Wed, September 16, 2026

موٹروے زیادتی کیس: لاہور ہائی کورٹ نے اپیلیں خارج کر دیں

موٹروے زیادتی کیس: لاہور ہائی کورٹ نے اپیلیں خارج کر دیں

لاہور: لاہور ہائی کورٹ نے 2020 کے موٹروے زیادتی کیس میں سزا یافتہ دونوں مجرموں کی جانب سے دائر اپیلیں مسترد کرتے ہوئے انسداد دہشت گردی عدالت کا فیصلہ برقرار رکھا ہے۔

بدھ کے روز کیس کی سماعت جسٹس سید شہباز علی رضوی اور جسٹس طارق محمود باجوہ پر مشتمل دو رکنی بینچ نے کی۔ عدالت نے فریقین کے دلائل مکمل ہونے کے بعد فیصلہ سنایا۔

سزا یافتہ ملزمان عابد علی عرف مالی اور شفقت علی عرف بگا نے 2021 میں انسداد دہشت گردی عدالت کی جانب سے سنائی گئی سزاؤں کے خلاف اپیلیں دائر کی تھیں۔ ٹرائل کورٹ نے دونوں کو سزائے موت، عمر قید اور دیگر سزائیں سنائی تھیں۔

اپیلوں میں مؤقف اختیار کیا گیا تھا کہ استغاثہ کے شواہد میں کئی خامیاں موجود ہیں اور ٹرائل کورٹ کا فیصلہ قانونی اصولوں کے منافی اور سخت ہے۔ تاہم سرکاری وکیل نے عدالت کو بتایا کہ استغاثہ کے پاس مضبوط شواہد موجود ہیں اور ٹرائل کورٹ کا فیصلہ مکمل طور پر درست ہے۔

عدالت نے دلائل سننے کے بعد قرار دیا کہ اپیلوں میں کوئی قابلِ قبول قانونی جواز موجود نہیں، لہٰذا انہیں خارج کیا جاتا ہے۔

یاد رہے کہ یہ واقعہ ستمبر 2020 میں پیش آیا تھا جب موٹروے پر سفر کے دوران گاڑی میں ایندھن ختم ہونے کے باعث رکنے والی ایک خاتون کو مبینہ طور پر زیادتی کا نشانہ بنایا گیا تھا۔ واقعے نے ملک بھر میں شدید ردعمل اور غم و غصے کو جنم دیا تھا۔

ٹیگز: