Wed, September 16, 2026

کرکٹ میں ہار اور جیت

کرکٹ میں ہار اور جیت

پاکستان کی کرکٹ ٹیم چمپئن ٹرافی ٹورنامنٹ سے باہر ہو چکی ہے۔ کرکٹ کے کھیل سے پاکستانی عوام کی زبردست جذباتی وابستگی ہے اور یہ آج سے نہیں ہے بلکہ گذشتہ کئی دہائیوں سے اس کھیل میں ہونے والی شکست و ریخت کے باوجود بھی اس کھیل سے پاکستان کے عوام کی جذباتی وابستگی اور محبت قائم ہے لیکن یہ بات بھی اپنی جگہ حقیقت ہے کہ پاکستانی کرکٹ کی تاریخ میں بہت کم ایسے مواقع آئے ہیں ک جب کرکٹ ٹیم سو فیصد قابل بھروسہ رہی ہو اور پورے یقین کے ساتھ اس کی کارکردگی کے حوالے سے کوئی بات کہی جا سکے۔ جب بھی کوئی بین الاقوامی ٹورنا منٹ ہوتا ہے تو بڑھا چڑھا کر ٹیم کی کارکردگی کو قوم کے سامنے پیش کیا جاتا ہے تا کہ قوم کی دلچسپی اس میں قائم رہے۔ قوم کی دلچسپی کو برقرار رکھنے کی ایک اور وجہ بھی ہے کہ اس کھیل کے ساتھ ساتھ ملکی سطح سے لے کر بین الاقوامی سطح تک اربوں کھربوں کی جوا انڈسٹری کا مفاد بھی جڑا ہوا ہے جو اس کھیل میں قوم کی دلچسپی کو کم نہیں ہونے دیتا ورنہ تو ایک زمانے میں جس قدر عروج ہاکی کے کھیل میں حاصل تھا اس کا عشر عشیر بھی کبھی کرکٹ میں حاصل نہیں رہا اور 1980سے لے کر1984تک ہاکی کے کھیل کا کوئی ایسا ٹائٹل نہیں تھا کہ جسے پاکستان نے اپنے نام نہیں کیا تھا۔ کرکٹ کا ورلڈ کپ تو ایک بار جیتا ہے جبکہ ہاکی میں چار مرتبہ ورلڈ کپ اور تین بار اولمپک کا ٹائٹل اپنے نام کیا لیکن 1994میں پاکستان نے آخری بار ہاکی کے میدان میں ورلڈ کپ جیتا تھا اور اس کے بعد اس کھیل میں ہم اس حد تک زوال کا شکار ہوئے کہ آخری بار تو ہم اولمپکس کے لئے کوالیفائی بھی نہیں کر سکے اور یہی وجہ ہے کہ ایک دور تھا کہ پوری قوم کوہاکی کے گیارہ کھلاڑیوں کے نام پتا ہوتے تھے لیکن آج کسی ایک کھلاڑی کا نام بھی معلوم نہیں ہو گا لیکن کرکٹ میں بار بار شکست اور بد ترین کارکردگی کے باوجود بھی قوم ابھی تک اس کھیل سے جذباتی وابستگی رکھتی ہے۔
کھیل میں ہار جیت ہوتی رہتی ہے اور یہ کھیل کا حصہ ہے لیکن جس ذلت آمیز انداز سے ہم ہارتے ہیں اصل افسوس تو اس پر ہے۔ ہم اپنا پہلا میچ ہی نیوزی لینڈ سے ہار گئے اورہندوستان سے ہارنے کے بعد تو ٹورنامنٹ میں رہنے کی کوئی امید باقی بچی ہی نہیں تھی لیکن ہمیشہ کی طرح اگر مگر کا کھیل شروع ہو گیا کہ اگر بنگلا دیش نیوزی لینڈ کو ہرا دے تو ٹورنامنٹ میں رہنے کا امکان باقی رہتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ نیوزی لینڈ کی ٹیم بنگلا دیش سے کیوں ہارتی۔ کیا ٹورنامنٹ کی دیگر ٹیمیں فقط ہمارے لئے کھیلتی ہیں یا ٹورنامنٹ میں ہار جیت کے فیصلے صرف ہمیں ٹورنامنٹ میں رہنے کے لئے ہوتے ہیں۔ یہ اگر مگر کا کھیل اور اعداد و شمار صرف حال کی بات نہیں ہے بلکہ یاد کریں تو دل ناتواں کی تسلی کے لئے ہم ہمیشہ ہی اس اگر مگر کے اسیر رہے ہیں اور حد تو یہ ہے کہ 1992کا ورلڈ کپ کہ جس کے ہم فاتح ہیں اس میں بھی ہم اسی اگر مگر کے گھن چکر میں پڑ گئے تھے لیکن اس وقت قسمت نے ساتھ دیا اور ہم ورلڈ چمپئن بن گئے لیکن تقدیر ہر بار تو مہربان نہیں ہوتی۔ دعاؤں کی بات تو دعا تو دیگر اقوام بھی کرتی ہوں گی۔ کسی نے صحیح کہا ہے کہ ٹیم کے کھلاڑی جتنے ذوق و شوق اور محنت سے ٹیلی وژن اشتہارات میں اداکاری کے لئے محنت کرتے ہیں اگر اتنی محنت اور توجہ کھیل پر رکھیں تو ان کی کارکردگی کہیں بہتر ہوتی۔ اس ہار جیت سے بھی بڑا مسئلہ یہ ہے کہ ہر مرتبہ ہارنے کے بعد ہم کوئی نہ کوئی عذر تراش کر قوم کے سامنے رکھ دیتے ہیں اور مستقبل کے لئے قوم کو پھر ٹرک کی بتی کے پیچھے لگا دیتے ہیں لیکن اپنی فرسودہ اور بیکار حکومت عملی کو بدلنے کو تیار نہیں ہیں۔ ہماری حکمت عملی ستر اور اسی کی دہائی سے آگے نہیں بڑھ سکی۔ اس دور میں ون ڈے میچ میں جیت کے لئے دو ڈھائی سو اسکور چل جاتا تھا لیکن اب ایسا نہیں ہے اور اسی ٹورنامنٹ میں آسٹریلیا نے انگلینڈ کے ساڑھے تین سکور کو بھی حاصل کر کے فتح حاصل کی ہے۔ دوسرا جب سے ہوش سنبھالا ہے اس وقت سے انتہائی تیسرے درجے کی حکمت عملی کو دیکھ رہے ہیں اور یہ حکمت عملی موجودہ دور میں کسی اور ٹیم میں نہیں دیکھی گئی کہ جب بھی بیٹنگ شروع کرنی ہے تو ایک روزہ میچ کو اس امید پر ٹیسٹ میچ بنا کر کھیلتے رہو کہ چالیس اوور کے بعد تیز کھیلیں گے لیکن ہوتا کیا ہے کہ چالیس اوور تک پہنچتے پہنچتے ہمارے سات آٹھ کھلاڑی آؤٹ ہو جاتے ہیں اور آخری اوورز میں باؤلرز رہ جاتے ہیں۔ یہ حکمت عملی اکثر ناکام رہی ہے اور فی زمانہ تو سمجھیں کہ اس قسم کی حکمت عملی ایک طرح سے متروک ہو چکی ہے اور جو بھی ٹیم میدان میں اترتی ہے تو اس کی کوشش ہوتی ہے کہ وہ پہلی بال سے تیز رفتاری کے ساتھ سکور کرنا شروع کرے اور کوئی شک نہیں کہ اس میں کامیابی بھی ملتی ہے اور ناکامی بھی لیکن کم از کم کوشش تو کی جاتی ہے۔
 ہم دفاعی چمپئن تھے لیکن ایک دفاعی چمپئن کی طرح عزت اور وقار کے ساتھ اپنے اعزاز کا دفاع نہیں کر سکے۔ ٹائٹل تو ہاتھ سے چلا گیا جس کا غم اپنی جگہ پر لیکن جس انداز سے یہ ٹائٹل گیا ہے اس کا علیحدہ دکھ ہے اور تیسرا دکھ یہ ہے کہ جس ہندوستان سے لڑ کر ہم نے دنیائے کرکٹ کا یہ انتہائی اہم ٹورنامنٹ اپنے ملک میں رکھوایا تھا وہ مقصد بھی پورا نہیں ہوا اور اگر ہندوستان فائنل میں پہنچ گیا جس کے واضح امکانات نظر آ رہے ہیں تو مزید شرمساری کا سامنا کرنا پڑے گا لیکن خیر اب جو ہونا تھا وہ ہو چکا لکیر پیٹنے کا کوئی فائدہ نہیں بلکہ اصل سوال تو یہ ہے کہ کیا اس شکست سے بھی ہم کوئی سبق سیکھیں گے اور مستقبل کے لئے قوم کو کوئی نیا لالی پاپ دے کر اسے پھر کسی ٹرک کی بتی کے پیچھے لگا ئیں گے یا اپنی حکمت عملی کو جدید عصری تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کی طرف جائیں گے۔

ٹیگز: