پاکستان کے مخدوش معاشی حالات، بڑھتی ہوئی بے روزگاری نے نوجوان کی ایک کھیپ ایک عرصے سے یورپ اور دیگر ممالک میں ڈیرہ ڈالنے کی خواہش مند ہے، وہ غیر قانونی سے طریقوں سے وہاں پہنچنے کی کوشش کرتے ہیں اور معمولی ملازمتیں اور روزگار بھی غیر قانونی طریقوں سے ہی حاصل کرتے ہیں، حالیہ عرصے میں روزانہ ہی خبر آتی ہے غیر قانونی کاروبار کرنے والے پاکستان میں معصوم لوگوں سے جنہیں کے پاس کوئی تعلیم بھی نہیں ہے انہیں بڑی رقم کے عوض یورپی ممالک میں بہتر مستقبل کے سہانے خواب دکھا کر کشتوں پر روانہ کردیتے ہیں، یہ صورتحال گو کہ صرف پاکستا ن میں نہیں دیگر ممالک جہاں ملازمتیں مشکل ہوگئی ہیں وہاں کے نوجوان بھی سہانے خوابوں کی تعبیر کیلئے کوشاں ہیں، انہیں بیرونی ملک کا جھانسہ دینے والے کا ایک مافیا ہے جنکی شاخیں ملک میں اور بیرون ملک ہیں پاکستان میں انسانی سمگلنگ ایک اہم مسئلہ ہے، جیسا کہ بہت سے دوسرے ممالک میں، سماجی، اقتصادی، سیاسی اور ثقافتی عوامل کے امتزاج کی وجہ سے ہے۔ پاکستان کی آبادی کا ایک بڑا حصہ غربت کی لکیر سے نیچے زندگی بسر کررہا ہے جسکی وجہ سے وہ یہ طریقہ اختیار کرتے ہیں، اور بیچ سمندر میں کشتی یا تو ڈوب جاتی ہے یا ڈبودی جاتی ہے۔ معاشی مواقع کے لیے مایوسی اکثر افراد کو سمگلروں کا شکار کرنے کا باعث بنتی ہے جو بیرون ملک یا شہری مراکز میں بہتر ملازمتوں یا ذریعہ معاش کا وعدہ کرتے ہیں۔پاکستان میں خلیجی ممالک میں بھی نوکری کا جھانسہ دینے والے نہ صرف نوجوانوں بلکہ خواتین کو بھی آجروں کے ہاتھوں غیر واضح اور بد نیتی کے معاہدوں کے ذریعے روانہ کردیتے ہیں سعودی عرب اور خلیجی ممالک میں اکثر یہ شکایات سامنے آتی ہیں نوجوان خواتین کو بیرون ملک ٹیچر کے معاہدوں پر بھیج کر انہیں باہر لیجا کر گھر کی صفائی ستھرائی اور ”خدامہ“ بنا لیا جاتاہے وہ گھر سے باہر نکل نہیں سکتیں کہ وہ اپنے سفارت خانوں قونصل خانوں میں جاکر شکایت کرسکیں، شکایت کر بھی دیں سفارت خانوں، قونصل خانوں کا عملہ بھی ”ماشاء اللہ“ ہے وہاں انکی شنوائی نہیں ہوتی اگر ہو بھی جائے ایک طویل وقت درکار ہوتا ہے اسطرح کے معاملات کو حل کرنے میں زندہ انسانوں کی سمگلنگ کے علاوہ ایک مافیا پاکستان میں انسانی اعضاء فروخت کرنے کا بھی کاروبار کرتا ہے، غربت میں اپنے بچوں کو مزدوری یا جبری شادیوں کے لیے بھی بھیجتے ہیں اور سمگلنگ میں حصہ ڈالتے ہیں۔ان سب معاملات کی وجوہات میں حکومتی نااہلی کے ساتھ ساتھ خواندگی کی کم شرح، خاص طور پر دیہی علاقوں میں، لوگوں کو ان کے حقوق اور سمگلنگ کے خطرات سے کم آگاہی ہے۔ سمگلر آگاہی کی اس کمی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے متاثرین کو روزگار، تعلیم یا شادی کے جھوٹے وعدوں سے دھوکہ دیتے ہیں۔پاکستان کے قانون نافذ کرنے والے اداروں کے پاس انسانی سمگلنگ سے مؤثر طریقے سے نمٹنے کے لیے اکثر وسائل، تربیت اور صلاحیت کی کمی ہے۔قانون نافذ کرنے والے اداروں اور سرکاری اداروں میں بدعنوانی سمگلروں کو معافی کے ساتھ کام کرنے کی اجازت دیتی ہے۔ ملک میں موجود مافیا بیرون ملک نوکریوں کا جھانسہ دیکر نوجوان خواتین کو بیرون ملک بھیج کر ان سے جسم فروشی جیسے مکروہ کام پر مجبور کرتے ہیں بیرون ملک زراعت، تعمیرات اور گھریلو کام جیسی صنعتوں میں سستی مزدوری کی بہت زیادہ مانگ ہے جو سمگلنگ کو ہوا دیتی ہے۔بچوں کو اکثر اینٹوں کے بھٹوں، قالین کی بُنائی اور دیگر شعبوں میں مزدوری کے لیے سمگل کیا جاتا ہے۔اگرچہ پاکستان میں انسانی سمگلنگ کے خلاف قوانین موجود ہیں، جیسے کہ افراد کی سمگلنگ کی روک تھام ایکٹ، 2018، جس پر عمل درآمد کمزور ہے۔ہمارے کرتا دھرتاؤں کی کرسی کی لالچ اور لڑائی میں ان سنگین معاملات پر کوئی توجہ ہی نہیں متاثرین اکثر انصاف تک رسائی سے محروم رہتے ہیں، اور سمگلروں کے خلاف قانونی چارہ جوئی بہت کم ہوتی ہے۔پاکستان انسانی سمگلنگ کے ایک وسیع علاقائی نیٹ ورک کا حصہ ہے، جس کے متاثرین کو مشرق وسطیٰ، یورپ اور ایشیا کے دیگر حصوں میں سمگل کیا جاتا ہے۔پاکستان اور امیر ممالک کے درمیان معاشی تفاوت غیر قانونی نقل مکانی کے لیے ترغیبات پیدا کرتا ہے، جس کا سمگلر فائدہ اٹھاتے ہیں۔انسانی سمگلنگ کی روک تھام کیلئے قوانین موجود ہیں FIAپر اسکی بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے مگر بد قسمتی تحقیق سے پتہ چلتا ہے کہ اسکے کارندے بھی اس میں ملوث ہوتے ہیں، وزارت داخلہ جب FIA پر سختی کرتی ہے تو بجائے اسکے وہ اپنی ذمہ داری میں اضافہ کریں وہ خوامخواہ ان قانونی طور پر ملک سے جانے والوں کی شک کی بنیاد بناکر انہیں ہوائی اڈوں پر روکتی ہے تاکہ وزارت داخلہ پر عوام کا دباؤ بڑھے اور سمگلنگ کے الزامات سے وہ بری الزمہ ہوجائیں تاہم، سمگلنگ کی بنیادی وجوہات کو حل کرنے، قانون کے نفاذ کو مضبوط بنانے اور کمزور آبادیوں کے تحفظ کے لیے بہت کچھ کرنے کی ضرورت ہے۔ انسانی سمگلنگ کا مقابلہ کرنے کے لیے حکومتی ایجنسیوں، سول سوسائٹی اور بین الاقوامی تنظیموں پر مشتمل ایک مربوط کوشش کی ضرورت ہے۔انسانی سمگلنگ کے دوران ہلاک ہونے والے پاکستانیوں کی تعداد کے بارے میں درست اعداد و شمار کا حصول جرم کی خفیہ نوعیت، کم رپورٹنگ اور ٹریکنگ کے جامع طریقہ کار کی کمی کی وجہ سے مشکل ہے۔ تاہم، گزشتہ برسوں میں ایسے متعدد
واقعات رپورٹ ہوئے ہیں جو انسانی سمگلنگ کے شکار افراد کو درپیش خطرات کو اجاگر کرتے ہیں، بشمول ٹرانزٹ کے دوران، حراست میں، یا استحصال کی وجہ سے ہونے والی اموات۔بحری راستوں سے غیر قانونی انسانی سمگلنگ کی وجہ سے خطرناک راستوں (جیسے ایران، ترکی اور بحیرہ روم کے راستے) سے غیر قانونی طور پر یورپ جانے کی کوشش کرنے والے بہت سے پاکستانی سفر کے دوران ہلاک ہو چکے ہیں۔انٹرنیشنل آرگنائزیشن فار مائیگریشن (IOM) کے مطابق حالیہ برسوں میں پاکستان سمیت جنوبی ایشیا کے ہزاروں تارکین وطن بحیرہ روم کو عبور کرنے کی کوشش کے دوران ہلاک یا لاپتہ ہو چکے ہیں۔جون 2023 میں، ایک ماہی گیری کی کشتی جس میں 700 سے زائد تارکین وطن تھے، جن میں بہت سے پاکستانی بھی شامل تھے، یونان کے ساحل پر الٹ گئی۔ یہ حالیہ برسوں میں انسانی سمگلنگ کے سب سے مہلک واقعات میں سے ایک تھا۔اطلاعات کے مطابق جہاز میں 300 سے زیادہ پاکستانی سوار تھے، کاش ہمارے ارباب اقتدار اس مکروہ ترین جرم کے حوالے سے فوری توجہ دیں۔ جس سے ہماری جگ ہنسائی بھی نہ ہو اور نوجوان کی محفوظ رہ سکیں۔