سوات ایک بار پھر موت کی وادی بن گیا۔ پہاڑی ندی نے درجن بھر افراد کو نگل لیا۔ ایک ہی خاندان کے بیس سے زائد افراد سیالکوٹ سے چھٹیاں منانے اس صحت افزا مقام پر آئے تھے۔ کچھ کنارے پر رہے ، جو پانی کے محاصرے میں آ گئے وہ بہہ گئے۔ صرف تین کو ایک رضا کار نے بچایا۔ وہ درد مند نوجوان نہ ہوتا تو شاید کوئی بھی نہ بچتا۔ستم یہ کہ ان لاشوں کو جس طرح کوڑے کے ڈمپر میں رکھ کر منتقل کیا گیا، وہ ایک ایسے معاشرے کی علامت ہے جو انسانیت سے محروم ہو چکا ہے۔ یہ محض لاشوں کی بے حرمتی نہیں تھی بلکہ ایک اجتماعی بے حسی کا اشتہار تھا۔
وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈا پور سے جب اس ہولناک واقعے پر سوال کیا گیا تو ان کے الفاظ تھے: "کیا میں تمبو لے کر وہاں جاتا؟"۔ اس جملے نے قوم کے زخموں پر نمک چھڑک دیا۔ ہم ایک ایسے دور میں جی رہے ہیں جہاں صاحب اقتدار کا لہجہ ایسا دکھائی دیتاہے جیسے عام لوگ محض اعداد و شمار ہوں، انسان نہ ہوں۔ یہ وہی لہجہ ہے جو آفت زدہ علاقوں میں پناہ، تحفظ اور شفاف حکمرانی کے بجائے سنگدلی، لاپروائی اور نخوت بانٹتا ہے۔
سوال یہ ہے کہ سیاح کیوں مرے؟ یہ کوئی قدرتی آفت نہ تھی، یہ ایک ایسا جرم تھا جو منصوبہ بندی سے پہلے بھی روکا جا سکتا تھا، مگر نہیں روکا گیا۔ سوات اور گرد و نواح میں پانی کی گزرگاہوں پر ہوٹل، ریسٹورنٹس اور چائے خانے قائم کرنا معمول بن چکا ہے۔ یہ کاروبار قانون کی کتاب کے مطابق ممنوع ہیں لیکن انہیں کھولنے کے لیے چند ہزار روپے کی رشوت کافی ہوتی ہے۔ متعلقہ افسران، مقامی نمائندے اور بااثر افراد ان ناجائز تعمیرات کے محافظ بنے ہوئے ہیں۔ جب پانی کا ریلا آتا ہے تو سب سے پہلے یہی عمارتیں بہتی ہیں اور ان کے اندر موجود قیمتی جانیں ہمیشہ کے لیے خاموش ہو جاتی ہیں۔کچھ کی لاشیں تک نہیں ملتیں۔
کے پی کے میںلڑکیوں کے سکول جلانے، پولیس چوکیوں پر حملے کرنے والے عناصر آج بھی دندناتے پھر رہے ہیں۔ جب ریاست اپنے اہلکاروں کو تحفظ نہیں دے سکتی تو عام سیاح اور مقامی شہری کس کھاتے میں آتے ہیں؟ یہ وہی خیبر پختونخوا ہے جہاں پولیس اہلکاروں کو کھلے عام نشانہ بنایا جاتا ہے اور حکومتی بیانیہ صرف سکیورٹی میٹنگز اور پریس کانفرنسوں تک محدود ہے۔
حکومت کی خاموشی، عوام کی بے بسی صورتحال کا تشویشناک رخ پیش کرتی ہے۔جب شہری مرتے ہیں، تو ایک رسمی ٹویٹ، دو بیانات، اور چند تبادلے مسئلہ حل کرنے کے لیے کافی سمجھے جاتے ہیں۔ کوئی جوڈیشل انکوائری نہیں، کوئی مجرمانہ مقدمہ نہیں، کوئی واضح جوابدہی نہیں۔ گویا مرنے والے کیڑے مکوڑے تھے جو کسی کے پاؤں تلے آ گئے۔
یہ طرز حکمرانی بتاتا ہے کہ انسانی جان کی قیمت کیا ہے۔ ایک طرف دنیا کے مہذب ممالک ہیں، جہاں کسی ایک شہری کے ساتھ زیادتی پر پورا نظام حرکت میں آ جاتا ہے۔ امریکہ کا ایک شہری اگر کسی بیرونی ملک میں قتل ہو جائے تو پورا سفارتی نظام ہل جاتا ہے۔ وہ حکومتیں اپنے عوام کی حفاظت کو انا کا مسئلہ بناتی ہیں۔ دوسری طرف ہمارا حال یہ ہے کہ درجن بھر لوگ مر جائیں تو بھی وزیراعلیٰ کی زبان میں نرمی نہیں آتی، انتظامیہ کا رویہ بدلتا نہیں، اور قانون حرکت میں نہیں آتا۔ سیاستدان، وزارتیں اور ذاتی ایجنڈہ سب پر فوقیت رکھتا ہے۔
یہ سانحہ ایسے وقت پر ہوا جب خیبر پختونخوا میں حکومتی مشینری صرف ایک کام میں مشغول ہے: کس کو کون سی وزارت ملے گی، کس کا اثرورسوخ کہاں تک ہے اور کون پارٹی کے قریب تر ہے۔ جنہیں عوام کے مسائل پر بات کرنی چاہیے، وہ اقتدار کے ایوانوں میں اپنے لیے کرسی تلاش کر رہے ہیں۔ جو لوگ سیاحتی صنعت کو ترقی دینے کے دعوے کرتے تھے، وہ اب خاموش ہیں کیونکہ ان کی ذمہ داری سے سوال پوچھنا جرم بن چکا ہے۔
کے پی کے میں پچھلے ایک ماہ میں مختلف مقامات پر سیاحوں کی اموات ہوئی ہیں۔یہ درست کہ اس موسم میں سیاحوں کی تعداد بڑھنے سے مسائل پیدا ہوتے ہین لیکن مقامی ڈھانچے کو اسی تناسب سے ترقی دی جانی چاہیے۔پچھلے ایک ماہ میں خیبرپختونخوا میں مختلف مقامات پر سیاحتی مقامات پر مجموعی طور پر تقریباً 50 سے 70 سیاح ہلاک یا لاپتہ ہوئے ہیں۔۔
گارڈین نے رپورٹ کیا کہ مجموعی طور پر سوات کے سیلابی واقعے میں 32 افراد ہلاک ہوئے، جن میں 19 کے پی کے کے اور تیرہ سیالکوٹ سے تعلق رکھنے والے سیاح شامل تھے۔ قلعہ شاہی باغ، سوات میں22 جون 2025 کو کشتی ڈوبنے کے واقعے میں 7 سیاح جاں بحق ہوئے، جن میں سے 4 کی لاشیں نکالی گئیں اور 3 لاپتہ تھے۔ 3 افراد کو بچا لیا گیا ۔ 20 جون 2025 کو ناران میں تین سیاح گلیشئر سلائیڈ کے باعث فوت ہوئے، جن میں دو لاہور سے تھے۔ یہ ہلاکتیں بنیادی طور پر موسمی تبدیلی، غیر معیاری سیاحتی انتظام اور قدرتی آفات کی وجہ سے ہوئیں۔ مقامی انتظامیہ کی تاخیر سے کارکردگی اور ریسکیو مینجمنٹ میں کمزوری نے اس انسانی المیے کو مزید سنگین بنا دیا۔
سچ یہ ہے کہ جب تک غلطی اور جرم کرنے والے کو سزا نہ دی جائے، معاشرہ نہیں سدھرتا۔ سزا صرف انتقام کا ذریعہ نہیں ہوتی، وہ دوسروں کو روکنے اور خبردار کرنے کے لیے ہوتی ہے۔ جب رشوت لینے والا ترقی پاتا ہے، اور قانون توڑنے والا پھر سے کاروبار شروع کر دیتا ہے، تو ندی کے کنارے اگلی لاش کسی اور کی نہیں بلکہ پورے نظام کی ہوتی ہے۔
یہ سانحہ چیخ چیخ کر کہہ رہا ہے کہ ہمیں فوری اور سنجیدہ اقدامات کی ضرورت ہے۔سیٹلائٹ کے ذریعے فلڈ وارننگ سسٹم ایکٹیویٹ کیا جائے،جو ادارے فلڈ وارننگ کے ذمہ دار ہیں ان کی استعداد بڑھائی جائے،جہاں کوئی ایک انسان، جانور ،عمارت یا اثاثہ پانی کی زد میں آتا ہے وہاں نظام کو مستعد کیا جائے۔ پانی کے راستوں پر بنی غیرقانونی تعمیرات کو فوراً مسمار کیا جائے۔ سیاحتی مقامات پر ڈیزاسٹر مینجمنٹ کا مکمل نظام قائم ہو۔ ریسکیو اداروں کو جدید تربیت، سامان اور اختیار دیا جائے۔ مقامی تھانوں کو سیاحوں کی حفاظت کا ذمہ دار ٹھہرایا جائے۔ اور سب سے بڑھ کر یہ کہ متعلقہ افسران، ٹھیکیداروں اور سیاسی پشت پناہوں کے خلاف فوجداری کارروائی کی جائے۔
یہ مسئلہ صرف ایک خاندان کے دکھ کا نہیں، یہ پورے نظام کی نالائقی کا آئینہ ہے۔ ہر سانحہ ہمیں موقع دیتا ہے کہ ہم رک کر سوچیں اور اپنے راستے درست کریں، مگر ہم سانحہ ہونے کے بعد بھی گزر جاتے ہیں جیسے کچھ ہوا ہی نہ ہو۔
اگر آج بھی ہم نہ جاگے، اگر ان لاشوں کو صرف بدقسمتی سمجھ کر نظر انداز کیا، تو کل ہم میں سے کوئی بھی اسی ندی کا حصہ بن سکتا ہے۔ کیونکہ جب تک قانون صرف کمزور پر لاگو ہوتا ہے اور طاقتور کو کھلی چھوٹ حاصل ہے، تب تک یہ ریاست صرف جغرافیہ ہے، قوم نہیں۔