Wed, September 16, 2026

اسرائیل کی جانب سے جنگ بندی معاہدے کیخلاف ورزیاں

 اسرائیل کی جانب سے جنگ بندی معاہدے کیخلاف ورزیاں

گزشتہ ماہ غزہ اور اسرائیل کی جنگ بندی کے حوالے سے ایک امید بنی کہ شاید حالات اب امن و امان کی جانب  بڑھیں مگر افسوس کہ اسرائیلی فوج نے جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی جاری رکھی اور غزہ پر فضائی حملے میں حماس کے عسکری ونگ القسام کے کمانڈر کو شہید کردیا۔ عرب سفارت کار نے دعویٰ کیا ہے کہ حماس رہنماؤں نے عرب ثالثوں کو اپنا ایک اہم اور حتمی پیغام پہنچا دیا ہے کہ اگر اسرائیل کی جانب سے مبینہ خلاف ورزیاں جاری رہیں تو وہ غزہ میں جاری جنگ بندی کو ختم کرنے کے لیے تیار ہیں۔ دوسری جانب غزہ میں سیز فائر کی خلاف ورزیاں ہیں، 5بچوں سمیت 21 افراد شہید ہوگئے ، سرد موسم سے بے گھر خاندانوں کی مشکلات میں اضافہ ہوگیا۔غزہ کے افق پر چھائے ہوئے سیاہ دھوئیں اور معصوموں کے خون سے رنگی ہوئی زمین آج ایک بار پھر اسی کربناک حقیقت کو دہرا رہی ہے کہ جنگ بندی کے معاہدے، بین الاقوامی قوانین، انسانی حقوق کی اپیلیں اور عالمی اداروں کی قراردادیں اسرائیل کی جارحیت کے سامنے بارہا بے بس ثابت ہو چکی ہیں۔
اسرائیلی فوج نہ صرف جنگ بندی کے اعلان کو یکسر نظرانداز کر رہی ہے بلکہ اس کے ساتھ ساتھ اپنی عسکری جارحیت کو مزید وسعت دیتے ہوئے غزہ کے ہر گوشے کو میدانِ جنگ میں تبدیل کر چکی ہے۔ تازہ ترین اطلاعات کے مطابق اسرائیلی فضائی حملے میں حماس کے عسکری ونگ القسام کے ایک اہم کمانڈر کو شہید کر دیا گیا۔ یہ واقعہ محض ایک فرد کی شہادت نہیں بلکہ جنگ بندی کے اس نازک معاہدے پر کھلی ہوئی ضرب ہے جو پہلے ہی کمزور بنیادوں پر کھڑا تھا۔ اس حملے نے غزہ میں جاری سیز فائر کے مستقبل پر سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں اور خطے میں امن کی امیدوں کو شدید دھچکا پہنچایا ہے۔حماس کی قیادت نے کہا ہے کہ وہ جنگ بندی کو منسوخ کرنے پر مجبور ہو جائیں گے، خطے کی صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیتا ہے۔ اس اعلان میں چھپی ہوئی بے بسی، اضطراب اور اضطراری فیصلہ سازی دراصل اس تلخ حقیقت کی نشاندہی کرتی ہے کہ غزہ کے عوام کتنی غیر انسانی صورتِ حال میں زندگی گزار رہے ہیں۔ وہ نہ صرف اسرائیلی بمباری کا سامنا کرتے ہیں بلکہ انسانی امداد کی عدم دستیابی، پناہ اور سہولیات کے فقدان، بھوک، سردی اور وباؤں جیسے چیلنجز بھی ان کے مقدر سے جڑے ہوئے دکھائی دیتے ہیں۔غزہ میں اسرائیلی حملوں نے جس طرح شدت اختیار کی ہے، وہ سیز فائر کی روح کے بالکل منافی ہے۔ جنگ بندی کے 10 اکتوبر کے اعلان کے بعد سے اب تک 318 فلسطینی شہید اور 788 زخمی ہو چکے ہیں، جب کہ جنگ، جو اکتوبر 2023ء میں شروع ہوئی، اب تک تقریباً 70 ہزار فلسطینیوں کی جان لے چکی ہے۔ستر ہزار کے قریب شہادتیں، ایک لاکھ ستر ہزار سے زائد زخمی،یہ اعداد محض اعداد نہیں بلکہ ایک ایسے المیے کی گہری تصویر ہیں جس کی نظیر شاید جدید انسانی تاریخ میں کم ہی ملتی ہے۔اسرائیل کی جانب سے غزہ سٹی کے مختلف علاقوں میں گھروں کی مسماری کی کارروائیوں میں بھی تیزی آ گئی ہے۔
فلسطینی سول ڈیفنس کے مطابق بفر زون میں 250 میٹر کا مزید اضافہ کر کے اسرائیل نے سیکڑوں خاندانوں کو ایسی جگہوں پر دھکیل دیا ہے جہاں پانی، بجلی، صفائی اور بنیادی ضروریات زندگی کا کوئی انتظام نہیں۔ یہ فیصلہ محض علاقوں کے قبضے یا عسکری حکمتِ عملی کا حصہ نہیں بلکہ اس کا براہِ راست تعلق اس اجتماعی سزا سے ہے جو اسرائیل غزہ کے شہریوں پر عرصہ دراز سے مسلط کیے ہوئے ہے۔ سرد موسم کی شدت نے ان بے گھر خاندانوں کی مشکلات میں کئی گنا اضافہ کر دیا ہے۔ نہ مناسب پناہ گاہیں، نہ کمبل، نہ گرم کپڑے، نہ وافر خوراک۔ یہ لوگ صرف اپنی سانسوں اور امید کے سہارے زندہ ہیں، اگر فوری انسانی امداد نہ پہنچی جنگ بندی کی پاسداری نہ کی گئی تو اموات میں مزید اضافے کا اندیشہ ہے، خصوصاً بچوں اور ضعیف افراد کے لیے صورتحال نہایت تشویشناک ہے۔ عرب میڈیا کے مطابق اسرائیلی حملوں، گھروں کی مسماری اور مکمل محاصرے نے غزہ کے شہر کو ایک ایسے کھنڈر میں بدل دیا ہے جہاں اب زندگی کی رمق تلاش کرنا بھی مشکل ہو چکا ہے۔ گنجان آباد علاقوں میں بھی اسرائیلی کارروائیاں جاری ہیں۔ ڈاکٹرز بغیر ادویات، بغیر بجلی، بغیر آلات کے زخموں سے نڈھال بچوں اور عورتوں کا علاج کرنے پر مجبور ہیں۔ ایسے میں عالمی برادری کی خاموشی اور بین الاقوامی اداروں کی بے عملی ایک ایسا باب رقم کر رہی ہے جسے تاریخ کبھی معاف نہیں کرے گی۔ عالمی طاقتیں محض اپیلوں اور بیانات پر اکتفا کر رہی ہیں۔طاقتور ممالک اپنی سیاسی ترجیحات کے بوجھ تلے انسانی جانوں کی قدر بھول چکے ہیں۔
ہر دن ایک نیا المیہ جنم لیتا ہے، ہر رات ایک نئی چیخ سنائی دیتی ہے۔اس پس منظر میں حماس کی جانب سے جنگ بندی کے خاتمے کی دھمکی محض سیاسی بیان بازی نہیں بلکہ حالات کی سنگینی کی حقیقی عکاس ہے۔ وہ ایک ایسی صورتِ حال کی طرف اشارہ کر رہے ہیں جہاں مزید صبر و تحمل کا مظاہرہ کرنا ممکن نہیں رہا۔ اگر اسرائیل مسلسل جارحیت جاری رکھتا ہے تو سیز فائر کا جاری رہنا خود ایک مذاق بن جائے گا۔ امن کا کوئی بھی معاہدہ باہمی اعتماد اور احترام کا محتاج ہوتا ہے۔ جب ایک فریق اس کی بنیادوں کو نقصان پہنچا رہا ہو تو دوسرے فریق سے صبر کی توقع نہیں کی جا سکتی۔اس وقت ضرورت اس امر کی ہے کہ عالمی برادری فوری طور پر عملی اقدامات کرے۔ صرف بیانات اور اپیلیں اس آگ کو نہیں بجھا سکتیں۔ 
حل یہ ہے کہ اسرائیل پر دباؤ ڈالا جائے کہ وہ جنگ بندی کی مکمل پاسداری کرے، فضائی حملے اور ڈرون حملے فوری طور پر روکے، بفر زون کی پالیسی واپس لے، انسانی امداد کی فراہمی میں رکاوٹیں دور کرے اور غزہ کے شہریوں کو بنیادی انسانی حقوق کے ساتھ زندہ رہنے کا موقع دے۔ اسی طرح عرب ممالک کو بھی اپنی سفارتی کوششیں تیز کرنی ہوں گی۔ خطے میں بڑھتی ہوئی بے چینی کو کم کرنے کے لیے انھیں مضبوط، متفق اور مؤثر مؤقف اختیار کرنا ہو گا۔اگر عالمی طاقتیں اور علاقائی قیادتیں اس وقت بھی خاموش رہیں، تو آنے والے دن مزید خوفناک ہوں گے۔ سیز فائر کا خاتمہ ایک نئی جنگ کو جنم دے سکتا ہے، جس کے نتائج نہ صرف غزہ بلکہ پورے مشرقِ وسطیٰ کے لیے تباہ کن ثابت ہوں گے۔ دنیا کو یہ سمجھنا ہو گا کہ غزہ صرف ایک جغرافیہ نہیں، بلکہ ایکانسانی سانحہ ہے۔ وہاں کے عوام صرف اعداد نہیں، بلکہ وہ لوگ ہیں جن کے خواب، خواہشات، ارمان، رشتے اور زندگیاں تباہ ہو چکی ہیں۔ ان کے لیے ہر دن قیامت ہے، ہر رات ماتم ہے۔وقت آ گیا ہے کہ عالمی ضمیر جاگے، دنیا امن کے لیے آواز اٹھائے، انصاف کے لیے عملی اقدام کرے اور فلسطینیوں کو اس ظلم سے نجات دلائے۔ ورنہ تاریخ یہی کہے گی کہ اکیسویں صدی میں انسانیت موجود تھی مگر انسان غائب تھا۔

ٹیگز: