اسلام آباد پولیس نے آج اسلام آباد پریس کلب میں موجود صحافیوں اور ملازمین پر غیر متناسب طاقت کا استعمال کیا۔ پولیس نے کیفے ٹیریا میں موجود صحافیوں کو مظاہرین سمجھ کر تشدد کا نشانہ بنایا اور وہاں توڑ پھوڑ بھی کی گئی۔
واقعے کے فوری بعد پریس کلب میں کشیدگی پھیل گئی اور صحافیوں نے اس اقدام کی شدید مذمت کی ہے۔ پولیس کی اس کارروائی کو آزادیٔ صحافت پر حملہ قرار دیا جا رہا ہے۔
وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے اسلام آباد پریس کلب میں پیش آنے والے افسوسناک واقعے کا سخت نوٹس لیتے ہوئے آئی جی اسلام آباد پولیس سے تفصیلی رپورٹ طلب کر لی ہے۔
محسن نقوی نے واضح کیا ہے کہ صحافیوں پر تشدد ناقابل قبول ہے اور اس قسم کے واقعات کسی صورت برداشت نہیں کیے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ واقعے میں ملوث اہلکاروں کی فوری شناخت کر کے ان کے خلاف سخت انضباطی کارروائی کی جائے گی۔