Wed, September 16, 2026

نئے ٹریڈ گروپس اور پھر جوڑ توڑ

نئے ٹریڈ گروپس اور پھر جوڑ توڑ

مجھے اس سال لاہور چیمبر کے انتخابات ہوتے نظر نہیں آ رہے البتہ فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز کے انتخابات دسمبر میں ہوں گے وہاں بڑی انتخابی گہما گہمی جاری ہے دوسری طرف ٹریڈ ماحول کی بات کریں تو آج سوشل میڈیا کے دور نے ہر طرف افراتفری کا ماحول پیدا کر رکھا ہے۔ خبر ہو یا نہ ہو، خبر کو بنانا ہے اور پھر جھوٹ کو اس طرح پالش کرتے ہیں کہ کبھی کبھی سچ بھی شرما جاتا ہوگا کہ میرے ساتھ کیا ظلم ہونے جا رہا ہے۔ یوں تو پاکستان اور بھارت کے درمیان ایک جنگی ماحول بن چکا ہے بلکہ سوشل میڈیا پر یہ جنگ شروع ہے۔ آج کے کالم میں، میں جس جنگ کے ماحول کا ذکر کرنے جا رہا ہوں وہ لاہوری ٹریڈ سیاست کی جنگ ہے۔ ایک طرف لاہور چیمبر کی موجودہ قیادت رواں دواں ہے۔تو دوسری طرف 2024ء کے انتخابات میں دھاندلی کے الزامات کی گرد ابھی بیٹھی نہیں۔ اسلام آباد سے ڈی جی ٹی او اور سیکرٹری کامرس کے کمروں میں لگی عدالتوں کے فیصلے آنے کو ہیں جبکہ لاہور چیمبر کے وکیل خرم عباس اپنے ویژن کے ساتھ کھڑے ہیں کہ اپوزیشن کی طرف سے دائر اپیلیں مسترد ہونے کے امکانات زیادہ ہیں۔جبکہ کراچی چیمبر کا فیصلہ بھی آنے کو ہے۔ دیکھئے کہ آنے والے دنوں میں کیا فیصلے آتے ہیں۔ 
لاہور چیمبر کے سابق سینئر نائب صدر ظفر محمود نے جہاں اپنی نئی ٹریڈ باڈی کا اعلان کیا وہاں ایک اور اہم ڈویلپمنٹ یہ ہوئی کہ سابق صدر لاہور چیمبر شیخ عرفان اقبال بھی اگلے دنوں میں متوقع نام ’’پاکستان بزنس اینڈ انڈسٹری ایسوسی ایشن فرنٹ ‘‘کے نام سے نئی ٹریڈ باڈی کا اعلان کرنے والے ہیں اوراس میں پرانی پیاف کے علاوہ فائونڈر کے بڑے نام شمولیت کا اعلان کریں گے۔ اس کا مطلب ہے کہ 2026ء میں چیمبرز کے انتخابات میں بہت بڑے جوڑ توڑ کی توقع ہے۔ اگر میں لاہور چیمبر کی گزشتہ آٹھ ماہ کے پہلے واقعات کو دیکھوں تو 2024ء کے لاہور چیمبر میں ہونے والے انتخابات نے لاہوری ٹریڈ سیاست میں تقسیم کرتے ہوئے نہ صرف گروپ سیاست، الزامات اور ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کے رویوں میں شدت کے ساتھ جو اضافہ ہوا اس سے ٹریڈ ماحول میں بڑی تبدیلی آئی۔ ایک وہ بھی وقت تھا جب ٹریڈرز کے انتخابات دو کالمی خبر کے طور پر شائع ہوتے کہ کس کو لاہور چیمبر کا صدر بنایا گیا ہے اور ای سی کے اراکین کون ہوں گے جب پیاف کے دو ٹکڑے ہوئے تو گروپنگ سیاست نے سر اٹھانا شروع کر دیا ۔اسی دوران فائونڈر اور پیاف کے درمیان سے نوجوان قیادت کے نام پر پائنیر گروپ بھی وجود میں آ گیا۔ جب 2024ء کے لاہور چیمبر کے انتخابات کا اعلان ہوا تو ٹریڈ سیاست میں ہماری قومی سیاست کے اچھے برے انداز اپنائے جانے لگے اور جب انتخابات میں صرف دنوں کا وقفہ رہ گیا تو سو سالہ ٹریڈ باڈی کا دعویٰ کرنے والی فائونڈر کے اندر سے تقسیم کا عمل شروع ہوا اور انہوں نے اپنی 25سالہ اتحاد و دوستی جو انجم نثار کی پیاف کے ساتھ تھی اس کو توڑتے ہوئے میاں شفقت کی پیاف کی چھتری تلے آنے کا اعلان کر دیا۔ ادھر انجم نثار پیاف گروپ نے علی حسام اور پروگریسو گروپ یعنی ٹرپل پی کے کے نام سے اتحاد بنا لیا پھر انتخابی مرحلہ آیا اور ٹرپل پی اتحاد نے کلین سویپ کرتے ہوئے دوسری طرف پیاف، فائونڈر، ایل بی ایف اتحاد کو کلین بولڈ کر دیا پھر وہی دھاندلی کے الزامات کی سیاست نے ایسا سر اٹھایا کہ تاجر کے سفید کالر پر دھبے لگنا شروع ہو گئے۔ معاملہ ڈی جی ٹی اور سیکرٹری کامرس اینڈ انڈسٹری کی میز پر پہنچ گیا۔ دوسری طرف دونوں برائے گروپس نے سوشل میڈیا کو اپنا ہتھیار بناتے ہوئے ایک دوسرے کو رگڑنے کی سیاست کا محور بنا لیا۔ اسی اثناء میں جنوری 2025ء میں قومی اسمبلی کے مشترکہ اجلاس میں ایک نیا ٹریڈ بل آ گیا کہ تمام چیمبرز اور ایسوسی ایشنز کے انتخابات سال رواں 2025ء میں ہوں گے۔ اس اعلان کے ہوتے ہی ہنگامہ ہے کیوں برپا تھوڑی سی تو پی لی ہے والا معاملہ ٹریڈ سیاست کے افق پر نمودار ہوا اور نئے اتحاد بننے اور پرانے اتحادی نکاح ٹوٹنے کی خبریں میڈیا کی زینت بننے لگیں(باقی صفحہ 4بقیہ نمبر 3)
 اس سے قبل 2024ء کے انتخابات کی ری کائونٹنگ کا معاملہ بھی آیا۔ جیتنے والوں نے پھر ری کائونٹنگ کروا کے دوبارہ اپنی بڑی فتح کا اعلان کر ڈالا۔ نہ ماننے والوں نے پھر ٹریڈ عدالتی دروازوں پر دستک دی اور 25اپریل کو سیکرٹری انڈسٹری نے محفوظ کر لیا ہے کیا لاہور چیمبر کے دوبارہ انتخابات ہوں گے۔ دوبارہ ری کائونٹنگ ہوگی یا الزامات کی یہ جنگ جاری رہے گی؟
ٹریڈ حلقوں میں یہ خبریں بھی گردش کر رہی ہیں کہ فائونڈر پیاف شفقت گروپ کی بجائے 2024ء میں ہونے والے انتخابات میں شاید میاں انجم نثار گروپ کے ساتھ اتحاد کرکے پرانی پیاف سے آٹھ ماہ قبل کیا جانے والا معاہدہ ختم کر دے گی۔ اس بات کو تقویت مجھے اس وقت ملی جب فائونڈر کے چیئرمین میاں مصباح الرحمان نے گزشتہ دنوں ایک ملاقات میں میرے روبرو گفتگو کرتے ہوئے یہ عندیہ دیا کہ جس طرف حالات جا رہے ہیں ہو سکتا ہے کہ آنے والے انتخابات میں میاں انجم نثار گروپ کے ساتھ اتحاد ہو جائے اور پنجابی میں یہ فقرہ بھی کہا کہ 
’’ساڈے دل اوتھے ای پچدے نیں‘‘
میاں مصباح الرحمان کا یہ موقف بھی تھا کہ پیاف انجم نثار گروپ کے ساتھ اتحاد ختم کرنے کا میرا فیصلہ نہیں تھا۔ دیکھیں سیاست میں اتحاد بنتے اور ٹوٹتے رہتے ہیں۔ یہ سیاست ہے اور ہماری سیاست میں کسی بھی وقت کچھ بھی ہو سکتا ہے۔ میاں صاحب کی گفتگو کے بعد یہ میرا دعویٰ نہیں کہ آج کے تناظر میں ٹریڈ باڈیز کے معاملات جدھر جا رہے ہیں وہاں آپ کوئی حتمی بات یا دعویٰ کر سکتے ہیں مگرشنید ہے کہ سال رواں اگست اور ستمبر میں کم از کم لاہور چیمبر کی سیاست میں بڑی تبدیلیاں رونما ہوں گی اوراب بڑے پیمانے پر جوڑ توڑ ہونے جا رہا ہے گو یہ باتیں قبل از وقت ہیں مگر میرا طوطا تمام ٹریڈ باڈیز میں ہونے والی بند کمروں کی سیاست بارے بڑی خبریں دے رہا ہے اور فائونڈر کے اندر کیا ہونے جا رہا ہے اس بارے میں بھی بڑی خبر آنے والی ہے ۔
اور آخری بات …
پیار کو لوں پیاریاں نیں اینا نوں ضرورتاں
ساڈے کولوں چنگیاں نیں مٹی دیاں مورتاں 

ٹیگز: