سیاست کسی بھی ملک کے انتظامی ڈھانچے کا حسن ہوتی ہے۔پاکستان کی سیاسی تاریخ میں جماعتوں کا عروج و زوال کوئی نئی بات نہیں لیکن جس تیزی اور شدت کے ساتھ پاکستان تحریکِ انصاف اپنے ہی بوئے ہوئے تضادات کی فصل کاٹ رہی ہے، اس کی مثال ملنا مشکل ہے۔ وہ جماعت جو کبھی ملکی سیاست میں ”تبدیلی“،”نظم و ضبط“ اور”جدید طرزِ سیاست“ کا استعارہ بن کر ابھری تھی آج خود اپنے ہی اندرونی خلفشار، تنظیمی نااہلی اور سیاسی ناپختگی کے بوجھ تلے دب کر بکھرتی نظر آ رہی ہے۔
پشاور میں صوبائی اسمبلی کے 22 ناراض ارکان کا چار گھنٹے طویل اور بند کمرہ اجلاس اور پارٹی کی قائم کردہ ”اسد قیصر کمیٹی“ سے ملاقات سے صاف انکار کوئی معمولی واقعہ یا عارضی گلہ شکوہ نہیں ہے۔ یہ اس بات کا بین ثبوت ہے کہ پارٹی کا داخلی شیرازہ اندر سے بری طرح بکھر چکا ہے اور مرکزی و صوبائی قیادت کا اپنے ہی منتخب نمائندوں پر سے کنٹرول اور اخلاقی جواز ختم ہو چکا ہے۔ یہ بحران پی ٹی آئی کی بتدریج ناکامی کا وہ رخ پیش کرتا ہے جس سے اب نظریں چرانا ممکن نہیں رہا۔اس پس منظر میں اگر پی ٹی آئی کے داخلی ڈھانچے کا جائزہ لیا جائے تو سب سے پہلا سوال اس کی سیاسی و جماعتی پختگی پر اٹھتا ہے۔ ناراض ارکان کا یہ دو ٹوک موقف کہ وہ پارٹی کے سینئر رہنما¶ں پر مشتمل کسی بھی ”ثالثی کمیٹی“ یا متبادل فورم کے سامنے پیش نہیں ہوں گے بلکہ صرف بیرسٹر گوہر اور علی امین گنڈاپور سے براہِ راست بات کریں گے، پارٹی کے تنظیمی ڈھانچے پر شدید اور کھلے عدم اعتماد کا اظہار ہے۔
ایک پختہ اور نظریاتی سیاسی جماعت افراد کے گرد نہیں بلکہ مروجہ اصولوں، ضابطوں اور اداروں کے گرد گھومتی ہے۔ جب ارکان اپنی ہی پارٹی کے بنائے گئے اعلیٰ اختیاری فورمز کو تسلیم کرنے سے انکار کر دیں تو یہ واضح ہو جاتا ہے کہ جماعت میں سیاسی پختگی، تنظیمی ڈسپلن اور ادارہ جاتی احترام نام کی کوئی چیز باقی نہیں رہی۔ ارکان کا یہ گلہ کہ”انہیں جان بوجھ کر دیوار سے لگایا جا رہا ہے“ اس تلخ حقیقت کو بے نقاب کرتا ہے کہ تحریکِ انصاف کے اندر اب کوئی نظریاتی وابستگی یا اجتماعی مقصد باقی نہیں رہا بلکہ اس کی جگہ ذاتی مفادات، دھڑے بندیوں، اور اقتدار کی کھینچا تانی نے لے لی ہے۔ یہ رویہ کسی سیاسی جماعت کا نہیں بلکہ ایک کچے سیاسی کلب کا ہوتا ہے جہاں ذاتی انا اصولوں پر مقدم ہوتی ہے۔سابق اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر اور سابق صوبائی وزیر شوکت یوسفزئی جیسے منجھے ہوئے سیاست دانوں کے رابطوں اور کوششوں کو یکسر مسترد کر دینا یہ ثابت کرتا ہے کہ پی ٹی آئی کا انتظامی ڈھانچہ مکمل طور پر مفلوج، غیر فعال اور کمزور ہو چکا ہے۔ کسی بھی سیاسی جماعت کا انتظامی ڈھانچہ اس وقت کمزور مانا جاتا ہے جب وہ اپنے اندرونی اختلافات کو بند کمرے میں حل کرنے کی صلاحیت کھو بیٹھے۔
سیاسی بقا کا اصول ہے کہ اختلافات کو افہام و تفہیم سے حل کیا جائے لیکن یہاں صورتحال یہ ہے کہ پارٹی کے مقتدر رہنما اپنے ہی ارکان کے سامنے بے بس نظر آتے ہیں۔ جب صوبائی حکومت اور پارٹی کی مرکزی قیادت اپنے ہی منتخب نمائندوں کے بنیادی تحفظات دور کرنے اور انہیں مطمئن کرنے میں ناکام ہو جائے تو عوام یہ سوچنے پر مجبور ہو جاتے ہیں کہ جو جماعت اپنے 22 ارکان کو نظم و ضبط کا پابند نہیں رکھ سکتی وہ ملک یا صوبے کے کروڑوں عوام کے مسائل اور انتظامی ڈھانچے کو کیسے سنبھالے گی؟
مزید برآں، ارکان کا وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کی کارکردگی پر کھل کر تنقید کرنا اور صوبے میں ”خراب گورننس اور بدعنوانی“ کے سنگین الزامات عائد کرنا دراصل اپنے ہی منہ پر طمانچہ مارنے کے مترادف ہے۔ خیبر پختونخوا جسے تحریک انصاف کا مضبوط ترین گڑھ اور سیاسی بقا کی آخری پناہ گاہ سمجھا جاتا تھا آج وہاں کے اپنے ہی ارکانِ اسمبلی حکومت کی کارکردگی اور میرٹ کی دھجیاں اڑانے پر ماتم کر رہے ہیں۔ یہ اس بات کا اعتراف ہے کہ پی ٹی آئی طرزِ حکومت (Governance) کے محاذ پر بھی بری طرح ناکام ہو چکی ہے۔یہ موجودہ بحران کوئی اچانک رونما ہونے والا حادثہ نہیں ہے بلکہ یہ پی ٹی آئی کی قیادت کی جانب سے پے در پے کی جانے والی سنگین سیاسی غلطیوں کا منطقی نتیجہ ہے۔ ایک طرف پارٹی مرکز میں روزانہ کی بنیاد پر احتجاج، جلسے جلوسوں اور”حقیقی آزادی“ کے بلند و بانگ دعوے کرتی تھکتی نہیں اور دوسری طرف اس کا اپنا ہی صوبائی اور تنظیمی ڈھانچہ اندرونی بغاوت اور خلفشار کی وجہ سے زمین بوس ہو رہا ہے۔
آج پاکستان کی عوام تاریخ کے شدید ترین معاشی بحران، مہنگائی اور بیروزگاری کا شکار ہے۔ ایسے کٹھن وقت میں عوام سیاسی جماعتوں سے سنجیدگی، تدبر، پختگی اور عوامی مسائل کے عملی حل کی توقع رکھتی ہے۔ لیکن پی ٹی آئی کی پوری سیاست کا محور عوامی مسائل کے بجائے مسلسل انتشار، اداروں سے ٹکرا¶، دھرنوں کی سیاست اور اب اپنے ہی ارکان کو منانے اور سنبھالنے پر مرکوز ہے۔ جب ایک جماعت عوامی امنگوں کا سودا کر کے صرف اپنے ذاتی اور سیاسی بقا کی جنگ میں مصروف ہو جائے، تو وہ عوام کی نظر میں ایک بڑا سوالیہ نشان بن جاتی ہے۔خیبر پختونخوا میں 22 ارکانِ اسمبلی کا یہ حالیہ احتجاجی دھڑا اور پارٹی فیصلوں سے صریح انحراف، پی ٹی آئی کی بتدریج اور حتمی ناکامی کا ایک واضح اور ناقابل تردید اشتہار ہے۔ یہ صورتحال ثابت کرتی ہے کہ تحریک انصاف اب ایک منظم، پختہ اور نظریاتی سیاسی قوت کے بجائے صرف ایک انتشاری ہجوم کی شکل اختیار کر چکی ہے جس کے پاس نہ تو کوئی واضح مستقبل کا لائحہ عمل ہے اور نہ ہی اپنے تنظیمی ڈھانچے کو برقرار رکھنے کی صلاحیت ہے۔
المختصر! جماعت کا غیر فعال تنظیمی نیٹ ورک، مصلحت پسندی پر مبنی فیصلے اور اپنے ہی مخلص لوگوں کا قیادت پر سے اٹھتا ہوا بھروسہ یہ بتانے کے لیے کافی ہے کہ پی ٹی آئی اب اپنی مقبولیت کے زوال کے اس دور میں داخل ہو چکی ہے جہاں سے واپسی کا راستہ بہت کٹھن ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج پاکستان کا شعور رکھنے والا عام شہری جو کبھی اس جماعت کو امید کی آخری کرن سمجھتا تھا اب پی ٹی آئی کی اہلیت، سنجیدگی اور ملک چلانے کی صلاحیتوں پر شدید ترین سوالات اٹھانے پر مجبور ہو چکا ہے۔ اگر قیادت نے اب بھی اپنی انتشاری اور ضدی سیاست کا قبلہ درست نہ کیا تو تاریخ گواہ ہے کہ اندرونی بغاوتیں بڑی سے بڑی سیاسی سلطنتوں کو خاک میں ملا دیتی ہیں۔