پاکستان کی معیشت استحکام کی طرف جا رہی ہے۔ پی ٹی آئی کی 44ماہی حکومت نے قومی معیشت کو تباہی و بربادی کے دہانے تک پہنچا دیا تھا۔ تمام عالمی مالیاتی اور زری ادارے پاکستان سے ناراض ہو گئے تھے۔ پاکستان کو ملنے والی امدادیں گرانٹیں اور قرض مکمل طور پر رک گئے تھے۔ پاکستانی معیشت مکمل طور پر بدحالی اور تباہی کا منظر پیش کر رہی تھی۔ وزیراعظم عمران خان ڈالر کے 500 روپے تک پہنچنے کی نوید سنا رہے تھے۔ پاکستان کے پاس ضروری اشیا کی درآمد کے لئے ڈالر نہیں تھے۔ اشیا خورونوش بشمول کھانے کا تیل، دالیں و دیگر کی درآمدات کے لئے زرمبادلہ نہیں تھا۔ صنعتی پیداوار کے لئے درکار درآمدی مال ختم ہو گیا تھا، اس طرح صنعتی پیداوار تقریباً صفر ہو گئی تھی، اس طرح سرکاری خزانے کو ٹیکسوں کی صورت میں ملنے والی آمدنی خطرناک حد تک گر چکی تھی۔ عام تاثر یہی تھا کہ معیشت دیوالیہ ہونے لگی ہے۔ ایک رائے یہ تھی کہ عملاً معیشت دیوالیہ ہو گئی ہے، اب صرف اعلان ہونا باقی ہے۔معیشت کے بارے میں حقیقت اور تاثر ایک جیسا ہی تھا۔ عمران خان اور ان کی نالائق ٹیم سیاسی انتقامی کارروائیوں اور لین دین میں مصروف تھی۔ ٹرانسفر پوسٹنگ کا بازار گرم تھا۔ عوام بجلی، گیس، پٹرول اور اشیا خورونوش کی ادائیگیوں میں ڈوب چکے تھے۔ عمران خان بین الاقوامی سطح پر اپنی بے وقوفیوں کے باعث پاکستان کو سفارتی تنہائی کا شکار بنا چکے تھے۔ امریکہ ہو یا چین، سعودی عرب ہو یا امارات، ملائیشیا ہو یا ترکی پھر دوست اور برادر ملک کے ساتھ پاکستان کے تعلقات کشیدگی کا شکار ہو چکے تھے۔ ایسے میں تحریک عدم اعتماد کے ذریعے عمرانی دور حکمرانی کا خاتمہ ہوا اور شہباز شریف و اتحادی حکومت میں آئے اور پاکستان کو معاشی دیوالیہ سے بچانے کا مشن شروع ہوا۔ ایسے حالات میں سیاسی طور پر حکومت چلانا دیوانگی اور حماقت تھی لیکن ن لیگ نے سیاست کی بجائے قومی معیشت کو بچانے کا ذمہ لیا۔ سیاست کی قربانی دے کر قومی معیشت کو بچانے کا عمل یقینا قابل ستائش ہے لیکن ہمارے ہاں اس طرح کے اعمال کی ستائش کا رواج نہیں ہے۔ ویسے عوام کو نیک نیت یا اچھے خیالات کی بجائے عملی اور بہتر نتائج کی ضرورت ہے۔ عوام کو ضروریات زندگی، صحت و صفائی، تعلیم اور تفریح کے مواقع سے مطلب ہوتا ہے۔ ن لیگ اس حوالے سے اچھی شہرت کی بھی حامل ہے اور تعمیر و ترقی کی ایک تاریخ بھی رکھی ہے۔ گزرے تین سال کے دوران شہباز شریف و اتحادیوں بشمول کیئر ٹیکر حکومت نے بگڑتے ہوئے معاملات کو سنبھالا دیا ہے۔ اب ہماری معیشت کی بدحالی رک چکی ہے، بحالی کا کام شروع ہے۔ اختیار کردہ پالیسیاں رنگ لا رہی ہیں، ویسے ابھی بحالی کا عمل شروع نہیں ہوا ہے لیکن بدحالی اور تباہی کا عمل روک لیا گیا ہے۔ سخت پالیسیوں نے اثرات دکھانا شروع کر دیئے ہیں لیکن ابھی بحالی کی طرف سفر شروع نہیں ہو سکا ہے۔ معاشی بحالی کا تاثر پیدا ہونا ابھی کہیں ہوا ہے اصل مشکل بجلی و گیس کے معاملات ہیں۔ توانائی کے شعبے کا گردشی قرضہ معیشت کے جوڑوں میں بیٹھا ہوا ہے۔ گردشی قرضے سے جان چھڑائے بغیر معاملات بہتر نہیں ہو سکتے۔ مہنگی بجلی، مہنگی گیس اور مہنگا پٹرول عوام کے لئے قابل قبول ہے اور نہ ہی صنعتی شعبے کے لئے۔ عوام اس وقت حکومت وقت سے زیادہ خوش نہیں ہیں۔ پٹرول کی قیمتیں عالمی سطح پر گرتی قیمتوں سے مطابقت نہیں رکھتیں۔ حکمران ٹیکس وصولیوں کے ٹارگٹ پورا کرنے میں کامیاب نہیں ہو پا رہے ہیں۔ آئی ایم ایف کی شرائط پوری کی جا رہی ہیں۔ پوری تندہی سے ، پوری دیانتداری سے آئی ایم ایف کے معاملات پورے کئے جا رہے ہیں۔ ٹیکس وصولیوں کے اہداف سیدھے طریقے سے پورے نہیں ہو پا رہے، اس لئے ٹیکسوں کی شرح بڑھا کر، پٹرولیم لیوی بڑھا کر اور ایسے ہی دیگر عوام دشمن اقدامات اٹھا کر اہداف کو پورا کرنے کی کاوشیں کی جا رہی ہیں۔ جن کے باعث عوامی مشکلات میں کمی کی بجائے اضافہ ہو رہا ہے۔ عوامی مقبولیت کم ہوتی نظر آرہی ہے۔ یہ حکومت کی خوش قسمتی ہے کہ حکمران اتحاد کی دشمن جماعت خود ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے۔ داخلی لڑائی جھگڑوں کے ساتھ ساتھ کسی قسم کی دانش مند قیادت کی عدم موجودگی نے حکومت مخالفت کا خطرہ کم کیا ہوا ہے۔ کہا جا رہا ہے کہ 5اگست کی احتجاجی تحریک کسی صورت بھی کامیاب ہوتی نظر نہیں آرہی ہے۔ عمران خان فکری انتشار کا شکار ہیں اور ان کی پارٹی عملی انتشار میں گھری ہوئی ہے، ان کے معاملات دگرگوں ہیں۔ عمومی طور پر معاملات حکمرانوں کے ہوں یا عوام کے یا اپوزیشن کے درست نظر نہیں آرہے ہیں۔ ملک میں دہشت گردی کا ناسور پھیلتا نظر آرہا ہے۔ مسلح افواج کی کامیاب حکمت عملی اور لازوال قربانیوں کے باوجود معاملات قابو میں نہیں آرہے ہیں۔