تحریر: زینب وحید
دنیا بھر میں موسمیاتی تبدیلیوں کی تباہی کی شدت میں اضافہ ہو چکا ہے، خاص طور پر مشرق اور مغرب دونوں ہی اس کا سامنا کر رہے ہیں۔ جہاں مشرق میں ماحولیاتی تبدیلی کے بارے میں کم بات کی جاتی ہے، وہیں مغربی ممالک میں اس تباہی کی آوازیں بلند ہو رہی ہیں۔ عالمی موسمیاتی ادارے (WMO) کی رپورٹ کے مطابق، جولائی 2023 میں گرمی نے تمام ریکارڈ توڑ دیے، اور یہ مہینہ گزشتہ ایک لاکھ 20 ہزار سال میں سب سے گرم ترین رہا۔ اقوام متحدہ کے سربراہ انتونیو گوتیرس نے اس صورتحال کو "گلوبل وارمنگ" کے خاتمے اور "گلوبل بوائلنگ" کے آغاز کے طور پر بیان کیا ہے۔
2023 کی پہلی ششماہی میں قدرتی آفات میں بے شمار اضافہ ہوا ہے۔ مارچ اور اپریل میں دنیا بھر میں شدید گرمی کی لہر نے تباہی مچائی، جبکہ جون میں سمندری طوفانوں نے تباہی کی اور جولائی میں سیلاب نے کئی شہروں کو متاثر کیا۔ پاکستان میں بھی موسمیاتی تبدیلی کے اثرات شدت اختیار کر چکے ہیں، جہاں خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں سیلاب اور طوفانی بارشوں نے شدید نقصان پہنچایا ہے۔
پاکستان کے لیے یہ ایک فیصلہ کن وقت ہے، کیونکہ موسمیاتی تبدیلی کے اثرات میں اضافے سے نہ صرف ماحول بلکہ ملک کی معیشت اور عوام کی زندگی بھی متاثر ہو رہی ہے۔ 2015 میں ہونے والے پیرس معاہدے میں عالمی درجہ حرارت کو 1.5 سے 2 ڈگری سینٹی گریڈ تک رکھنے کا وعدہ کیا گیا تھا، مگر دنیا نے اس پر عمل نہیں کیا، اور اب اس کے سنگین نتائج سامنے آ رہے ہیں۔
پاکستان میں کلائمٹ چینج کے اثرات کی شدت میں اضافہ ہو رہا ہے، خاص طور پر سندھ اور بلوچستان جیسے علاقے شدید گرمی اور قدرتی آفات کا سامنا کر رہے ہیں۔ محکمہ موسمیات کے مطابق، جون میں پاکستان کے مختلف شہروں میں گرمی اور بارشوں نے نئے ریکارڈ قائم کیے ہیں، جس کے نتیجے میں بجلی کے نظام میں خرابی، اسکولوں کی بندش، اور صحت کے مسائل پیدا ہوئے ہیں۔
پاکستان کے لیے سب سے بڑا چیلنج یہ ہے کہ وہ اس وقت کو ضائع نہ کرے اور فوری طور پر کلائمٹ چینج کے اثرات کو کم کرنے کے لیے مناسب اقدامات کرے۔ اسپین کی طرح پاکستان کو بھی "نیشنل ہیٹ ویو" کے نام سے ایک نظام بنانے کی ضرورت ہے تاکہ شہریوں کی حفاظت کی جا سکے۔
پاکستان کی حکومت کے پاس وسائل اور فنی صلاحیتیں موجود ہیں تاکہ وہ چھوٹے لیکن موثر اقدامات کر سکے جو موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات کا مقابلہ کرنے میں مدد دے سکیں۔ حالیہ کلائمٹ مارچ نے اس بات کو اجاگر کیا ہے کہ ہمیں اپنی پالیسیوں اور اقدامات کو کلائمٹ چینج سے ہم آہنگ کرنا ہوگا تاکہ ہم نہ صرف اپنے ماحول کی حفاظت کر سکیں بلکہ آنے والی نسلوں کے لیے بھی ایک بہتر مستقبل فراہم کر سکیں۔
اب وقت آ چکا ہے کہ ہم اپنی نیند سے بیدار ہوں اور کلائمٹ چینج کی تباہی سے بچنے کے لیے فوری اقدامات کریں، تاکہ پاکستان اور دنیا بھر کے لوگ محفوظ رہ سکیں۔