Wed, September 16, 2026

واٹس ایپ ہیکنگ اور سائبر فراڈ کا معاملہ، حکام کی جانب سے اہم بریفنگ

واٹس ایپ ہیکنگ اور سائبر فراڈ کا معاملہ، حکام کی جانب سے اہم بریفنگ

اسلام آباد:  اسلام آباد میں قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کے اجلاس میں سائبر جرائم اور شہریوں کی ڈیجیٹل سیکیورٹی سے متعلق مختلف اہم معاملات پر حکام سے تفصیلی بریفنگ لی گئی۔ اجلاس میں آن لائن دھوکا دہی، جعلی سمز، بینکنگ فراڈ، واٹس ایپ اکاؤنٹس کی ہیکنگ اور شہریوں کے بائیومیٹرک ڈیٹا کے تحفظ پر تفصیلی گفتگو ہوئی۔

کمیٹی ارکان نے حکام سے سوال کیا کہ آن لائن فراڈ کے بڑھتے ہوئے واقعات کو روکنے کے لیے کیا اقدامات کیے جا رہے ہیں اور جرائم پیشہ افراد شہریوں کی ذاتی معلومات تک کس طرح رسائی حاصل کر رہے ہیں۔

نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی کے حکام نے بتایا کہ واٹس ایپ ہیکنگ کے مسئلے پر قابو پانے کے لیے اقدامات جاری ہیں اور اس عمل کو مکمل طور پر روکنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ حکام نے سائبر فراڈ کے خلاف جاری کارروائیوں اور دیگر حفاظتی اقدامات سے بھی ارکان کو آگاہ کیا۔

چیئرمین قائمہ کمیٹی داخلہ نے اپنے تجربے کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ انہیں تقریباً ہر ہفتے فون کرکے کہا جاتا ہے کہ ان کے نام پر کورئیر آیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جو لوگ فراڈ کے ان طریقوں سے واقف ہیں، وہ ایسی کالز کو فوراً سمجھ جاتے ہیں، لیکن عام شہری اکثر ان چالوں سے بے خبر ہوتے ہیں اور دھوکے میں آ سکتے ہیں۔

چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ عوام کو یہ بتانا ضروری ہے کہ فراڈیے کس طرح مختلف طریقوں سے لوگوں کو اپنے جال میں پھنساتے ہیں، تاکہ شہری بروقت محتاط ہوسکیں۔

اجلاس میں بائیومیٹرک معلومات کی حفاظت پر بھی خاص توجہ دی گئی۔ چیئرمین کمیٹی نے سوال اٹھایا کہ شہریوں کے فنگر پرنٹس سے متعلق معلومات سائبر جرائم میں ملوث افراد تک کیسے پہنچ جاتی ہیں۔ انہوں نے یہ بھی پوچھا کہ اگر کسی شخص کا انگوٹھے کا ڈیٹا غیر متعلقہ افراد کے ہاتھ لگ جائے تو اسے بینک اکاؤنٹ تک پہنچنے یا مالی نقصان پہنچانے کے لیے کس طرح استعمال کیا جاسکتا ہے۔

ارکان نے کہا کہ بائیومیٹرک نظام کو محفوظ بنانے کے لیے موجودہ سیکیورٹی انتظامات کا دوبارہ جائزہ لینے اور جدید ٹیکنالوجی استعمال کرنے کی ضرورت ہے، تاکہ شہریوں کی مالی اور ذاتی معلومات محفوظ رہیں۔

چیئرمین پی ٹی اے حفیظ الرحمان نے بتایا کہ 2009 سے قبل پاکستان میں موبائل سم جاری کرنے کے لیے کوئی واضح ضابطہ موجود نہیں تھا۔ ان کے مطابق 2014 میں سمز کے اجرا کا باقاعدہ نظام متعارف کرایا گیا، جبکہ گزشتہ دو سال کے دوران اس حوالے سے مزید سخت اقدامات کیے گئے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ پچھلے دو برس میں ملک بھر میں تقریباً 1.8 کروڑ غیر قانونی سمز کو بند کیا جاچکا ہے۔ اس کے علاوہ قواعد کی خلاف ورزی کرنے والے افراد اور متعلقہ عناصر کے خلاف مالی کارروائی بھی کی گئی۔ چیئرمین پی ٹی اے کے مطابق صرف گزشتہ چھ ماہ کے دوران غیر قانونی سمز کے حوالے سے 4.2 ارب روپے کے جرمانے عائد کیے گئے۔

وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چودھری نے شہریوں کی شناخت کو مزید محفوظ بنانے کے لیے فیشل ریکگنیشن اور آئرس اسکین جیسی ٹیکنالوجی استعمال کرنے کی تجویز پیش کی۔ انہوں نے کہا کہ کسی بند بینک اکاؤنٹ یا موبائل سم کو دوبارہ فعال یا جاری کرتے وقت چہرے یا آنکھ کی شناخت لازمی قرار دی جائے تو کسی اور شخص کی شناخت کے غلط استعمال کے امکانات کم ہوسکتے ہیں۔

کمیٹی کے ایک رکن نے یہ تجویز بھی سامنے رکھی کہ موبائل کمپنیوں اور بینکوں کو بائیومیٹرک تصدیق کے لیے جدید ترین سیکیورٹی ٹیکنالوجی اپنانے کی ہدایت کی جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ سائبر فراڈ کے بڑھتے ہوئے واقعات کے پیش نظر صرف روایتی حفاظتی نظام کافی نہیں، بلکہ صارفین کے اکاؤنٹس اور سمز کو غیر مجاز استعمال سے بچانے کے لیے مزید مضبوط انتظامات ضروری ہیں۔

اجلاس کے اختتام پر ارکان کمیٹی نے اس بات پر زور دیا کہ سائبر فراڈ کے خلاف صرف غیر قانونی سمز کو بند کرنا کافی نہیں۔ شہریوں کے بائیومیٹرک ریکارڈ، بینک اکاؤنٹس، موبائل نمبرز اور دیگر حساس معلومات کی حفاظت کے لیے تمام متعلقہ اداروں کو مل کر ایک مؤثر اور مربوط سیکیورٹی نظام بنانا ہوگا۔

ٹیگز: