علی پرویز ملک ایک اعلیٰ درجے کے پروفیشنل ہیں، اعدادوشمار اور حرف و لفظ پر اچھی گرفت رکھتے ہیں، پیشے کے اعتبار سے اکاﺅنٹنٹ و فنانشل مینجمنٹ کے ماہر ہیں، ٹیکنیکل ایجوکیشن اینڈ ووکیشنل ٹریننگ اتھارٹی (TEVTA) میں وہ کئی سال تک اتھارٹی ممبر/ ڈائریکٹر کے طور پر کام کرتے رہے ہیں، یہاں ہمیں ان کے ساتھ کام کرنے اور انہیں کام کرتے ہوئے دیکھنے کا تجربہ ہوا۔ ان کی معاملہ فہمی اور فیصلہ سازی انتہائی شاندار تھی۔ ٹیوٹا بورڈ مختلف کمیٹیوں کے ذریعے فیصلہ کرتا ہے، علی پرویز سب سے اہم کمیٹی، فنانس کمیٹی کے کنوینر کے طور پر بہترین کارکردگی کے حامل نظر آتے رہے ہیں، بورڈ میٹنگز میں ان کی شمولیت اور فعالیت کے ساتھ ساتھ فیصلہ سازی نے ٹیوٹا کی کارکردگی کو بہتر سے بہتر بنانے میں بنیادی کردار ادا کیا۔ جب شہباز شریف نے انہیں اپنی کابینہ میں شامل کیا تو ہمیں خوشی ہوئی کہ وہ یقینا میرٹ پر کابینہ میں شامل کئے گئے ہیں اور ہمیں یقین تھا کہ وہ یہاں بھی ایسی ہی کارکردگی دکھائیں گے جیسی ٹیوٹا کے ساتھ وابستگی کے دوران دکھاتے رہے ہیں لیکن ہماری ہی نہیں پوری قوم کی امیدیں، ناامیدی میں بدل گئیں۔ علی پرویز ملک کی ذہانت، معاملہ فہمی اور فیصلہ سازی سے جس طرح ٹیوٹا کو فائدہ پہنچا،بطور وفاقی وزیر اور ممبر کابینہ فائدہ مند ثابت نہیں ہو سکے ہیں ہمیں ان سے جو امیدیں تھیں وہ پوری نہیں ہو سکی ہیں۔ بجٹ 2026-27 کی تیاری اور پیشکش کے دوران اور اس کے بعد وہ جس طرح اس کا دفاع کرتے نظر آئے، جس طرح حکومتی پالیسیوں کے محاسن اور کمزوریوں کی وجوہات بیان کرتے پائے گئے اس سے عمومی تاثر یہی پیدا ہوا کہ بس یہ بھی ایک وزیر ہیں دیگر وزیروں کی طرح۔
ان سے پہلے احسن اقبال ایک جوان و توانا وژنری کے طور پر قوم کے سامنے آئے تھے، انہیں بھی بات کرنے اور بات بتانے کا سلیقہ آتا تھا۔ بیرون ملک سے اعلیٰ تعلیم یافتہ ہونے کے باعث منفرد انداز میں بات کر کے اپنی بات منوا بھی لیتے تھے۔ سرکاری معاملات کو بہتر انداز میں چلاکر انہوں نے اپنی حیثیت منوائی۔ پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ کے شعبے کے مدار المہام کے طور پر انہوں نے وژن 2025 دیا جو منصوبہ تھا پاکستان کی تعمیروترقی کا۔ پاکستان کو آگے بڑھانے اور بڑھاتے ہی چلے جانے کا لیکن حکومتی تسلسل نہ ہونے کے باعث معاملات گفتگو سے آگے نہیں بڑھ سکے۔ فیصلہ سازوں اور حکمت کاروں نے ایک شو بوائے کو میدان میں اتارا جس نے حکمت کاروں کے وژن اور منصوبہ سازی کے مطابق بڑی سیاسی جماعتوں کے بخیے ادھیڑے، ان کے لیڈروں کو ذلیل کیا اس کام میں شو بوائے نے سیاست کے کھیل کو بھی بگاڑ دیا۔ پاکستان کی سیاست ہی نہیں بلکہ ریاست بھی خوار ہو گئی۔ حکمت کاروں کی منصوبہ سازی کیا ہوتی اس سوہنے منڈے نے ریاست کو ہی پائمال کر کے رکھ دیا یہ الگ بات ہے کہ اب وہ جیل میں قید بھگت رہا ہے لیکن اس نے سیاست و ریاست کو اس قدر پست درجے تک پہنچا دیا ہے جہاں سے ان کی بازیابی میں وقت لگے گا۔ احسن اقبال کا وژن 2025 بھی اس کی نذر ہو چکا ہے۔ احسن اقبال اب ایک روایتی سیاستدان وزیر کے طور پر میدان میں موجود ہیں ، اب وہ اپنی جماعت کی کارکردگی کا دفاع کرتے ایسے ہی نظر آتے ہیں جیسے علی پرویز ملک اور دیگر وزراءنظر آتے ہیں۔ حکمران اتحاد، جو شہباز شریف کی قیادت میں 2022 سے ملک کی زمام کار سنبھالے ہوئے ہے عمرانی دور کی بدانتظامیاں اور بدعہدیاں اپنی جگہ ایک حقیقت سہی لیکن ان کا رونا کب تک روتے رہیں گے۔ شہباز شریف 4 سال سے زائد مدت ہوئی ملکی نظم و نسق سنبھالے ہوئے ہیں۔ بھارت سے جنگ میں فتح انہی کے دور وزارت عظمیٰ میں پاکستان کے حصے میں آئی۔ بسم اللہ۔ ماشاءاللہ اچھی بات ہے۔ انہی کے دور میں ایران۔ امریکہ جنگ میں ثالثی پاکستان کے حصے میں آئی۔ پاکستان اس میں بھی سرخرو ہوا۔ ماشاءاللہ۔ سبحان اللہ۔ لیکن دیکھنے کی بات یہ ہے کہ عوام کے ہاتھ کیا لگا، ہمارے حصے میں کیا آیا۔ کتنے لوگ خط غربت سے اٹھ کر خوشحالی کے دور میں داخل ہوئے، عوام کو بجلی ، گیس، پٹرول اور اشیائے خورونوش کی قیمتوں کے حوالے سے کتنا سکھ ملا۔ سٹاک مارکیٹ میں بہتری کا تعلق حقیقت سے نہیں ہے اور نہ ہی اس میں خلق خدا کی خوشحالی موجود ہے۔ برسرزمین حقائق کسی قسم کی بہتری اور عوامی فلاح کی تائید و تصدیق نہیں کر رہے ہیں۔ اس عرصے کے دوران عوام کا حکومت پر اعتماد کم ہوا ہے، اسٹیبلشمنٹ اور حکومت ایک پیج پر ضرور ہیں، ویسے وہ صفحے کی بجائے پوری کتاب پر بھی ہوں تو اگر عوام کو فائدہ نہیں تو کچھ بھی نہیں ہے، حکمرانوں کی بے حسی اور عوام کی بے بسی زبان زدعام ہے۔ حکومتی بے حسی کے متعلق دو آراءہو سکتی ہیں، کچھ طبقات حکومتی کارکردگی اور ملکی بہتری کے پرچارک بھی ہیں۔ علی پرویز ملک اپنی حکومتی کارکردگی کے بارے میں خوبصورت باتیں کرتے نظر آتے ہیں، کچھ دانشور اور تجزیہ کار بھی کچھ ایسا ہی کرتے دکھائی دیتے ہیں لیکن عوام کی بے بسی کے بارے میں ہرگز
ہرگز دو آراءنہیں پائی جاتی ہیں۔ بیرونی و اندرونی سرمایہ کاری نہ ہونے کے باعث معاشی نمو میں بہتری نظر نہیں آ رہی لیکن ریکارڈ ٹیکس وصولیاں ہو رہی ہیں کہاں سے؟ ظاہر ہے عوام کا خون نچوڑ نچوڑ کر حکمران ٹارگٹ پورا کرتے نظر آتے ہیں۔ معاشی سرگرمیاں سکڑ چکی ہیں، جنگ نے معاملات میں اور بھی بگاڑ پیدا کر دیا ہے۔ اس طرح عوام کی بے چارگی بھی بڑھتی چلی جا رہی ہے۔ جنگ کے دوران ادھر عالمی منڈی میں پٹرول کی قیمت میں اضافہ ہوتا تھا ادھر دیکھتے ہی دیکھتے پٹرول پمپس پر پٹرول کی قیمتیں بڑھا دی جاتی تھیں، پٹرول کی تقسیم کار کمپنیوں کے منافع جات میں بیٹھے بیٹھے کروڑوں اربوں روپے کا اضافہ ہو جاتا تھا اب جبکہ عالمی منڈی میں قیمت نیچے گر چکی ہے لیکن حکومت عوام کے لئے فوری طور پر قیمت نیچے لانے سے انکاری ہے۔ علی پرویز ملک جیسے ذہین اور قابل وزیر حکومت کے ایسے غیرمنصفانہ فیصلے کے حق میں تاویلیں دیتے نظر آتے ہیں تو مایوسی ہوتی ہے کہ ایسی ذہانت کا کیا کیا جائے جو خلق خدا کی بہتری اور انہیں سکھ پہنچانے میں استعمال نہ ہو۔ علی پرویز صاحب ذرا سوچئے کیا یہ درست نہیں ہے۔