Wed, September 16, 2026

عشقیہ دکھڑے 

عشقیہ دکھڑے 

سیٹھ رضوان صاحب کی پرانی محبت ان سے دکھ درد کے اب بھی سو رستے نکال لیتی ہے۔ پرانی محبت کیا بس سیٹھ صاحب کو شادی کے بعد ایک خاتون سے محبت ہو گئی تھی۔ سیٹھ صاحب کی شادی کو چند دن ہوئے تھے اور خاتون کی شادی میں چند دن باقی تھے۔ مشرقی ٹریجڈی کے مطابق خاتون نے آنسوؤں کی لڑی میں بھیگی ہوئی آخری دس بیس ملاقاتیں کیں اور عارضی رخصت چاہی۔ 
مشرقی دستور کو مد نظر رکھتے ہوئے خاتون نے سیٹھ صاحب سے شادی کے فوراً بعد خاوند میں پائی جانے والی کمیوں کوتاہیوں کا تذکرہ شروع کیا۔ ساتھ ہی ان نعمتوں کی گنتی بھی شروع کی جن سے وہ سیٹھ صاحب کی کمپنی میں محظوظ ہو سکتی تھیں لیکن اس شادی نما ظلم کے ہونے سے وہ اس سب سے محروم ہو گئیں۔ وہ بتایا کرتی تھیں کہ کس طرح وہ سیٹھ صاحب کے گھر کو جنت نظیر بنا دیتیں اور اگر انھیں شادی کا ایک آدھ موقع دیا جاتا تو کیسے وہ سیٹھ صاحب کے گھر والوں کی خادمہ بن کر اپنی آخرت سنوارنے کا اہم فریضہ انجام دیتیں۔ یہی نہیں بلکہ ان کے پہلے سے موجود بچوں کو سینے سے لگائے رکھتیں آخر ان میں بھی سیٹھ صاحب ہی کا خون ہے۔ اس منصوبہ بندی میں ان کی پہلی بیوی کے لیے بھی خاصی جگہ نکل آتی تھی۔اب مشرقی مرد کی مانند سیٹھ صاحب کی آنکھیں بھر آنے لگیں اور اکثر اسی احساس سے مغلوب ہو کر بیوی کو قہر آلود نظروں سے دیکھ لیا کرتے تھے۔ کبھی کبھی بچوں کے سر پر اس شفقت سے ہاتھ پھیرتے جو ان کو اس کم سنی میں ہی اپنی نہ ہونے والی ماں کی جدائی کا احساس نہ ہونے دے۔سیٹھ صاحب دل کو تھام کر رہ گئے جب ان پر انکشاف ہوا کہ محبوبہ کا شوہر ایک نکما اور کم ظرف انسان ہی نہیں ہے بلکہ ایک ظالم آدمی بھی ہے۔ ادھر یہ دل تھامے موبائل کان سے لگائے بیٹھے تھے دوسری جانب سے ہلکی پھلکی سسکیوں کے ساتھ شوہر کے مظالم کی داستان جاری تھی۔ موصوفہ نے بتایا " میں یہ بات آپ کو کبھی نہیں کہتی لیکن جب اس ظالم آدمی نے مجھ پر ہاتھ اٹھایا تو۔۔۔۔ بس تو۔۔۔ زندگی کی ہر امید ہی ٹوٹ گئی۔ آنکھوں کے سامنے ایسا اندھیرا آیا جس نے ہر خواب کو چکنا چور کر دیا۔" خاتون کی آواز رندھ گئی۔ اس نے بات جاری رکھی " میں سوچ بھی نہیں سکتی تھی کہ آپ سے دور ہونے کی اتنی بڑی سزا یہ زندگی مجھے دے گی۔" سیٹھ کا دل محض دو ڈھائی گھنٹے کی کال سے ہی بوجھل ہو جاتا تھا۔ جب بھی ان سے ملاقات ہوتی وہ خاتون پر ہونے والے مظالم کا ذکر کرتے۔ پے در پے رونما ہونے والے واقعات نے سیٹھ صاحب کی شخصیت کو بری طرح مجروح کیا تھا۔ اب وہ کبھی کبھار جذباتی ہو کر لمبے بال اور عجیب و غریب مونچھیں رکھنے لگے تھے۔ دو چار مرتبہ کٹنگ کراتے ہوئے نائی سے قلمیں بھی اڑوا دی تھیں۔ حضرت سخت طبیعت کے حامل ہونے کے باوجود فیمنزم کے قائل ہونے لگے تھے۔ انھیں عورتوں کے حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیموں سے محبت ہونے لگی تھی۔ ایسی شاعری پسند فرمانے لگے تھے جن میں عورتوں کی جانب سے اظہار محبت کیا جائے، ایسی فلمیں نہایت دلچسپی سے دیکھنے لگے تھے جن کے اختتام پر عورت بیوہ ہو جاتی ہو۔ جن فلموں میں ہیروز زندہ بچ جاتے ہیں انھیں قطعاً پسند نہیں فرماتے تھے۔ جنوری کی ایک شام کال پر کئی گھنٹے بات کرنے کے بعد سیٹھ کی حالت غیر ہونے لگی۔ معلوم ہوا خاتون پر شوہر نے ظلم کے پہاڑ ڈھانا شروع کر دیئے ہیں۔ اور ایک ایسی خاتون پر جو امید سے ہے۔ سیٹھ کی اس نا امیدی اور غیر معمولی اضطراب کی وجہ ہمیں خاتون کا امید سے ہونا معلوم ہوا۔ خیر انھوں نے ٹوٹی پھوٹی ہمت جمع کر کے خاتون کو اس مشکل وقت میں تنہا نہ چھوڑنے کا فیصلہ کیا۔ خاتون نے بھی امید کا دامن ایسا تھاما کہ نا امیدی کو کبھی پاس بھی نہ پھٹکنے دیا۔ ادھر ان پر ظلم و ستم کے پہاڑ ٹوٹ رہے تھے ادھر چاند جیسے بیٹے کی آمد نے دل کا بوجھ کچھ ہلکا کر دیا۔ یہاں ہمارے سیٹھ صاحب کے دل پر بوجھ بڑھ گیا تھا۔ پہلی اولاد کی آمد کے کچھ عرصے بعد خاتون کو ظالم شوہر نے بے گھر کر دیا۔ بات کئی بار طلاق تک آن پہنچی۔ خاتون کی شکایتوں نے اب بد دعاؤں کی صورت اختیار کر لی تھی۔ سیٹھ صاحب کا اضطراب بڑھتا جا رہا تھا۔ جس دن سے محبوبہ والدین کے گھر آن پڑی تھیں سیٹھ صاحب اپنے گھر کا تفصیلی جائزہ لینے لگے تھے؛ کہاں کس حصے میں کتنی گنجائش باقی ہے۔ پھر ناگہاں انھوں نے ولیمے کے پرانے سوٹ کو نکال کر باہر نکالا۔ دو تین بار سائز اور فٹنگ بھی چیک کی۔ پھر ایک ہی گھر میں ہنسی خوشی زندگی بسر کرنے والی کئی عورتوں کی کہانیاں پڑھ ڈالیں جو اپنے مشترکہ شوہر کے ناز نخرے بخوشی اٹھا لیتی ہیں۔ ہم سیٹھ صاحب کو مسلسل مضطرب دیکھ رہے تھے۔ حالات اتنے خراب ہو چکے تھے کہ کسی بھی وقت خبر آ سکتی تھی۔ سیٹھ ہر کال پر ہڑبڑاہٹ سے ہیلو بولتے جیسے کیسی متوقع فیصلے پر پیشگی تعزیت کرنا چاہتے ہوں۔ کچھ ماہ بعد وہ شام آ ہی گئی سیٹھ صاحب نے ہیلو کہا، گہری سسکیوں میں دبی آواز میں کچھ سمجھ نہ پائے زور سے " کیا" کہا۔ خاتون نے بولنا شروع کیا۔ بہت ظالم شخص ہے۔ یہ تو انسان کہلانے کے بھی لائق نہیں ہے۔ آج تک دو لفظ بھی پیار کے نہیں بول پایا۔ مجھے لگتا تھا اولاد ہونے کے بعد سدھر جائے گا۔۔۔ لیکن نہیں۔۔ یہ جانتے ہوئے بھی ہاتھ اٹھاتا ہے کہ میں پھر امید سے ہوں۔۔۔" سیٹھ صاحب کے چہرے کے تاثرات بدلنے لگے۔ ان کی امیدوں پر پانی پھرتا دیکھ کر ہم نے کچھ بولنا چاہا لیکن انھوں نے ہاتھ کے اشارے سے منع کر دیا۔ خدا جانے کیسے ان کی تراشیدہ قلموں کے کچھ بچے کھچے بال کھڑے ہونے لگے تھے۔ سیٹھ صاحب نے سر کے بالوں کو کوڑے دان کی طرح کھنگالا اور ولیمے کا سوٹ واپس پلاسٹک کی پیکنگ میں رکھنے لگ پڑے۔

ٹیگز: