Wed, September 16, 2026

پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ہوش ربا اضافہ: پیٹرول 458 اور ڈیزل 520 روپے کا ہو گیا، ریلیف پیکج کا بھی اعلان

پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ہوش ربا اضافہ: پیٹرول 458 اور ڈیزل 520 روپے کا ہو گیا، ریلیف پیکج کا بھی اعلان

اسلام آباد : وفاقی حکومت نے عوام پر پیٹرولیم بم گراتے ہوئے ایندھن کی قیمتوں میں اب تک کا سب سے بڑا اضافہ کر دیا ہے۔ پیٹرول کی قیمت میں فی لیٹر 137 روپے سے زائد جبکہ ڈیزل کی قیمت میں 184 روپے کا اضافہ کیا گیا ہے، جس نے ملک بھر میں مہنگائی کی نئی لہر کے خدشات پیدا کر دیے ہیں۔
حکومتی اعلان کے مطابق نئی قیمتیں کچھ یوں ہوں گی ،پیٹرول پرانی قیمت میں 137.24 روپے اضافے کے بعد نئی قیمت 458.41 روپے ہو گئی۔ڈیزل پرانی قیمت میں 184.49 روپے اضافے کے بعد نئی قیمت 520.35 روپے مقرر کی گئی ہے۔وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے پریس کانفرنس میں بتایا کہ حکومت عام آدمی کو اس بوجھ سے بچانے کے لیے "ٹارگٹڈ سبسڈی" دے رہی ہے۔ اس منصوبے کے تحت موٹرسائیکل سواروں کو ماہانہ 20 لیٹر تک پیٹرول پر 100 روپے فی لیٹر رعایت ملے گی۔
پبلک ٹرانسپورٹ کو ڈیزل پر 100 روپے فی لیٹر جبکہ مال بردار ٹرکوں کو 70 ہزار روپے ماہانہ مالی امداد دی جائے گی ۔ ریلوے کو بھی خصوصی سبسڈی دی جائے گی تاکہ کرایوں میں غیر معمولی اضافہ نہ ہو۔وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک نے اضافے کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ آبنائے ہرمز کی صورتحال اور عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اچانک اضافے نے حکومت کو یہ کڑوا گھونٹ بھرنے پر مجبور کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت نے پیٹرول پر لیوی بڑھا کر 160 روپے کر دی ہے، تاہم ڈیزل پر لیوی ختم کر کے صفر کر دی گئی ہے تاکہ ٹرانسپورٹ کے اخراجات کو قابو میں رکھا جا سکے۔

ٹیگز: