Wed, September 16, 2026

بلوچستان میں خون، پروپیگنڈا اور بیرونی کھیل

بلوچستان میں خون، پروپیگنڈا اور بیرونی کھیل


دہشتگردی ہمیشہ بارود سے شروع نہیں ہوتی، بعض اوقات یہ ایک نعرے، ایک جذباتی ویڈیو، ایک احتجاجی کیمپ اور ایک مخصوص بیانیے سے جنم لیتی ہے۔ بلوچستان میں آج یہی جنگ نئے انداز سے لڑی جا رہی ہے۔ ماضی میں دشمن پہاڑوں میں چھپ کر حملے کرتا تھا، مگر اب سوشل میڈیا، انسانی حقوق کے نعروں اور نوجوانوں کے جذبات کو ہتھیار بنایا جا رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بلوچستان میں بی وائی سی اور بی ایل اے کے تعلقات پر سوالات پہلے سے زیادہ شدت اختیار کر چکے ہیں۔
پاکستان دشمن عناصر نے ہمیشہ بلوچستان کو نشانہ بنایا۔ 1973 میں بلوچستان میں مسلح شورش شروع ہوئی، جس کے پیچھے بیرونی حمایت ہی کارفرماں تھی۔ ا±س وقت بھی ریاست کو کمزور کرنے اور نوجوانوں کو ریاست کے خلاف کھڑا کرنے کی کوشش کی گئی۔
14 دسمبر 2005 کو بلوچستان میں ایف سی اہلکاروں پر حملے، 2006 میں ڈیرہ بگٹی میں دھماکے، اور پھر گیس پائپ لائنز، ریلوے ٹریکس اور سیکیورٹی تنصیبات پر حملے مسلسل بڑھتے گئے۔ 2009 میں ایران سے تعلق رکھنے والے بلوچستان لبریشن فرنٹ (BLF) نے بھی حملوں میں شدت پیدا کی۔ ا±س دور میں دہشتگردی کا طریقہ مختلف تھا براہِ راست حملے، بم دھماکے اور ٹارگٹ کلنگ۔
مگر 2014 کے بعد ایک نئی حکمت عملی سامنے آئی۔ جب آرمی پبلک اسکول پشاور پر حملہ ہوا اور 144 معصوم بچے شہید ہوئے تو پاکستان نے ضربِ عضب اور ردالفساد جیسے آپریشنز کے ذریعے دہشتگردی کی کمر توڑ دی۔ پاک فوج نے قبائلی علاقوں سے لے کر کراچی تک دہشتگرد نیٹ ورکس ختم کیے۔ یہی وہ وقت تھا جب دشمن نے اپنی حکمت عملی تبدیل کی۔ اب بندوق کے ساتھ ساتھ “بیانیے” کی جنگ شروع کی گئی۔ اسی دوران بھارت کے کردار پر بھی سنگین سوالات اٹھے۔ مارچ 2016 میں بھارتی 
جاسوس کلبھوشن یادیو کی گرفتاری نے پاکستان کے اس مو¿قف کو تقویت دی کہ بلوچستان میں بیرونی مداخلت موجود ہے۔ پاکستان نے مو¿قف اختیار کیا کہ بھارت بلوچستان میں علیحدگی پسند گروہوں کی مالی اور خفیہ مدد کر رہا ہے تاکہ سی پیک جیسے منصوبوں کو نقصان پہنچایا جا سکے۔
2020 کے بعد صورتحال مزید خطرناک ہوئی۔ بی وائی سی کے جلسے، احتجاج، سوشل میڈیا کمپینز اور ریاست مخالف بیانیے نے نوجوانوں، خاص طور پر تعلیم یافتہ بلوچ خواتین، کو جذباتی طور پر متاثر کرنا شروع کیا۔ سیکیورٹی تجزیہ کاروں کے مطابق یہی وہ “پہلا مرحلہ” ہے جہاں ذہنی برین واشنگ اور ریاست سے نفرت پیدا کی جاتی ہے۔ پھر دوسرا مرحلہ آتا ہے جہاں انہی نوجوانوں کو بی ایل اے جیسے دہشتگرد نیٹ ورکس کے قریب لایا جاتا ہے۔
26 اپریل 2022 کو کراچی یونیورسٹی میں شاری بلوچ کا خودکش حملہ بلوچستان کی شورش میں ایک خطرناک موڑ ثابت ہوا۔ یہ پہلی بار تھا کہ ایک تعلیم یافتہ بلوچ خاتون کو خودکش بمبار کے طور پر استعمال کیا گیا۔ اس حملے میں تین چینی اساتذہ ہلاک ہوئے۔ سوال یہ پیدا ہوا کہ ایک پڑھی لکھی خاتون کو اس حد تک کون لے گیا؟ اس کے بعد 3 جون 2023 کو تربت میں سمیہ قلندرانی، اگست 2024 میں بیلہ حملے میں ماہل بلوچ، مارچ 2025 میں گوادر کے گنجٹون حملے، اور فروری 2026 میں نوکنڈی میں زرینہ رفیق بلوچ کے واقعات سامنے آئے۔ یہ سب اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ اب دہشتگرد تنظیمیں خواتین کو بھی “علامتی ہتھیار” کے طور پر استعمال کر رہی ہیں۔
یہ حکمت عملی نئی نہیں۔ سری لنکا میں تامل ٹائیگرز (LTTE) نے بھی 1990 کی دہائی میں خواتین خودکش بمباروں کا استعمال کیا تھا۔ داعش نے شام اور عراق میں نوجوان خواتین کو “شہادت” اور “مقدس مقصد” کے نام پر استعمال کیا۔ آج بلوچستان میں بھی وہی ماڈل مختلف نعروں کے ساتھ دہرایا جا رہا ہے۔ فرق صرف اتنا ہے کہ یہاں مذہب کی جگہ قومیت اور محرومی کے بیانیے کو استعمال کیا جا رہا ہے۔
سب سے افسوسناک پہلو یہ ہے کہ دہشتگردی کا سب سے بڑا نقصان خود بلوچ عوام اٹھا رہے ہیں۔ 2013 میں کوئٹہ کے ہزارہ ٹاو¿ن دھماکے ہوں، 2018 میں دالبندین حملہ، یا 2021 میں دشت اور گوادر میں سیکیورٹی اہلکاروں پر حملے ہر واقعے نے بلوچستان کے امن، معیشت اور تعلیم کو نقصان پہنچایا۔ چینی انجینئرز اور ترقیاتی منصوبوں پر حملے دراصل بلوچستان کی ترقی روکنے کی کوشش ہیں۔
پاکستان کی فوج اور قانون نافذ کرنے والے اداروں نے اس جنگ میں ہزاروں جانوں کی قربانی دی۔ کیپٹن کرنل شیر خان سے لے کر بلوچستان میں شہید ہونے والے جوانوں تک، یہ قربانیاں اس بات کا ثبوت ہیں کہ پاک فوج صرف سرحدوں کی نہیں بلکہ عوام کی حفاظت کی جنگ لڑ رہی ہے۔ اگر آج بلوچستان کے کئی علاقے دوبارہ ترقی کی طرف لوٹ رہے ہیں تو اس کے پیچھے انہی قربانیوں کا کردار ہے۔
یہ حقیقت بھی اہم ہے کہ ہر احتجاج کرنے والا دہشتگرد نہیں، اور ہر بلوچ ریاست دشمن نہیں۔ بلوچستان کے عوام محب وطن ہیں اور پاکستان کی طاقت ہیں۔ لیکن جب احتجاج کو دہشتگرد تنظیموں کے بیانیے کے لیے استعمال کیا جائے، جب لاپتہ افراد کے نام پر بعد میں دہشتگرد سامنے آئیں، اور جب نوجوانوں کو “مزاحمت” کے نام پر موت کی طرف دھکیلا جائے، تو پھر خاموش رہنا خطرناک ہو جاتا ہے۔
بلوچستان پاکستان کا دل ہے۔ دشمن چاہے بارود استعمال کرے یا سوشل میڈیا پراپیگنڈا، اس کا مقصد پاکستان کو کمزور کرنا ہے۔ مگر تاریخ گواہ ہے کہ یہ قوم دہشتگردی کے ہر روپ کو شکست دیتی آئی ہے، اور آج بھی پاکستان، اس کی فوج اور اس کے عوام ایک ہی صف میں کھڑے ہیں۔

ٹیگز: