Wed, September 16, 2026

پاکستان کی فلسطین پر وہی پالیسی ہےجوقائداعظم کی ہے، اسحاق ڈار

پاکستان کی فلسطین پر وہی پالیسی ہےجوقائداعظم کی ہے، اسحاق ڈار

اسلام آباد: نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے قومی اسمبلی میں کہا ہے کہ امریکی صدر ٹرمپ کی جانب سے غزہ امن معاہدے کے لیے پیش کیے گئے 20 نکات پاکستان اور دیگر مسلم ممالک کے موقف کی عکاسی نہیں کرتے۔ انہوں نے بتایا کہ یہ وہی مسودہ نہیں جو ہم نے تیار کیا تھا بلکہ اس میں تبدیلیاں کی گئی ہیں جنہیں ہم قبول نہیں کرتے۔

اسحاق ڈار نے کہا کہ پاکستان فلسطین کے مسئلے پر قائداعظم محمد علی جناح کی پالیسی پر سختی سے عمل کر رہا ہے اور اس معاملے میں سیاست کی کوئی گنجائش نہیں۔ انہوں نے وزیراعظم شہباز شریف کی اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں بھرپور نمائندگی کو بھی سراہا، جہاں انہوں نے کشمیر اور فلسطین کے مسائل اٹھائے اور اسرائیل کی شدید مذمت کی۔

وزیر خارجہ نے کہا کہ اقوام متحدہ، یورپی یونین اور عرب ممالک غزہ میں جاری خونریزی روکنے میں ناکام رہے ہیں، اسی لیے پاکستان اور کچھ مسلم ممالک نے امریکی صدر سے بات چیت کی تاکہ امن کی کوششوں کو آگے بڑھایا جا سکے۔

انہوں نے واضح کیا کہ غزہ میں مکمل جنگ بندی اور اس کی تعمیر نو بہت ضروری ہے، اور یہ ذمہ داری صرف پاکستان کی نہیں بلکہ تمام اسلامی ممالک کی مشترکہ ہے۔ وزیر خارجہ نے اسرائیل سے کسی بھی قسم کے رابطے کی سختی سے تردید کی اور بتایا کہ اسرائیل نے پاکستانی سینیٹر مشتاق احمد سمیت کئی پاکستانیوں کو حراست میں لیا ہوا ہے جن کی رہائی کے لیے پاکستان یورپی ممالک سے رابطے میں ہے۔

اسحاق ڈار نے سعودی عرب کے ساتھ کیے گئے اہم معاہدے کا بھی ذکر کیا اور بتایا کہ یہ معاہدہ حکومتِ پاکستان کی سنجیدگی اور دیرینہ کوششوں کا نتیجہ ہے جس سے پاکستان کو خادم الحرمین کا اعزاز ملا ہے، جو ملک کے لیے باعث فخر ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس معاہدے کے بعد کئی دیگر مسلم ممالک نے بھی دلچسپی ظاہر کی ہے اور یہ خطہ مسلم امہ کے اتحاد کے لیے ایک اہم قدم ثابت ہو سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان اب ایٹمی طاقت کے بعد معاشی طاقت بھی بنے گا۔

قومی اسمبلی کا اجلاس بعد میں پیر کی شام 5 بجے تک ملتوی کر دیا گیا۔

ٹیگز: