کیا اس حقیقت سے انکار ممکن ہے کہ اس وقت دنیا میں جو ہلچل مچی ہے اس کا مرکز پاکستان اور اس کی سیاست کے مراکز ہیں ۔ امریکی صدر ہو یا چین ٗ روس ہو یا پھر یورپی دنیا ٗ وسطی ایشیا ہو یا پھر گلف ٗ دنیا پاکستان کے بیانیے کے ساتھ چل رہی ہے ۔ ہمارے ازلی دشمن بھارت کے ساتھ جو کچھ ہو چکا ہے وہ بھی تاریخ کا حصہ رہے گا ۔سعودیہ سمیت سارا گلف پاکستان کی طرف دیکھ رہا ہے ۔ پاکستان کے سیاستدان اور ادارے تاریخ میں پہلی بار حقیقی شکل میں ون پیج پر ہیں۔جلد یا بدیر اس کے ثمرات بھی پاکستانی قوم تک پہنچ جائیں گے ۔ خوشخبریوں کی ایک قطار ہے کہ ہاتھ باندھے پاکستان کے چاروں اطراف میں کھڑی داخلے کی اجازت مانگ رہی ہے ۔یاد رکھیں کہ کرپشن کی حیثیت جسم میں شوگر کی مانند ہوتی ہے آپ اسے نارمل کرسکتے ہیں لیکن یہ ختم نہیں ہو سکتی۔چین ہر سال کرپشن میںملوث اعلیٰ عہدوں پر تعینات لوگوں کو سزا موت سنا دیتا ہے لیکن یہ سزائیں بھی اُسے روزانہ کی بنیادوں پر سنانا پڑتی ہے۔ تین ہزار سے زائد کا عرصہ گزرا کہ ہندوستا ن میں کوتلیہ چانکیہ نامی ایک ہندو دانشور ور کتابوں کے ذریعے ہم تک پہنچا گو کہ اُس سے پہلے کے دانشور منو وغیر ہ بھی تاریخ کا حصہ ہیں لیکن سیاسی تصورات میں جس ’’ مقام ‘‘پر کوتلیہ یا کوٹلیہ فائز ہوا وہ کسی دوسرے کو نصیب نہیں ہوا ۔ وہ جھوٹا تھا ٗ مکا ر تھا ٗ ذہین تھا یا پھر فریبی ! لیکن یہ بات درست ہے کہ میکاولی کی کتاب ’’ دی پرنس ‘‘ کوتلیہ کی کتاب ’’ارتھ شاستر ‘‘ کے مقابلے کی ہر گز نہیں ہے ۔ارتھ شاستر کے حوالے سے ہندوستان میں آج بھی بحث جاری ہے کہ اسے کوتلیہ نے کب تخلیق کیا ؟ اُس کی تحریر کا زمانہ کونساہے لیکن اس بات سے کوئی بحث نہیں کہ وہ دنیا کی اُن قدیم ترین کتابوں میں اول درجے کی کتاب ہے جس میں ریاست چلانے کے فن پر بحث کی گئی ہے ۔ آج اخلاقیات گو اِس کے لاتعداد تصورکی اجازت نہیں دیتی لیکن ایک بات تو طے ہے کہ کوتلیہ نے کمزور فلسفہء حیات رکھنے والوں کو متاثر ضرور کیا ہے۔ آج دنیا بھر کی ریاستوں میں جدید اداروں کی اشکال کو ہم ماضی میں دیکھنا چاہیں تو وہ ہمیں ارتھ شاستر میں کہیں نہ کہیں ضرور ملیں گی ۔ کوتلیہ برہمن زادہ تھا سو اُس نے ریاست چلانے کیلئے جو قانون سازی بتائی اُس میں جزا سزا کا تعلق انسان کے مذہبی قبیلے سے ضرور ہے ۔ یعنی اگر برہمن کسی عورت سے زنا کا مرتکب ہو تو جسمانی سزا عورت کو ملے گی جب کہ برہمن کو صرف جرمانہ ہو گا ۔ کوتلیہ کا خیال ہے کہ آپ پانی میں تیرتی ہوئی مچھلی کو دیکھ کر نہیں بتا سکتے کہ وہ تیر رہی ہے یا پانی پی رہی ہے ٗ یہی حالت ریاستی ملازم کی ہوتی ہے ۔ کوتلیہ کہتا ہے کہ اگر کسی انسان کی زبان پر زہر یا شہد رکھ یا جائے تو وہ اُسے چکھے بغیر تھوک بھی نہیں سکتا یہی حالت ریاستی خزانہ استعمال کرنے والوں کی ہوتی ہے ۔اب آپ سمجھ سکتے ہیں کہ عمران نیازی کے نزدیک ساری دنیا چور کیوں ہے ؟کوتلیہ انسانی تاریخ کا پہلا شخص ہے جس نے اپنے بادشاہ کو عورت کے پیچھے عورت جاسوس رکھنے کا مشورہ دیا۔ بیگمات تک رسائی اور پھر اُن کے ذریعے اقتدار تک پہنچنے کو وہ بُر ا تصور نہیں کرتا ۔کوتلیہ جنسی ہوس ٗ مذہبی ٗ مالی خوف کے ذریعے بادشاہ کو اپنے وزیروں کو چیک کرنے کامشورہ دیتا دکھائی دیتا ہے ۔ شہزادوں کی پرورش کے نتیجہ میں وہ نافرمان شہزادوں کو قتل کرانے سے بھی دریغ نہیں کرتا۔ آج سالہا سال بعد مجھے کوتلیہ کو دوبارہ پڑھنے کا اتفاق ہوا بلکہ یوں کہہ لیں کہ عمران نیازی کے طرز سیاست نے مجھے دوبارہ کوتلیہ کو پڑھنے پر مجبور کیا ۔آب اگر غور سے کوتلیہ کا مطالعہ کریں تو ساری پی ٹی آئی آپ کے سامنے برہنہ رقص کر رہی ہو گی ۔ لڑکیوں سے جنسی اختلاط سے لے کر خزانے کی حفاظت کا بندوبست اور اپنے ہی طاقتور دوستوں کو رسوا کرنے کی کوتلیائی پالیسیاں دیکھیں تو ہندو ستان کی دفن شدہ تہذیبوں کی کہانیاں آپ کے سامنے ہوں گی ۔ نوجوان نسل کو ورغلانے کیلئے کوتلیہ نے بھی نوجوان لڑکوں کو استعمال کیا تھا اور اپنے بادشاہ کو بھی یہی مشورے دیئے تھے ۔
پاکستان کی تمام خوش قسمتیاں اپنی جگہ پر درست ہیں اور مجھے امید ہے کہ آرمی چیف عاصم منیر کی موجود گی میں ہمارے جغرافیے کی طرف کوئی مائی کا لعل اب آنکھ اٹھا کر بھی نہیں دیکھ سکتا لیکن اس کے ساتھ ساتھ ہم نے وہ منہ بھی بند کرنا ہو ں گے جو دن رات سوشل میڈیا پر کوتلیہ کے موقف کو مضبوط بنانے کے درپہ ہیں ۔ مودی اپنی آخری باری لے رہا ہے اور مجھے امید ہے کہ بھارتی عوام دوبارہ اسے اقتدار میں لانے کی کوئی غلطی نہیں کرے گی بالکل اُسی طرح جیسے عمران نیازی کو دوبارہ اقتدار میں لانے کا کوئی کھیل اب پاکستان میں بھی کامیاب ہوتا دکھائی نہیں دے رہا ۔بھارت میں مودی سرکار کے خلاف بڑھتی ہوئی نفرت کسی وقت بھی آتش فشا ں پہاڑ کی طرح پھٹ سکتی ہے ۔بھارتی کرکٹ ٹیم کرکٹ میچ جیت کر بھی مودی سرکار کی غلط پالیسیوں کی وجہ سے ہار گئی ۔ بھارت کا نوجوان اس وقت مودی سرکار کا دیا ہر زخم اپنے لوگو ں کے سامنے لانا چاہتا ہے جس میں پاکستان سے بدترین شکست ٗ چین میں ہزیمت ٗ ٹرمپ کی ناراضی اورٹیرف میں اضافے کے ساتھ ساتھ کھیل کے میدانوں میں بھارت کی پہ در پہ سیاسی شکستیں ہیں ۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پاکستانی آرمی چیف کی تعریف کی ہے تو یہ پاکستان قوم کیلئے خوشی کی بات ہے لیکن عمران نیازی کی غیر اعلانیہ سپاہ ِ کی بورڈ وائیر ز تو پوری تند ہی سے پاکستان مخالف کھیل کھیلنے میں مصروف ہے ۔ مجھے یقین ہے کہ ایک غیر منظم ٗ غیر سیاسی ہجوم کا آخری انجام بھی فتنہ الخوارج سے مختلف نہیں ہو گا لیکن لاہور کے چوراہوں میں بیٹھے ’’فیس بکی مجاہد ‘‘ جب افواج پاکستان کے مخالف منفی پرو پیگنڈا کرتے ہیں تو کہیں نہ کہیں معصوم پاکستانیوں کو جال میں پھنسے کی ناکام کوشش تو ہے ۔ دنیا پاکستان کے ساتھ کھڑی ہے اور پاکستان کے تمام مخالف حیرت سے افواج پاکستان اور پاکستانی سیاستدانوں کا منہ دیکھ رہے ہیں۔ پاکستان کی معاشی حالت دنیا بھر میں لائق تحسین ہو گی ٗ لیکن اس کیلئے پاکستان کی سیاسی اور اتحادی جماعتوں کو بھی ہوش کے ناخن لینا ہوں گے کہ پاکستان ایک بدترین خطرے کو شکست دے کر ابھر رہا ہے اور ان حالات میں پاکستان کسی نئے تجربے کا متحمل نہیں ہوسکتا ۔ عمران نیازی کے جیل میں دن خیریت سے گزر رہے ہیں اور فارم 47 کا رونا رونے والوں کو اب اگست 47سے شروع ہونے والا سفر براق کی رفتار سے اپنی منزل کی طرف رواں دواں نظر آ رہا ہے ۔