پاک پتن کے سرکاری ہسپتال میں چھ روز کے اندر بیس بچے موت کے منہ میں چلے جائیں تو وزیراعظم پاکستان کو اس کا ذمہ دار ٹھہرانا مناسب نہیں پنجاب بھر کے مختلف ہسپتالوں میں اگر نوے فیصد بچے بذریعہ آپریشن پیدا ہو رہے ہیں تو اس کی ذمہ دار وزیراعلیٰ پنجاب نہیں ہیں انہوں نے بذات خود ہر زچہ کی ڈلیوری نہیں کرانی اس طرح وزیر صحت پر بھی کوئی ذمہ داری عائد نہیں ہوتی۔ سانحہ سوات میں ایک ہی مقام پر سترہ افراد سیلابی ریلے میں بہہ گئے تو اس کا ذمہ دار وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈا پور نہیں ہے اس نے مرنے والوں کو بیچ دریا بیٹھ کر ناشتہ کرنے اور پانی آنے کے بعد بھی سیلفیاں بنانے کا حکم نہیں دیا تھا لیکن اسکا مطلب یہ نہیں کہ کسی بھی حادثے کی ذمہ داری کسی بھی محکمے یا اسکے ذمہ دار افراد پر بھی نہیں ڈالی جا سکتی، زندگی کے ہر شعبے میں عوامی خدمت اور عوامی مسائل کے حل کیلئے محکمے موجود ہیں ہر محکمے میں ادارے میں ایک شخص کی سربر اہی میں ایک ٹیم موجود ہے اس سے باز پرس ضرور ہونی چاہئے فرائض میں غفلت، لا پروائی برتنے یا رشوت لینے کا جرم ثابت ہونے پر صرف معطلی کوئی سزا نہیں بلکہ عہدے سے بر طرفی کے علاوہ انسانی جانوں کے ضائع ہونے پر ان کے خلاف قتل کے مقدمے بھی درج ہونے چاہئیں مگر افسوس قتل کے جرم میں انہیں پھانسی پر لٹکانے کا چلن ہے جو بے گناہ تھے۔ انسانی جانوں سے کھیلنے والے ہر پھندے سے بچ جاتے ہیں۔
سانحہ سوات میں ایک خاندان کے دس دوسرے خاندان کے چار تیسرے خاندان کے دو اور ایک خاندان کا ایک نوجوان ڈوب کر ملک عدم کو پہنچ گئے جبکہ ملک کے مختلف سیاحتی علاقوں میں پانچ واقعات میں مختلف گاڑیاں گہری کھائیوں میں جاگریں ان میں مجموعی طور پر بیس افراد جاں بحق ہوئے، حادثات کے نتیجے میں ایک واقعے میں تین خواتین جو سگی بہنیں تھیں اپنے ایک بچے کے ہمراہ کرائے کی گاڑی میں سیاحتی مقام کی سیر کیلئے گئیں۔ گاڑی کھائی میں جاگری کوئی زندہ نہ بچ سکا۔
ایک اور واقعے میں گجرات کے تین نوجوان سیر سپاٹے کیلئے انہی علاقوں کی طرف گئے ان کی گاڑی حادثے کا شکار ہوئی کوئی شخص زندہ نہ بچا، ایک اور سیاحتی سفر پر نکلے چار افراد خانہ جاں بحق ہو گئے، بیرون ملک سے فیملی چھٹیاں گزارنے پاکستان آئی خاندان کے کچھ افراد واپس لوٹ گئے ایک نوجوان اپنے دوستوں کے پُرزور اصرار پر یہیں رک گیا اس نے والدین نے کہا کہ وہ اپنے دوستوں کے ساتھ ناردرن علاقوں کی سیر پر جا رہا ہے وہاں مختلف مقامات پر ویڈیوز بنانے کے بعد واپس جاکر انہیں اپنے یوٹیوب چینل پر اپ لوڈ کر کے پاکستان کے خوبصورت علاقوں کو دنیا کے سامنے پیش کرے گا یوں پاکستان میں ٹورازم کو فروغ دینے میں اپنا حصہ ڈالے گا۔ وہ دوستوں کے ہمراہ سیر کو نکلا انکی گاڑی بھی پھسل کر گہری کھائی میں جاگری چاروں دوست لقمہ اجل بن گئے، تمام حادثات افسوسناک ہیں جن کے گھر اجڑ گئے وہی جانتے ہیں یہ دکھ کیا ہے لیکن ایک حادثے کی خبر پڑھ کر اسکی ویڈیو دیکھ کر روح کانپ اٹھی، دو افراد یعنی میاں بیوی اپنے تین سالہ بچے کے ہمراہ ناردرن علاقوں کی سیر کو نکلے، رات دس بجے انکی گاڑی کو حادثہ پیش آیا اس وقت سڑک پر دور دور تک ان کے آگے یا پیچھے کوئی گاڑی نہ تھی۔ بچہ پچھلی سیٹ پر سویا ہوا تھا میاں بیوی خوش گپیوں میں مصروف تھے، گاڑی میں موجود میوزک سسٹم پر اپنی پسند کے گانے سنتے سفر طے کر رہے تھے۔ ایک مشکل موڑ پر گاڑی بے قابو ہو کر دریا کے کنارے جا گری جو خشک تو تھا لیکن سڑک سے سو فٹ گہرا تھا۔ میاں اور بیوی دونوں موقع پر ہی جاں بحق ہو گئے بچہ معجزانہ طور پر محفوظ رہا وہ گاڑی سے باہر جا گرا لیکن اسے خراش تک نہ آئی حادثہ رات دس بجے پیش آیا، حادثے کی خبر صبح دس بجے اس وقت ہوئی جب اس علاقے کے رہنے والے کچھ افراد ادھر آ نکلے انہوں نے دیکھا ایک الٹی ہوئی گاڑی کے قریب میاں بیوی کی لاشیں پڑی ہیں جبکہ تین سالہ بچہ ان کے قریب ایک پتھر پر بیٹا گم سم انہیں تک رہا ہے۔ بچے نے اس خطرناک علاقے میں تمام رات اپنے والدین کی لاشوں کے قریب کس طرح گزاری یہ سوچ کر بدن میں جھر جھری سی آجاتی ہے، اس علاقے میں سانپ، بچھو، جنگلی بلیاں اور کتے عام پائے جاتے ہیں جو جاندار کی تکہ بوٹی کرنے میں دیر نہیں لگاتے، بچہ اپنے والدین کی لاشوں کے پاس بیٹھا تھا، رات کیا سوچتا رہا ہوگا کوئی نہیں بتا سکتا، شاید وہ یہ سمجھا ہو دونوں سو رہے ہیں ابھی کچھ دیر بعد جاگیں گے اور اسے دودھ کا فیڈر بنا کر دیں گے، ننھا ذہن یہ سوچ بھی نہ سکتا تھا کہ اس کے ماں باپ ابدی نیند سو چکے ہیں، اس ہفتے میں ملک بھر میں بارشیں شروع ہو گئیں، کچے کو ٹھے ڈھے گئے، گھروندے ملیا میٹ ہو گئے جن کے تلے درجنوں افراد دب کر مر گئے مجموعی طور پر صرف تین دن میں 47 افراد جاں بحق ہو گئے، کچھ ایسے بھی تھے جن کے سر پر اشتہاری بورڈ یا بجلی کے کھمبے آ گرے۔
ذرا واپس سوات چلتے ہیں، سیر سپاٹے کے لئے آنے والوں کی کھال اتارنے کے لئے درجنوں ہوٹل موجود تھے بعض نے چارپائیاں پانی میں ڈال رکھی تھیں، پانی میں چارپائیوں پر بیٹھنے کا دس منٹ کا کرایہ دوسو روپے فی کس تھا۔ جب پانی چڑھنا شروع ہوا تو ان چارپائیوں کی نوار نکال کر صرف پندرہ منٹ میں ایک رسہ تیار کیا جاسکتا تھا۔ جسے ایک طرف نظر آنے والے درخت کے ساتھ باندھ دیا جاتا اور دوسری طرف کچھ لوگ اسے پکڑ کر کھڑے ہو جاتے یا کسی بھاری پتھر سے باندھ دیتے، پانی میں گھرے تمام افراد اس رسے کو پکڑ کر پار اتر سکتے تھے کیو نکہ پانی ابھی کمر سے اوپر نہیں پہنچا تھا، میں نے آرمی کی پوری بٹالین کو اس طرح ندی نالے دریا عبور کرتے دیکھا ہے اور خود بھی یہ کامیاب تجربہ کیا ہے، یہاں تو بہت زیادہ لمبے رسے کی ضرورت بھی نہ تھی، دریا کنارے کھڑے درجنوں افراد اپنی پگڑیوں سے بھی یہ رسہ بنا سکتے تھے، درجنوں افراد کے شانوں پر اڑھائی اڑھائی گز کی چادریں تھیں ان سے بھی رسہ بنایا جا سکتا تھا لیکن افسوس کچھ نہ ہو سکا۔ انہیں ریسکیو نہ کیا جا سکا۔ ڈپٹی کمشنر، اسسٹنٹ کمشنر، ڈی پی او، تھانے دار، ریسکیو کا عملہ سب اس کے ذمہ دار ہیں، سب سے زیادہ ریسکیو کا عملہ اور اسکا سربراہ جن کے پاس بوقت ضرورت ایک رسہ دستیاب نہ تھا۔ ہیلی کاپٹر اور کشتیوں کے بغیر بھی ڈوبنے والوں کی جانیں بچائی جا سکتی تھیں۔
جان بچانے کیلے وہاں بہت کچھ تھا
کچھ عقل نہ تھی ایک رسہ نہ تھا