کیلیفورنیا: مصنوعی ذہانت کی معروف کمپنی اوپن اے آئی نے مبینہ طور پر امریکی حکومت کے ساتھ روابط مزید مضبوط بنانے کے لیے کمپنی میں 5 فیصد ملکیتی حصہ دینے کی تجویز پیش کی ہے۔
برطانوی اخبار فنانشل ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق باخبر ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ تجویز کمپنی کی ممکنہ ابتدائی عوامی پیشکش (آئی پی او) سے قبل حکومتی سطح پر اعتماد بڑھانے اور ممکنہ اختلافات کو کم کرنے کی غرض سے سامنے لائی گئی۔
رپورٹ میں یہ بھی دعویٰ کیا گیا ہے کہ اوپن اے آئی نے دیگر امریکی مصنوعی ذہانت کی کمپنیوں، جن میں اینتھروپک بھی شامل ہے، کو مشورہ دیا ہے کہ وہ بھی امریکی حکومت کو اپنی کمپنیوں میں محدود ملکیتی حصہ دینے کے امکان پر غور کریں، تاکہ سرکاری اداروں اور نجی شعبے کے درمیان تعاون کو مزید فروغ دیا جا سکے۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب واشنگٹن انتظامیہ اہم ٹیکنالوجی اور معدنیات سے وابستہ کمپنیوں میں شراکت داری بڑھانے کی حکمت عملی پر عمل پیرا ہے۔ گزشتہ برس امریکی حکومت نے انٹیل میں تقریباً 10 فیصد اور ایم پی میٹیریلز میں 15 فیصد حصص حاصل کیے تھے۔
رپورٹ کے مطابق مصنوعی ذہانت کی تیزی سے ترقی کے باعث روزگار پر پڑنے والے ممکنہ اثرات اور عوامی خدشات میں اضافے کے پیش نظر اوپن اے آئی کی یہ تجویز حکومت کے ساتھ تعلقات مستحکم رکھنے اور مستقبل کے ریگولیٹری فریم ورک کو اپنے حق میں سازگار بنانے کی کوشش تصور کی جا رہی ہے۔
تاہم اس حوالے سے نہ اوپن اے آئی اور نہ ہی امریکی حکومت کی جانب سے تاحال کسی قسم کا باضابطہ مؤقف سامنے آیا ہے۔