جو گرجتے ہیں وہ برستے نہیں، اس سال خوب برسے، ندی نالے دریا بپھر گئے۔ 279 افراد جان سے گئے۔ املاک تباہ مگر گرجنے برسنے والوں کا انجام ندی نالوں کا پانی دریا اور دریائوں کا تباہی مچاتا سیلاب طاقتور سمندر لے گیا۔ دریائوں میں ریت اڑنے لگی۔ نظام قدرت میں کوئی تبدیلی نہیں۔ بلند و بالا پہاڑ حتیٰ کہ آسمان بھی اس ’’میزان‘‘ کو نقصان نہیں پہنچا سکتا۔ ارشاد ربی۔ ’’ولا تخسرو المیزان‘‘ انسانی نظام یکسر مختلف، ہر نظام میں فائدے کم خرابیاں زیادہ، جمہوریت میں بندوں کو گنا کرتے ہیں تولا نہیں کرتے۔ گنے چنے بندوں کو صرف گرجنے کے لیے رکھا جاتا ہے۔ تولے جانے اور برسنے والے جمہوری نظام کی بھینٹ چڑھ جاتے ہیں۔ ملک میں یہی کچھ ہو رہا ہے۔ گرجنے والے خوب گرجے، تیرا باپ بھی دے گا آزادی ہم لے کے رہیں گے آزادی، برسنے کا وقت آیا تو دوڑ لگا گئے۔ سانس اکھڑ گئی۔ طاقتوروں سے اچھے تعلقات کو غنیمت جانا اور سزائوں سے بچ گئے جبکہ برسنے والے خوفناک سزائوں سے دوچار، جیل میں بیٹھا کسی نامعلوم انقلاب کا داعی دو سال سے رنگ بدلتے لیڈروں، گھنائونے چہروں بزدل اور موقع پرست بڑھک بازوں کی تاریخ مرتب کر رہا ہے۔ تاریخیں تو اور بھی لکھی جا رہی ہیں، کفن پوش بھاگ گئے گورکنوں نے جمہوریت کی قبریں کھود دیں، توقعات سے بڑھ کر معاوضے وصول کیے اور پھر خود بھی قبروں میں جا سوئے جو زندہ ہیں مانند مردہ جمہوریت کا حشر ہوتے دیکھ رہے ہیں۔ پچھلی صدی کے قلندر نے کہا تھا ’’خرد کو غلامی سے آزاد کر، جوانوں کو پیروں کا استاد کر‘‘ جوانوں نے خرد کو پیش کے ساتھ خورد پڑھا اور کھانے پینے کے راستے ڈھونڈتے ڈھونڈتے ملک دشمنی پر اتر آئے۔ آزادی کہاں ملی، پیر و مرشد اسیر ہوئے جوان پیروں کے استاد بننے کے بجائے ان سے بھی استادی کرنے لگے۔ انجام کیا ہوا؟ زمانے کے انداز بدلے گئے، نیا راگ ہے ساز بدلے گئے۔ ناتجربہ کار نعرے بازوں کو بدلے انداز، نئے راگ اور نئے سازوں کا اندازہ ہی نہ ہو سکا۔ پہلے پیروں کو دس دس سال سزا ہوئی ان کے پیچھے جوان بھی جوانی کے دس سال گنوانے کے لیے پابند سلاسل ہوئے۔ اصل کہانی باقی مگر تمہید طولانی، سانحہ 9 مئی 2023ء سوچی سمجھی سازش بغاوت کی ناکام کوشش ملک دشمنی کا کھلا مظاہرہ ’’جو نہ مانے وہ اناڑی ہے‘‘ پلانر دو سال سے جیل میں انجوائے کر رہے ہیں راستہ دکھانے والے کا کورٹ مارشل مکمل سزا میں کچھ وقت لگے گا۔ اکسانے والے 5 پیر استاد بھی باقی 8 سال کوٹ لکھپت جیل میں گزاریں گے۔ ان کے بہکاوے میں آ کر فوجی تنصیبات کو آگ لگانے اور لوٹ مار کرنے والے 284 جذباتی نوجوانوں میں سے 196 کو دس دس سال قید کی سزا سنا دی گئی۔ 84 بری ہو گئے۔ سزا یافتگان 5 اگست سے پہلے باہر آ گئے تو ہم لے کے رہیں گے آزادی کے نعرے لگاتے پھر پکڑے جائیں گے جن کو سزائیں سنائی گئیں ان میں قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف عمر ایوب، سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر شبلی فراز، پارلیمانی لیڈر زرتاج گل اور سنی اتحاد کونسل کے حامد رضا سمیت متعدد لیڈر اور کارکن شامل ہیں، اعلیٰ عدالتوں میں بری نہ ہوئے تو نا اہل رہیں گے اس طرح سپیکر کو مائیک بند کرنے اور اجلاسوں میں شرکت پر پابندی لگانے کی ضرورت نہیں پڑے گی۔ اپوزیشن لیڈر کون ہو گا۔ ذرائع شاہ محمود قریشی یا عامر مغل کا نام لے رہے ہیں۔ شاہ محمود قریشی کو ضمنی الیکشن میں کامیابی کے بعد قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر بنایا جا سکتا ہے۔ 9 مئی پی ٹی آئی کو لے ڈوبا سزائوں اور نا اہلیوں کا طوفان سب کچھ بہا لے گیا۔ سارے ملزم مجرم بنتے ہی نا اہل قرار پائے، نوٹیفکیشن جاری، پوری پارٹی قانونی شکنجے میں پھنس گئی۔ ’’اب کسے رہنما کرے کوئی‘‘ سزائیں ختم نہیں ہوئیں دراز زلف وزیر اعلیٰ سمیت 108 کے وارنٹ گرفتاری، نرم مزاج گرم مزاج باقی لیکن طاقتوروں کو ان سے کوئی خطرہ نہیں، مفرور اور اشتہاریوں کی اکثریت دراز زلف کے وزیر اعلیٰ ہائوس میں روپوش مجرموں کو پناہ دینا تغریرات پاکستان کی دفعہ 216 کے تحت جرم گنڈا پور کی کرسی ہچکولے کھانے لگی۔ زبان دراز وزیر اعلیٰ کا ایک خوفناک اور ملک دشمن بیان بھی منظر عام پر آ گیا جس میں انہوں نے طالبان کی گرفتاریوں اور رہائی کے سلسلے میں اداروں کو مطعون کیا۔ اس بیان کے بعد بھارت نے پاکستان کو گرے لسٹ میں ڈالنے کے لیے ایف
اے ٹی ایف کو خط لکھ مارا۔ خواجہ آصف نے بیان کی مذمت کی۔ مگر ’’بیان باز سیاں‘‘ اب تک آزاد خان کے دھرنوں سے لے کر اب تک جلائو گھیرائو توڑ پھوڑ کے نعرے لگانے والے اپنے شیخ رشید کے بھانجے راشد شفیق کو دو الزامات میں سزا ہوئی وہ مسجد نبویؐ میں ہلڑ بازی میں بھی ملوث تھے۔ سزا ہونا تھی کلیجہ پر ہاتھ پڑا تو شیخ صاحب کو خدا یاد آیا مگر ہائے کم بخت کو کس وقت خدا یاد آیا خود تو 40 روزہ چلہ کاٹ کر بچ گئے مگر بھانجے کو نہ بچا سکے۔ پی ٹی آئی نے اے پی سی بلائی اپوزیشن کی وہ جماعتیں شامل ہوئیں جن کا پارلیمانی سیاست سے اڑوس پڑوس کا رشتہ ہے۔ مصطفی نواز کھوکھر نے ایک فارم ہائوس کا انتظام کیا۔ تقریروں کے دوران مبینہ طور پر کچھ دیر کے لیے غائب ہو گئے۔ واپس آ کر اعلامیہ پڑھا، خان اور اسیران کی رہائی کا مطالبہ پی ٹی آئی کے کہنے پر شامل کیا گیا اصل مسئلہ میثاق جمہوریت تھا۔ کسی نے نہیں پوچھا کہ کیا خان ن لیگ اور پی پی کے ساتھ بیٹھنا پسند فرمائیں گے؟ سیدھا جواب ہرگز نہیں جب ایسا ہے تو اے پی سی کا فائدہ، نرم مزاج بیرسٹر گوہر نے آئندہ لائحہ عمل کا اعلان کیا کہ ہم سزائوں کو چیلنج کریں گے۔ احتجاج ہو گا۔ 5 اگست سے شروع ہونے والی تحریک کی قیادت محمود خان اچکزئی کریں گے۔ خان کے بیٹے نہیں آئیں گے۔ انہوں نے ویزوں کے لیے درخواستیں دیں طلال چوہدری نے علیمہ باجی سے پوچھ لیا کہ سچائی بتائیں ان کے پاس نائکوپ ہے تو وزیروں کی ضرورت نہیں، نہیں ہے تو وہ پاکستانی نہیں، 5 اگست کو کیا ہو گا؟ کل دیکھا جائے گا بچے کھچے پیر و جواں بھی پکڑے جائیں گے۔ ایک بھاری بھرکم تجزیہ کار دور کی کوڑی لائے کہ 280 ارکان اسمبلی نے اپنے استعفے لکھ دئیے ہیں جس سے پورا نظام تلپٹ ہو جائے گا اور حکومت مقتدرہ کے ساتھ مشاورت کے بعد خان کو رہا کرنے پر مجبور ہو جائے گی۔ ’’اندھے کو اندھیرے میں بڑی دور کی سوجھی، کون سے ارکان کس کے ارکان بلا کا اعتماد رکھنے والے اینکر پرسن اور تجزیہ کار محتاط رہیں فیک نیوز پھیلانے والے بھی پکڑے جا رہے ہیں۔ سعید چوہدری کو کہیں سے خبر ملی ہے کہ اہم فیصلے ہو گئے ہیں فیصلے تین سال سے ہو رہے ہیں لیکن عملدرآمد کی رفتار شمالی کوریا اور ایران جیسی نہیں۔ گڈی کاٹنے کی بجائے ڈھیل پر ڈھیل دی جا رہی ہے۔ ’’اڑتی سی اک خبر ہے زبانی طیور کی‘‘ گنڈا پور نے کسی ایلچی کے ذریعے میاں نواز شریف سے ملاقات کی خواہش ظاہر کی ہے میاں صاحب زیر لب مسکرائے اور انکار کر دیا۔