی کے مقابلے موت اب آسان اور باعثِ راحت لگنے لگی ہے۔ ہر حکومت تسلی دیتی ہے، پالیسی ساز وعدے کیے جاتے ہیں، لیکن حقیقت یہ ہے کہ غربت کی چکی میں پسنے والے افراد کے لیے عملی اقدامات کا فقدان ہے۔ امدادی پیکیجز اور وقتی ریلیف کا اعلان تو ہوتا ہے، مگر یہ وقتی سہارا کسی مستقل حل کا متبادل تو بالکل نہیں ہو سکتا۔ عام آدمی کی زندگی کی راحتیںآج کہیں کھو گئی ہیں، حالات یہ ہیں کہ سب کچھ وطنِ عزیز میں پیدا ہونے کے باوجود عام آدمی ان تمام نعمتوں سے محروم ہے وہ روز ان نعمتوں کو دیکھتا ہے انہیں حاصل کرنا چاہتا ہے مگر ان نعمتوں سے لطف اندوز ہونا اس کے نصیب میں نہیں۔ بیرونی قرضے بڑھتے جا رہے ہیں، ملک کے عوام خوار ہو رہے ہیں۔ غریب عوام زندگی کی بنیادی سہولتوں تک سے محروم چکی ہے۔ یہاں تنگ دستی کوئی انوکھی کہانی نہیں بڑھتی ہوئی مہنگائی، بے قابو بجلی کے بل، محدود ہوتے روزگار کے مواقع سب مل کر ایک ایسا دائرہ بناتے ہیں جس میں عام آدمی پھنستا چلا جاتا ہے۔ غربت صرف ایک معاشی حالت نہیں بلکہ ایک مکمل کیفیت ہے، ایسی کیفیت جو انسانی وجودکے ہر گوشے میں اتر کر اس کی سانسوں تک کو بوجھل کر دیتی ہے۔ یہ وہ آواز ہے جو اخباروں کی سرخی بنتی ہے اور نہ ہی ایوانوں میں سنائی دیتی ہے۔ یہ وہ مسلسل جنگ ہے جس میں انسان اپنے ہی خوابوں کے خلاف صف آرا ہوتا ہے۔ متوسط طبقہ جو کبھی استحکام کی علامت سمجھا جاتا تھا اب خاموش دباﺅ کے نیچے سانس لے رہا ہے۔ مکمل طور پر غریب ہے کہ سب چھوڑ دے نہ اتنا خوشحال کہ بے فکر ہو جائے۔ مہنگائی، محدود آمدنی اوربڑھتی ہوئی ذمہ داریوں کے درمیان یہ طبقہ ہر گزرتے دن کے ساتھ مزید دب رہا ہے۔ غربت کا اصل کرب صرف بھوک نہیں ہوتی بلکہ وہ احساس ہوتا ہے جو انسان کو ہر لمحہ یہ یاد دلاتا ہے کہ وہ کمزور پوزیشن میں ہے۔ ایک باپ جب اپنے بچے کی فیس ادا کرنے کے لیے قرض کی طرف دیکھتا ہے، ایک ماں جب بازار میں بچے کو بہلا کر صرف ضروری سامان ہی خریدتی ہے تو مفلسی معاشی بوجھ کے ساتھ ساتھ ایک خاموش ذہنی اذیت بن جاتی ہے۔ ایسی بے بسی جو انسان کو اندر ہی اندر توڑتی رہتی ہے۔ اسی کرب اور احساسِ محرومی کو عاصم رضا نے یوں لفظوں میں قید کیا ہے۔
مجھ سے شاید تری خوشیاں نہ خریدی جائیں
جتنے سکے ہیں مِری جیب میں ناکافی ہیں
یہی وہ مقام ہے جہاں محبت تو موجود ہوتی ہے مگر وسائل ساتھ نہیں دیتے اور انسان اپنی بے بسی کو اندر ہی اندر سہتا رہتا ہے جہاں انسان کا وقار سب سے زیادہ آزمائش میں آتا ہے۔ عزتِ نفس اور ضرورت کے درمیان ایک مسلسل جنگ چل رہی ہوتی ہے ہر شخص اپنی خود داری کو بچانے کی کوشش کرتا ہے مگر حالات باربار جھکنے پر مجبور کر دیتے ہیں۔ بدقسمتی یہ ہے کہ ہمارا سماج اس حقیقت کو سمجھنے کے بجائے اسے فرد کی ناکامی سمجھتا ہے۔ ہم یہ نہیں دیکھتے کہ مسئلہ کسی ایک شخص کی محنت یا نیت کا نہیں بلکہ ایک
پورے نظام کا ہے۔ روزگار کے محدود مواقع، معاشی پالیسیوں میں عدم توازن سب مل کر عام انسان کو مسلسل دباﺅ میں رکھتے ہیں۔ ہمارا معاشرہ ایسے تو ترقی کے نعروں سے بھرا ہوا ہے مگر ان کے سائے میں ایک بڑی تعداد بنیادی ضروریاتِ زندگی کے لیے ترس رہی ہے۔ پاکستان میں مہنگائی کی حالیہ لہر محض ایک معاشی اتار چڑھاﺅ نہیں بلکہ ایک ایسے نظام کی چھلک ہے جو عالمی حالات سے جڑ کر اندرونی معیشت کو براہ راست متاثر کر رہا ہے۔ تازہ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق اپریل میں مہنگائی کی شرح 20 ماہ کی بلند ترین سطح یعنی 10.9 فیصد تک پہنچ گئی جبکہ ایک سال قبل یہ شرح محض 0.28 فیصد تھی۔ یہ غیر معمولی اضافہ محض اعداد کا فرق نہیں بلکہ عام آدمی کی زندگی میں آنے والی تبدیلی کا اعلان ہے۔ یہ بتاتا ہے کہ عام آدمی کے لیے معیشت اب استحکام نہیں بلکہ روزانہ کا امتحان بن چکی ہے۔ اس اضافے کی ایک بڑی وجہ عالمی سطح پر پیدا ہونے والی کشیدگی خصوصاً آبنائے ہرمز کے گرد بڑھتا ہوا تناﺅ ہے۔ مہنگائی اب اعداد و شمار کا کھیل نہیں رہی یہ ہر دروازے پر دستک دیتی حقیقت ہے ایک عام آدمی کے لیے زندگی اب سہولت نہیں بلکہ مسلسل توازن کا نام بن چکی ہے۔ جہاں وہ ہر دن یہ فیصلہ کرتا ہے کہ کون سی ضرورت پوری کرے اور کس خواہش کو مو¿خر کر دے۔ یہ اب ایک ایسا ناسور بن چکی ہے جو غریب کی امید، خواب اور عزت نفس کو نگل رہی ہے۔ بازاروں میں قیمتیں بے لگام ہیں، فاقہ کشی اب صرف کہانیوں کا حصہ نہیں رہی، بلکہ لاکھوں گھروں کی روزمرہ کی حقیقت بن چکی ہے۔ ایسے میں حکمرانوں کے بلند و بانگ دعوے اور پالیسی سازوں کی خوبصورت تقریریں صرف زخموں پر نمک چھرکنے کے مترادف ہیں۔ وہ مزدور جو دن بھر مشقت کے بعد بھی دو وقت کی روٹی نہیں خرید سکتا، وہ نوجوان جو بے روزگاری کے ہاتھوں اپنی صلاحیتوں کو زنگ لگتے دیکھ رہا ہے، سب اس نظام پر ایک کھلا سوالیہ نشان ہیں۔ کیا یہ وہی ملک ہے جس کے آئین میں ہر شہری کے بنیادی حقوق کی ضمانت دی گئی تھی؟ کیا یہ وہی ریاست ہے جہاں مساوات اور عدل کے خواب دیکھے گئے تھے؟ ہمارا المیہ یہ ہے کہ جاہ پرستی، شاہ پرستی اور موقع پرستی نے سماج اور ملکی نظام کو کھوکھلا اور کمزور کر دیا ہے۔ ہمارے ملک کا یہ کیسا نظام ہے کہ جہاں رہنے والے کسی شمار میں نہیں، ان بے بس لوگوں کی بنیادی ضروریات پر کوئی توجہ نہیں۔