Wed, September 16, 2026

صرف چوبیس گھنٹے

صرف چوبیس گھنٹے

ڈیگو گارشیا میں امریکہ نے جدید ترین فائٹر اور عیار جہازوں کے علاوہ اپنے بحری بیڑے کے جہاز پہنچائے تو دنیا میں ایک مرتبہ بھونچال کی سی کیفیت پیدا ہو گئی ہے۔ خیال کیا جا رہا ہے کہ غیر ضروری جنگوں کو بند کرنے کا دلفریب نعرہ لگا کر انتخاب جیتنے والا امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سی آئی اے، پینٹاگون اور نظر نہ آنے والوں کے شکنجے میں آ گیا ہے اور اب انہی کی بنائی گئی پالیسیوں پر چلے گا۔ عہدے کا حلف اٹھانے کے بعد جو چند دھواں دھار شاٹ کھیلے گئے ان کے بعد واہ واہ تو ہوئی لیکن اب انہیں جلد ہی سمجھ آ گئی یا سمجھا دیا گیا کہ اس طرز عمل سے کنارہ کش ہونا پڑے گا۔ امریکہ کو ایران سے کوئی خطرہ نہیں ہے لیکن چونکہ اسرائیل اسے اپنے لئے خطرہ سمجھتا ہے لہٰذا وہ اسی منافقانہ پالیسی پر چل رہا ہے اور نشیب میں کھڑے میمنے کو دھمکا رہا ہے کہ اس کی طرف سے آنے والا پانی آلودہ ہو رہا ہے۔ میمنہ اور تمام امن پسند دنیا بھیڑیئے کو سمجھا رہی ہے کہ تم بلندی پر کھڑے ہو، پانی بلندی سے نشیب کی طرف بہہ رہا ہے یعنی تمہاری طرف سے میمنے کی طرف جا رہا ہے تو خراب نہیں ہو رہا نہ ہی اس حوالے سے میمنے کو قصوروار ٹھہرایا جا سکتا ہے لیکن بھیڑیا یہ تسلیم کرنے کو تیار نہیں اس کے عزائم واضح ہیں۔ بھیڑیئے کا طرزعمل وقت کے ساتھ بدلتا رہتا ہے۔ چند ماہ میں اس نے متعدد مرتبہ اپنا موقف بدلا ہے۔ اسے سمجھنے کے لئے ایک پرانا مگر زمانے میں مقبول لطیفہ یاد آتا ہے۔ ایک پہلوان نما شخص ٹرین کے ڈبے میں داخل ہوا، دائیں بائیں نظر ڈالی کوئی سیٹ خالی نہ تھی۔ اس کی نظر ایک کمزور سے شخص پر پڑی۔ وہ وہاں پہنچا اور سب سے مخاطب ہو کر کہنے لگا پڑے ہٹ کر بیٹھ مجھے جگہ دو، کمزور شخص نے جواب دیا یہاں جگہ نہیں ہے۔ پہلوان نما شخص دھاڑتے ہوئے کہا تم جانتے نہیں میں کون ہوں۔ کمزور شخص ڈر گیا اور ایک کونے میں سمٹ گیا۔ پہلوان آدھا سیٹ پر اور آدھا آس پاس بیٹھے لوگوں پر بیٹھ گیا۔ اگلے سٹیشن پر گاڑی رکی تو پہلوان چہل قدمی کیلئے پلیٹ فارم پر چلا گیا۔ اسی اثناء میں ایک شخص ٹرین کے ڈبے میں داخل ہوا تو خالی جگہ دیکھ کر پہلوان کی سیٹ پر بیٹھ گیا، ٹرین رینگنے لگی تو پہلوان بھی ڈبے میں سوار ہو گیا، اس نے اپنی جگہ بیٹھے شخص سے کہا یہاں سے اٹھو۔ یہاں میں نے بیٹھنا ہے۔ دوسرے شخص نے جواب دیا یہ سیٹ کسی کی ملکیت نہیں ہے۔ خالی تھی میں بیٹھ گیا۔ پہلوان نے پرانا دائو آزمایا، تم جانتے نہیں میں کون ہوں، اس کی سیٹ پر بیٹھے شخص نے اس سے زیادہ اونچی آواز میں جواب دیا کون ہو تم، اوئے تم ہو کون، پہلوان جی کی تمام پہلوانی کافور ہو گئی، میں میں کرتے بولے، جی میں بیمار آں۔ 
ٹرمپ نے غزہ خالی کر دو ہم چھ ماہ میں ملبہ ہٹائیں گے اور تعمیرنو کریں گے تاکہ اسرائیل کو مزید زمین مل سکے۔ اس کے پاس زمین بہت کم ہے۔ اتنی سی جگہ پر کوئی ملک کیسے قائم ہو سکتا ہے۔ فلسطینی ڈٹ گئے۔ انہوں نے صاف انکار کر دیا۔ ٹرمپ نے لالچ دیا میں غزہ خرید لوں گا اور فلسطینیوں کو ان کی جگہ کا معقول معاوضہ دوں گا، انہیں آس پاس کے علاقوں میں دیگر ملکوں میں بسا دوں گا، باغیرت فلسطینیوں نے یہ پیشکش بھی حقارت سے ٹھکراتے ہوئے کہا تم اپنی امداد اپنے پاس رکھو، ہم کسی قیمت پر مادر وطن کا سودا نہیں کریں گے، اس کی حفاظت اس وقت تک جاری رکھیں گے جب تک ایک بھی فلسطینی زندہ ہے۔ ٹرمپ سوچ میں پڑ گیا اور ٹرین میں گرجنے والے پہلوان جی کے انداز میں بولا ٹھیک ہے آپ کی مرضی میں نے تو آپ کو ایک منافع بخش پیشکش کی تھی۔ پیغام اس تک پہنچ گیا۔ فلسطینی بکائو مال نہیں ہیں، ان کے ساتھ یمن پورے قد کے ساتھ ڈٹ کر کھڑا ہے اور یہودی و اسرائیل استعمار کا مقابلہ کر رہا ہے جبکہ بیشتر مسلمان ممالک کا طرز عمل وہی ہے جو جنگل میں اکثر نظر آتا ہے۔ چیتا ایک بھینس کے بچے کو دبوچ لیتا ہے تمام بھینسیں جو جثے میں چیتے سے کئی گنا بھاری ہوتی ہیں بعض کے سینگ بھی خاصے نوکیلے ہوتے ہیں وہ ایک دائرہ بنا کر کھڑی ہو جاتی ہیں اور اپنے بچے کو چیتے کے جبڑوں میں دم توڑتے ہوئے دیکھتی رہتی ہیں۔ وہ بزبان خاموشی چیتے کے اس فعل کی مذمت اسی طرح کرتی ہیں جس طرح اسلامی ممالک فلسطین پر اسرائیلی بربریت کی مذمت کرتے ہیں۔ 
جنگل میں صبح سے شام تک چرنے والی بھینس چیتے کو جنگل کے امن کیلئے خطرہ قرار دیتی ہیں لیکن اپنے سینگوں کو استعمال نہیں کرتیں۔ ان میں صرف حوصلے کی کمی ہے ورنہ وہ طاقت میں چیتے سے کہیں زیادہ ہیں اور تعداد میں تو جنگل کے چیتوں سے سو گنا۔ 
حوثیوں نے امریکی  بحری جہازوں کو کامیابی سے نشانہ بنایا تو پہلوان جی کا ایک باریک سی آواز میں بیان سامنے آیا ہے۔ یمن ہمارے جہازوں پر حملے روکے تو ہم بھی یمن پر حملے روک دیں گے۔ اس کے جواب میں انصار اللہ نے کہا ہے اسرائیل غزہ پر جارحیت روکے تو ہم بھی امریکی جہازوں پر حملے روک دیں گے۔ امریکی جہازوں نے یمن کے صوبے الحدیدہ کے شہر المنصوریہ میں بمباری سے 59افراد شہید کر دیئے اس پر امریکیوں کی طرف سے شرمناک اعتراف کرتے ہوئے کہا گیا ہے ہم فلسطینیوں کو نگل رہے ہیں یہ اس قابل نہیں کہ انہیں زندہ رہنا دیا جائے۔ برطانیہ کے علاوہ بیشتر یورپی ممالک غزہ میں جاری مسلمانوں کی نسل کشی میں خاموش نہیں بلکہ ان کے شریک کار ہیں۔ اسرائیل کی بڑی خواہش ہے کہ یمن، شام اور ایران ان کے اسی طرح تابعدار بن جائیں جس طرح اردن ہے جو ان سے پوچھ کر سانس لیتا ہے جب حکم ہو اپنی سانسیں بھی روک لیتا ہے۔ شام میں بھی اسرائیل کارروائیاں جاری ہیں۔ مختلف وقفوں سے مختلف علاقوں کی تنصیبات کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ شام پر بشار الاسد کا اقتدار ختم ہونے پر جشن منانے والوں کو یاد ہوگا وہ جب تک اقتدار میں رہا کسی اسرائیلی جہاز کو شام کی فضائی حدود میں داخل ہونیکی جرأت نہ ہو سکی اس کے رخصت ہونے کے بعد جمہوریت کا راستہ صاف سمجھنے والوں کو جمہوریت کے ثمرات نظر نہیں آ رہے شاید اس لئے وہ اب کبوتر کی طرح سر پروں میں چھپائے بیٹھے ہیں۔ اسرائیل رقبے کے اعتبار سے جتنا ہے سب جانتے ہیں اس کی طاقت کا گھمنڈ فلسطینیوں نے توڑ کر رکھ دیا۔ وہ ناقابل تسخیر نہیں ہے اس کی طاقت بھی اسلامی ملکوں سے زیادہ نہیں اسرائیل کو اصل طاقت مسلمان ممالک کی بے حسی اور خاموشی سے ملتی ہے کیونکہ وہ جنگل کی بھینسوں کی طرح صرف خاموش اور دل ہی دل میں چیتے کی مذمت پر یقین رکھتے ہیں مگر سب مل کر اسے اپنے سینگوں پر رکھ لیں تو اس کی تکہ بوٹی کر سکتے ہیں۔ بھیڑیئے اور چیتے کا علاج صرف مزاحمت ہے۔ اس کے سوا کچھ بھی نہیں، مزاحمت بھی بٹی ہوئی نہیں ایک مشترکہ منصوبے کے تحت مسئلہ صرف چوبیس گھنٹوں کا ہے اور ہمیشہ کیلئے حل ہو سکتا ہے ورنہ بھیڑیا تو اپنا کام کرتا رہے گا۔

ٹیگز: