Wed, September 16, 2026

دنیا آتش فشاں کے دھانے پر؟

دنیا آتش فشاں کے دھانے پر؟

دنیا ایک بار پھر ایسے موڑ پر کھڑی ہے جہاں ہر سمت بے چینی، بداعتمادی اور طاقت کی سیاست کے بادل منڈلا رہے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا ہم واقعی ایک عالمی آتش فشاں کے دھانے پر کھڑے ہیں، یا یہ محض وقتی کشیدگی ہے؟ زمینی حقائق بتاتے ہیں کہ حالات معمولی نہیں۔ مشرقِ وسطیٰ سے جنوبی ایشیا تک، طاقت کے نئے اتحاد اور پرانے تنازعات مل کر ایک خطرناک منظرنامہ تشکیل دے رہے ہیں۔ سب سے پہلے مشرقِ وسطیٰ کی طرف نظر ڈالیے۔ ایران، امریکہ اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی محض سفارتی بیان بازی تک محدود نہیں رہی۔ معاشی پابندیاں، خفیہ کارروائیاں، میزائل تجربات اور پراکسی نیٹ ورکس کی سرگرمیاں ایک ایسی فضا پیدا کر چکی ہیں جہاں غلط فہمی کا ایک لمحہ بھی بڑے تصادم کو جنم دے سکتا ہے۔ ایران اپنے دفاع اور خودمختاری کا مو¿قف پیش کرتا ہے، امریکہ اسے عالمی سلامتی کا مسئلہ قرار دیتا ہے، جبکہ اسرائیل اسے اپنے وجود کا سوال سمجھتا ہے۔ ان بیانات کے بیچ سچ کہیں گم ہو جاتا ہے، مگر بارود کی بو واضح محسوس ہوتی ہے۔
فلسطین کا مسئلہ دہائیوں سے سُلگ رہا ہے۔ غزہ اور مغربی کنارے کی صورتحال عالمی ضمیر کے لیے ایک مستقل امتحان بنی ہوئی ہے۔ طاقت کے توازن میں عدم مساوات اور ویٹو پاور کی سیاست نے اقوامِ متحدہ جیسے اداروں کی ساکھ کو بھی متاثر کیا ہے۔ جب عالمی قوانین طاقتور کی ترجیحات کے مطابق ڈھلنے لگیں تو چھوٹے ممالک کا اعتماد متزلزل ہو جاتا ہے۔ یہی بے اعتمادی عالمی نظام کو کمزور کرتی ہے اور آتش فشاں کے لاوے کو اندر ہی اندر گرم رکھتی ہے۔ جنوبی ایشیا بھی اس آگ سے محفوظ نہیں۔ نریندر مودی کی قیادت میں بھارت کی خارجہ پالیسی نے امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ قریبی سٹرٹیجک تعلقات استوار کیے ہیں۔ دفاعی معاہدے، انٹیلی جنس تعاون اور جدید اسلحے کی خریداری ایک نئے توازنِ قوت کی نشاندہی کرتے ہیں۔ بظاہر یہ تعاون ترقی اور سلامتی کے نام پر ہے، مگر ناقدین اسے خطے میں طاقت کے ارتکاز اور سیاسی دباو¿ کی حکمتِ عملی قرار دیتے ہیں۔ کشمیر کا تنازع اور سرحدی کشیدگیاں اس پس منظر میں مزید حساس ہو جاتی ہیں۔
اُدھر افغانستان کی صورتحال بھی غیر یقینی کا باعث بنی ہوئی ہے۔ طالبان کے اقتدار میں آنے کے بعد امید تھی کہ دہائیوں پر محیط جنگ کا باب بند ہو گا، مگر سرحد پار سرگرمیوں اور شدت پسند نیٹ ورکس کی موجودگی کے الزامات نے خطے کو نئے سوالات سے دوچار کر دیا ہے۔ تحریک طالبان پاکستان جیسے گروہوں کی کارروائیاں پاکستان کے لیے سکیورٹی چیلنج بن چکی ہیں۔ اگر کابل اپنی سرزمین پر مکمل کنٹرول کا دعویٰ کرتا ہے تو اسے عملی اقدامات سے یہ ثابت بھی کرنا ہو گا، ورنہ اعتماد کی خلیج مزید گہری ہو گی۔ یہ تمام عوامل مل کر ایک ایسے عالمی ماحول کو جنم دیتے ہیں جہاں ہر طاقت اپنے مفاد کے تحفظ میں مصروف ہے۔ سفارتکاری کمزور پڑتی دکھائی دیتی ہے اور عسکری تیاری کو فوقیت دی جا رہی ہے۔ اسلحے کی عالمی منڈی گرم ہے، دفاعی بجٹ بڑھ رہے ہیں، اور عالمی معیشت جنگی خدشات کے سائے میں سانس لے رہی ہے۔ تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاو¿، تجارتی راستوں کی غیر یقینی اور مالیاتی دباو¿ عام آدمی کی زندگی پر براہِ راست اثر انداز ہو رہے ہیں۔
سوال یہ ہے کہ اس آتش فشاں کو ٹھنڈا کرنے کا راستہ کیا ہے؟ کیا طاقت کے توازن کو مزید سخت بنا دینا مسئلے کا حل ہے، یا مکالمے کی میز پر واپسی؟ تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ بڑی جنگیں اکثر غلط اندازوں اور محدود جھڑپوں سے شروع ہوئیں۔ پہلی عالمی جنگ ایک مقامی واقعے سے بھڑکی، مگر اس نے پوری دنیا کو لپیٹ میں لے لیا۔ آج کے دور میں جب ہتھیار زیادہ مہلک اور معیشتیں زیادہ جڑی ہوئی ہیں، کسی بڑے تصادم کے نتائج ناقابلِ تصور ہوں گے۔ پاکستان جیسے ممالک کے لیے یہ صورتحال غیر معمولی اہمیت رکھتی ہے۔ ہمیں جذباتی نعروں سے زیادہ تدبر کی ضرورت ہے۔ علاقائی بلاکس میں اندھا دھند شمولیت یا یکطرفہ جھکاو¿ قومی مفاد کے لیے نقصان دہ ہو سکتا ہے۔ متوازن خارجہ پالیسی، فعال سفارتکاری اور داخلی استحکام ہی وہ ستون ہیں جو ہمیں اس ممکنہ طوفان سے بچا سکتے ہیں۔ داخلی سیاسی ہم آہنگی اور معاشی مضبوطی کے بغیر کوئی بھی ملک بیرونی دباو¿ کا مقابلہ نہیں کر سکتا۔ عالمی برادری کو بھی اپنی ترجیحات پر نظرِ ثانی کرنا ہو گی۔ اگر انسانی حقوق اور بین الاقوامی قانون واقعی اہم ہیں تو ان کا اطلاق بلا امتیاز ہونا چاہیے۔ دوہرے معیار عالمی نظام کی ساکھ کو کھوکھلا کرتے ہیں۔ طاقتور ممالک کو یہ سمجھنا ہو گا کہ وقتی سٹرٹیجک فائدہ طویل المدتی عدم استحکام کی قیمت پر حاصل نہیں کیا جا سکتا۔ دنیا واقعی آتش فشاں کے دھانے پر کھڑی ہے یا نہیں، اس کا انحصار آنے والے فیصلوں پر ہے۔ اگر سفارتکاری کو بحال کیا گیا، تنازعات کے منصفانہ حل کی کوشش کی گئی اور طاقت کے بجائے انصاف کو بنیاد بنایا گیا تو یہ لاوا ٹھنڈا ہو سکتا ہے۔ لیکن اگر موجودہ روش جاری رہی، تو ایک چنگاری بھی بڑے دھماکے میں بدل سکتی ہے۔
تاریخ کا سبق واضح ہے: جنگیں شروع کرنا آسان اور ختم کرنا مشکل ہوتا ہے۔ اصل دانش یہی ہے کہ آتش فشاں پھٹنے سے پہلے اس کی حرارت کو کم کر دیا جائے۔ ورنہ لاوا صرف سرحدوں کو نہیں، تہذیبوں کو بھی جلا ڈالتا ہے۔ دنیا کے رہنماو¿ں کے پاس ابھی وقت ہے کہ وہ طاقت کے غرور سے نکل کر مکالمے کی راہ اپنائیں۔ اگر ایسا نہ ہوا تو آنے والی نسلیں شاید یہ سوال پوچھیں گی کہ جب زمین کانپ رہی تھی تو فیصلہ ساز خود غرض اور وحشی کیوں بن گئے اور کچھ خاموش کیوں تھے۔

ٹیگز: