Wed, September 16, 2026

پشاور جلسہ کیوں ناکام ہوا

پشاور جلسہ کیوں ناکام ہوا

سوال یہ نہیں ہے کہ پشاور جلسہ کیوں ناکام ہوا اس لئے کہ تحریک انصاف کی کسی کال کا چاہے وہ احتجاج کی ہو یا کسی جلسے یا ریلی کی اس کا ناکام ہونااب ایک معمول کی بات بن چکا ہے لیکن اصل سوال یہ ہے کہ پشاور میں یہ جلسہ ناکام کیوں ہوا اس لئے کہ خیبر پختون خوا میں تو تحریک انصاف کی اپنی حکومت ہے ۔ تحریک انصاف خیبر پختون خوا کے صدر جنید اکبر خان کہ جنھیں گنڈا پور کو ہٹا کر کچھ عرصہ پہلے خود عمران خان نے نامزد کیا تھا اور انھیں اب بھی عمران خان کے ساتھ ساتھ پارٹی کے کارکنوں کا اعتماد بھی حاصل ہے ۔ پولیس انتظامیہ اور صوبے کی مشینری سب تحریک انصاف کے ساتھ ہیں ۔ جلسے میں حاضرین کی حفاظت کہہ لیں یا جلسے میں حاضری بڑھانے کے لئے 14سو پولیس اہلکار تعینات تھے ۔ کوئی رکاوٹ کوئی لاٹھی گولی کسی قسم کا کوئی خطرہ نہیں لیکن میڈیا کی خبروں کے مطابق جلسے میں تمام تر تگ و دو اور کوشش کے باوجود بھی صرف پانچ سے سات ہزار افراد جمع ہو سکے ۔ جلسے میں مختلف رہنمائوں کے خلاف کارکنوں کی جانب سے نعرے بازی اور ہلڑ بازی بھی ہوئی ۔ یہاں ایک اور نقطہ بہت زیادہ اہم ہے کہ کچھ لوگ جلسے کی ناکامی کو پارٹی میں اختلافات کا نتیجہ قرار دے رہے ہیں ۔ اگر یہ بات درست ہے تو پھر یہاں پارٹی قیادت کے حوالے سے اور ان کی اہلیت کے متعلق کئی سوالات جنم لیتے ہیں اور بعض لوگ تو بانی پی ٹی آئی کے حوالے سے اب یہ سوال بھی کرتے ہیں کہ جو بندہ پارٹی نہیں سنبھال سکتا وہ ملک کیسے سنبھالے گا ۔ یہاں کچھ شاہ سے زیادہ شاہ کے وفادار یہ عذر پیش کرتے ہیں کہ عمران خان چونکہ جیل میں ہیں تو اس لئے یہ سب ہو رہا ہے ورنہ اگر وہ جیل سے باہر ہوتے تو ایسا نہ ہوتا ۔ جو لوگ یہ بات کر رہے ہیں تو ان کی خدمت میں عرض ہے کہ جنرل ضیاء کے دور میں محترمہ نصرت بھٹو اور محترمہ شہید بینظیر بھٹو یا تو جیل میں رہیں یا جلا وطن لیکن پاکستان پیپلز پارٹی نہ صرف یہ کہ قائم و دائم رہی بلکہ اس پورے عرصہ میں ملک کی مقبول ترین جماعت کا اعزاز بھی اس کے پاس تھا اسی طرح مشرف دور میں پوری شریف فیملی جلا وطن رہی لیکن مسلم لیگ نواز سے مسلم لیگ ق کے نکالنے کے باوجود بھی مسلم لیگ نواز بھی اپنے وجود کو برقرار رکھنے میں کامیاب بھی رہی اور 2008کے الیکشن میں پنجاب اور 2013کے الیکشن میں وفاق میں بھی حکومت بنانے میں کامیاب رہی لہٰذا یہ بات نہیں کہ چونکہ بانی جیل میں ہیں تو اس لئے پارٹی میں اختلافات ہیں تو احتجاج کی کالز بھی ناکام ہو رہی ہیں اور یہ جلسہ بھی کامیاب نہیں ہو سکا ۔ پارٹی میں اختلافات تو اپنی جگہ حقیقت ہیں لیکن اس جلسے کو کامیاب بنانے کی کال تو عمران خان نے خود دی تھی اور اس میں عمران خان کی بہن محترمہ علیمہ خان بھی موجود تھیں اور جنید اکبر خان بھی موجود تھے کہ جن سے کارکنوں کو کوئی مسئلہ مسائل نہیں ہیں تو پھر بغیرکسی خوف کی فضا کے یہ جلسہ ناکام کیوں ہوا اور وہ بھی تحریک انصاف کے اپنے گڑھ میں ؟۔
اب یہاں کچھ سوالات ہیں اور پڑھنے والے ان سوالات کے جواب خود تلاش کریں ۔ سوشل میڈیا پر ایک بیانیہ بنا لینا اور بات ہے لیکن زمینی حقائق کو ان کے مطابق ڈھالنا ایک بالکل مختلف بات ہے ۔ سوشل میڈیا پر عمران خان کی مقبولیت کا ایک بیانیہ بنایا گیا اور اس بیانیہ کا الیکٹرانک میڈیا کی اکثریت نے پوا پورا ساتھ دیا لیکن جب جب اس مقبولیت کو پرکھنے کے مواقع آئے تو ہر موقع پر مقبولیت کا بیانیہ ناکام ہوتا چلا گیا اور پھر نوبت یہاں تک پہنچی کہ الیکٹرانک میڈیا میں آوازیں اٹھنے لگیں کہ جب احتجاج کی ہر کال ناکام بلکہ بری طرح ناکام ہو رہی ہے تو بانی کی مقبولیت کہاں ہے تو ایک چھوٹی سی مثال کے بعد قارئین کے سامنے سوال رکھ دیں گے اور فیصلہ وہ کریں گے کہ بانی کی مقبولیت کہاں ہے ۔ 18اکتوبر2007محترمہ شہید بینظیر بھٹو کی وطن واپسی پر ان کے استقبالی جلوس پر دو خودکش حملے ہوتے ہیں جس میں ساڑھے تین سو سے زائد کارکن شہید ہو جاتے ہیں لیکن بی بی شہید سر پر بالٹیاں رکھ کر مضحکہ خیز انداز میں جلسوں میں شریک نہیں ہوتی تھیں بلکہ اگلے دن 19اکتوبر کی صبح وہ زخمی ہونے والے کارکنوں کی ہسپتالوں میںتیمار داری کر رہی تھیں اور شہید ہونے والے کارکنوں کے گھر تعزیت کر رہی تھیں ۔ وہ ایک بہادر اور حقیقی عوامی لیڈر ہونے کا کرداد ادا کر رہی تھیں ۔ 
 اس کے بعد بات اگر عمران خان کی کریں تو تحریک انصاف کے بانی رکن نعیم الحق فوت ہوتے ہیں تو ان کے گھر تعزیت کرنے کی بجائے ان کے گھر والوںکو وزیر اعظم ہائوس بلا کر تعزیت کی جاتی ہے ۔ پھر 9مئی کے پر تشدد ہنگاموں میں تحریک انصاف کے ایک کارکن ظلے شاہ کی موت ہو جاتی ہے جو واقعی انتہائی مظلومانہ موت تھی لیکن کیا عمران خان ان کے جنازہ یا بعد میں ان کے گھر تعزیت کے لئے گئے ۔ انھیں بھی چھوڑ دیں کیا عمران خان آج تک کسی کارکن کے گھر گئے ۔ گذشتہ تین ساڑھے تین سال میں بے تحاشہ مہنگائی ہوئی ۔ ابھی پورے ملک اور خیبر پختون خوا میں سیلاب آیا کیا کبھی بانی کی جانب سے عوام کے لئے کوئی ایک بیان آیا بلکہ الٹا جب علیمہ خان صاحبہ سے پوچھا گیا تو انھوں نے کہا کہ ہم تو بانی کی رہائی کے لئے مصروف ہیں تو جب سیاست عوام کے لئے نہیں بلکہ فقط اپنی ذات کے لئے ہے تو پھر عوام بھی کہتے ہیں کہ آپ اپنے گھر خوش اور ہم اپنے گھر خوش ۔

ٹیگز: