گرمی کی شدت کے ساتھ ہی لوڈ شیڈنگ شروع ہو گئی ہے اور اچھی خاصی ہو رہی ہے ۔ گذرے وقتوں کی بات ہے اور امید ہے کہ آپ نے سنی بھی ہو گی لیکن موقع کی مناسبت سے ذکر کرنے میں کوئی حرج بھی نہیں کہ ایک بادشاہ سلامت تھے اور انھیں اپنی رعایا سے ایک ہی شکایت تھی کہ وہ کوئی شکایت لے کر ان کے پاس نہیں آتے تھے ۔ اس حوالے سے بادشاہ معظم نے کوشش بھی کی لیکن کامیابی نہیں مل سکی ۔ انھوں نے عوام پر زیادہ ٹیکس لگا کر بھی دیکھ لئے لیکن عوام ان کے دربار میں شکایت لے کر نہیں آئے ۔ انھوں نے مہنگائی بھی کر دی لیکن عوام پھر بھی نہیں آئے ۔ آخر ان کے ذہن میں ایک تدبیر آئی اور انھوں نے حکم دیا کہ پورے ملک میں جو بھی شہری گھر سے روز گار کے لئے نکلے اسے سرکاری اہل کار دس جوتے ماریں ۔ بادشاہ سلامت کا حکم تھا لہٰذا فی الفور پورے ملک میں اس پر عملدرآمد شروع ہو گیا ۔ کچھ ہی دن گذرے تھے کہ عوام کا ایک نمائندہ وفد بادشاہ سلامت کے دربار میں حاضر ہوا تو بادشاہ سلامت بڑے خوش ہوئے اور ان لوگوں کو فوری دربار میں بلایا اور کہنے لگے کہ ہمیں اندازہ تھا کہ ہماری اس حکم سے ہماری رعایا کو تکلیف ہو گی اور وہ ضرور ہمارے دربار میں شکایت لے کر آئیں گے۔ بتائیں کہ آپ کو کیا تکلیف ہے تو اس وفد کے سربراہ نے کہا کہ حضور اگر جان کی امان پاﺅں تو عرض کروںکہ ہمیں جوتے مارنے سے کوئی شکایت نہیں ہے بلکہ اصل مسئلہ یہ ہے کہ آبادی کافی زیادہ ہے اور جوتے مارنے والے کم ہیں جس سے ہمیں کافی دیر ہو جاتی ہے لہٰذا آپ سے گذارش ہے کہ جوتے مارنے والے اہلکاروں کی تعداد میں اضافہ کیا جائے تاکہ رعایا جلدی فارغ ہو جائے۔ ہمیں بھی حکومت سے یہ شکایت نہیں کہ اس شدید گرمی میں ہولناک قسم کی لوڈ شیڈنگ شروع ہو گئی ہے بلکہ اصل شکایت یہ ہے کہ یہ پتا ہی نہیں چلتا کہ اس کمبخت بجلی نے کب آنا اور کب جانا ہے لہٰذا حکومت سے اتنی گذارش ہے کہ اس بجلی کی آنیاں اور جانیاں کے اوقات کار اگر مقرر کر کے اسے عوام کو بتا دیں تو عین نوازش ہو گی ۔
اب اپنے اصل موضوع کی جانب آتے ہیں کہ لوڈ شیڈنگ تو ہوتی ہی ہے لیکن اس کی کوئی ایک قسم نہیں ہے بلکہ بہت سی اقسام ہیں جن کا احاطہ شاید اس ایک کالم میں ممکن نہ ہو لیکن کوشش کرتے ہیں کہ قارئین کی خدمت میں زیادہ سے زیادہ لوڈ شیڈنگ کی اقسام کو بیان کر دیں ۔ ایک قسم تو وہ ہے کہ جس میں لوڈ شیڈنگ کی تمام اقسام جمع ہو جاتی ہیں اور یہ لوڈ شیڈنگ کی وہ قسم ہے کہ جس کا نوٹس محترم وزیر اعظم لیتے ہیں ۔ یہ نوٹس اس وقت لیا جاتا ہے کہ جب لوڈ شیڈنگ کا عذاب جھیلتے جھیلتے عوام کے منہ ” فٹے منہ “ ہو جاتے ہیں تو اس دوران محکمہ موسمیات کی جانب سے اگر بتا دیا جاتا ہے کہ آنے والے دنوں میں بارشیں متوقع ہیں اور درجہ حرارت گر جائے گا اور بجلی کی کھپت میں کمی ہو جائے گی تو پھر وزیر اعظم کی جانب سے لوڈ شیڈنگ کا نوٹس لے لیا جاتا ہے ۔ لوڈ شیڈنگ کی سب سے نرم قسم اعلانیہ لوڈ شیڈنگ ہے کہ جس میں آنے اورجانے کی ٹائمنگ کا علم ہوتا ہے اور سب سے خطر ناک لوڈ شڈنگ کی اقسام میں ایک قسم بغیر کسی وجہ کے اچانک بجلی چلے جانا ہوتا ہے کہ اس میں کوئی پتا نہیں ہوتا کہ محترمہ بجلی صاحبہ کی واپسی کب ہو گی اور جب بجلی کے آفس فون کیا جاتا ہے تو اول تو کال ہی بڑی مشکل سے ملتی ہے اور مل بھی جائے تو تسلی بخش جواب کم ہی ملتا ہے ۔ ایسی صورت حال میں اب آپ ہیں اورآپ کی قسمت کہ کب بجلی صاحبہ واپس آتی ہیں اور ایسی مواقع پر صرف دعا ہی کام آتی ہے ۔ دوسری انتہائی خطر ناک قسم عزت مآب محترم ٹرانسفارمر صاحب کا جل جانا ہے ۔ یہ قسم اتنی خطر ناک ہے کہ بڑے سے بڑا کوئی حکومتی عہدیدار بھی کچھ نہیں کر سکتا ۔ اس میں آپ کے مقدر ہیں کہ کم از کم چھ سات گھنٹوں سے لے کر دو چار دن تک لگ سکتے ہیں ۔
ایک قسم ایسی ہے کہ اس میں بجلی تو دو چار منٹ کے لئے ہی جاتی ہے لیکن اس کے بعد آپ کے ہاتھ میں بقول انشاءجی اگر لمبی گہری ریکھا ہے تو آپ بجلی کی موجودگی سے لطف انداوز ہو سکیں گے کیونکہ یہ کارو بار دوست اور معیشت کو ترقی دینے میں بڑی معاون ہوتی ہے اور اس کا آنیاں اور جانیاں اس قدر تیزی اور ولٹیج کی کمی بیشی کے ساتھ ہوتی ہیں کہ آپ کے گھر کے اے سی سے لے کر فریج تک سب کچھ جلا دیتی ہے جلانے سے مراد ان کے کمپریسر وغیرہ ہے اور جب آپ انھیں صحیح کروانے کے لئے مارکیٹ میں لے کر جائیں گے تو ظاہر سی بات ہے کہ پیسہ گردش میں آئے گا اور پیسے کی گردش ہی معیشت کی ترقی کی ضمانت ہوتی ہے ۔ایک اور قسم جسے ہم ذاتی لوڈ شیڈنگ کی قسم کہہ سکتے ہیں وہ یہ کہ سب کی لائٹ آ رہی ہو لیکن کسی ٹرک کے گذرنے سے یا کسی بھی وجہ سے آپ کے گھر تک آنے والی بجلی کی تاریں ٹوٹ جائیں تو بس یہ سمجھ لیں کہ پھر کسی مہربان رشتے دار کے ہاں رہنے کا سوچ لیں کہ دو چار دن تو کہیں نہیں گئے اور جو پیسے خرچ ہونے ہیں وہ علیحدہ ۔ دامن کالم میں اب باکل بھی گنجائش نہیں رہی لہٰذا دیگر اقسام کا ذکر خدا پاک نے چاہا تو پھر کسی اور وقت کے لئے رکھ چھوڑتے ہیں ۔