واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے غزہ میں جاری بحران کے حل کے لیے پیش کیے گئے مجوزہ امن معاہدے پر حماس کو دستخط کرنے کے لیے اتوار کی شام 6 بجے تک کی مہلت دے دی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر حماس نے اس موقع کو ضائع کیا تو اسے "سنگین نتائج" کا سامنا کرنا پڑے گا۔
ٹرمپ نے اپنے بیان میں کہا کہ "یہ معاہدہ حماس کے جنگجوؤں کے لیے آخری موقع ہے، بصورت دیگر کارروائی ناگزیر ہو جائے گی۔" ان کے بقول، خطے کے کئی بڑے ممالک پہلے ہی معاہدے پر دستخط کر چکے ہیں، اور اب حماس کی شمولیت باقی ہے۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ 7 اکتوبر کے حملے کے بعد حماس کو "سخت سزا" دی جا رہی ہے، اور اب تک تنظیم کے 25 ہزار سے زائد جنگجو مارے جا چکے ہیں۔ ٹرمپ کے مطابق باقی جنگجو عسکری طور پر گھیرے میں ہیں اور مزید مزاحمت کی گنجائش نہیں بچی۔
معاہدے کی بنیادی شرط تمام یرغمالیوں کی غیر مشروط رہائی ہے۔ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ اگر حماس اس معاہدے کو قبول کر لے تو مزید خونریزی سے بچا جا سکتا ہے۔
انہوں نے غزہ کے شہریوں سے اپیل کی کہ وہ ممکنہ کارروائی کے پیش نظر محفوظ مقامات کی طرف نقل مکانی کریں۔ ان کا کہنا تھا، "ہم معصوم فلسطینیوں کو بچانا چاہتے ہیں، مگر حماس کی قیادت انہیں ایک ڈھال کے طور پر استعمال کر رہی ہے۔"