چند روز قبل میرے مہربان دوست، بزرگ اور فکری رہنما جناب زاہد رفیق صاحب سے ایک علم افروز گفتگو ہوئی۔ بات ملکی سیاست، معاشرتی رویوں اور قومی مزاج کے گرد گھومتی رہی۔ دورانِ گفتگو انہوں نے ایک جملہ کہا جو میرے ذہن میں نقش ہو گیا: ہماری سوسائٹی کا مزاج صرف تنقید بن چکا ہے، ہم اچھے کاموں کو نظرانداز اور خامیوں کو نمایاں کرنے کے عادی ہو چکے ہیں۔یہ محض ایک جملہ نہیں بلکہ ہمارے اجتماعی رویے کی عکاسی ہے۔ ہم حکمرانوں سے اعلیٰ ترین کارکردگی کی توقع رکھتے ہیں، جو یقینا ہمارا حق ہے، مگر اکثر یہ بھول جاتے ہیں کہ قوموں کی تعمیر صرف حکومتیں نہیں کرتیں بلکہ عوام کے رویے، دیانت داری، قانون پسندی اور اجتماعی شعور بھی اس عمل میں بنیادی کردار ادا کرتے ہیں۔ تنقید جمہوریت کا حسن ضرور ہے، لیکن اگر اس میں اعتدال اور انصاف نہ ہو تو وہ اصلاح کے بجائے نفی کا ذریعہ بن جاتی ہے۔آج کے پاکستان کو اگر غیرجانبدارانہ نظر سے دیکھا جائے تو مختلف سطحوں پر ایسے اقدامات دکھائی دیتے ہیں جنہیں سیاسی وابستگیوں سے بالاتر ہو کر تسلیم کیا جانا چاہیے۔ پنجاب میں وزیراعلیٰ مریم نواز نے نسبتاً متحرک طرزِ حکمرانی اختیار کیا ہے۔ صوبائی انتظامیہ کو فعال بنانے، صحت و تعلیم کے شعبوں میں اصلاحات، دیہی سڑکوں کی تعمیر و بحالی، صفائی کے نظام کی بہتری اور عوامی شکایات کے فوری ازالے کے لیے متعدد اقدامات سامنے آئے ہیں۔ ان منصوبوں کے نتائج پر مختلف آرا ہو سکتی ہیں، لیکن یہ حقیقت اپنی جگہ موجود ہے کہ پنجاب میں حکومتی سرگرمی کا ایک واضح احساس پیدا ہوا ہے۔وفاقی سطح پر وزیر اعظم شہباز شریف کی حکومت کو ایسے حالات میں ذمہ داریاں سنبھالنا پڑیں جب ملک کو معاشی دباو¿، مالی مشکلات اور عالمی چیلنجز کا سامنا تھا۔ حکومت نے معاشی استحکام، بیرونی سرمایہ کاری کے فروغ اور سفارتی روابط کو بہتر بنانے کے لیے کوششیں کیں۔ بین الاقوامی سطح پر پاکستان کے مو¿قف کو مو¿ثر انداز میں پیش کرنے اور معاشی بحالی کے لیے سازگار ماحول پیدا کرنے کی کوششیں جاری ہیں۔ اگرچہ یہ ایک طویل سفر ہے، لیکن ریاستی سطح پر سنجیدہ کاوشوں سے انکار ممکن نہیں۔ان تمام قومی معاملات کے درمیان اگر کسی شخصیت نے مواصلات، انفراسٹرکچر اور فلاحِ عامہ کے شعبوں میں اپنی الگ شناخت قائم کی ہے تو وہ عبدالعلیم خان ہیں۔ ان کی شخصیت سیاست، انتظامی صلاحیت، کاروباری بصیرت اور سماجی خدمت کا ایک منفرد امتزاج دکھائی دیتی ہے۔ ان کا سیاسی سفر محض اقتدار کے ایوانوں تک محدود نہیں بلکہ عملی میدان میں عوامی خدمت اور ادارہ سازی کی کوششوں سے عبارت ہے۔عبدالعلیم خان نے 2003 میں پنجاب اسمبلی کے رکن کے طور پر اپنی سیاسی شناخت مستحکم کی۔ بعد ازاں پنجاب حکومت میں مختلف اہم ذمہ داریوں پر فائز رہے اور انتظامی امور میں اپنی صلاحیتوں کا اظہار کیا۔ 2018 کے بعد بطور سینئر وزیر اور وزیرِ بلدیات پنجاب ان کا کردار خاصا نمایاں رہا۔ بلدیاتی نظام میں اصلاحات، شہری سہولتوں کی فراہمی اور مقامی حکومتوں کے ڈھانچے کو بہتر بنانے کے لیے ان کی کوششوں کا ذکر اکثر کیا جاتا ہے۔ 2024 کے عام انتخابات میں قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 117 سے کامیابی ان پر عوامی اعتماد کا اظہار سمجھی جا سکتی ہے۔سیاسی زندگی کے ساتھ ساتھ ان کی سماجی خدمات بھی قابلِ ذکر ہیں۔ عبدالعلیم خان فاو¿نڈیشن کے ذریعے تعلیم، صحت اور فلاحِ عامہ کے متعدد منصوبے برسوں سے جاری ہیں۔ بیگم نسیم خان میموریل گرلز ہائی سکول مستحق طالبات کے لیے تعلیم کے مواقع فراہم کر رہا ہے جبکہ خصوصی بچوں کے لیے قائم اداروں کی معاونت سماجی ذمہ داری کے احساس کو ظاہر کرتی ہے۔ اسی طرح صحت کے شعبے میں شوکت خانم ہسپتال سمیت مختلف فلاحی منصوبوں کے لیے معاونت، مفت طبی سہولیات اور مستحق افراد کی مالی مدد ان کے فلاحی وژن کا حصہ رہی ہے۔معاشی طور پر کمزور خاندانوں کی امداد(بلکہ کئی صاحب استطاعت بھی)، روزگار کے مواقع پیدا کرنے کی کوششیں اور ضرورت مند افراد کی معاونت بھی ان سرگرمیوں میں شامل رہی ہیں۔ پنجاب کی مختلف جیلوں میں قیدیوں کی فلاح و بہبود اور غریب قیدیوں کے جرمانے ادا کر کے ان کی رہائی جیسے اقدامات بھی ان کی سماجی خدمات کے اہم پہلو شمار کیے جاتے ہیں۔بطور وفاقی وزیر برائے مواصلات عبدالعلیم خان کی موجودہ ذمہ داری قومی معیشت کے ایک انتہائی اہم شعبے سے وابستہ ہے۔ جدید دنیا میں شاہراہیں، موٹرویز اور مواصلاتی نیٹ ورک صرف تعمیراتی منصوبے نہیں ہوتے بلکہ قومی ترقی کے بنیادی ستون سمجھے جاتے ہیں۔ صنعت، تجارت، سیاحت اور سرمایہ کاری کا براہِ راست تعلق مضبوط انفراسٹرکچر سے ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا کے ترقی یافتہ ممالک نے اپنی اقتصادی ترقی کا آغاز مواصلاتی نظام کی بہتری سے کیا۔عبدالعلیم خان نے وزارت سنبھالنے کے بعد معیاری تعمیر، شفافیت اور ادارہ جاتی کارکردگی کو اپنی ترجیحات میں شامل کیا۔ نیشنل ہائی وے اتھارٹی اور دیگر متعلقہ اداروں کی فعالیت میں بہتری، ترقیاتی منصوبوں کی نگرانی اور قومی شاہراہوں کی اپ گریڈیشن کے حوالے سے ان کی پالیسیوں کا مقصد صرف سڑکیں بنانا نہیں بلکہ ملکی معیشت کو سہارا دینا بھی ہے۔ سیاسی تجزیہ نگاروں کے مطابق پاکستان جیسے ترقی پذیر ملک میں انفراسٹرکچر کی ترقی دراصل معاشی ترقی کی بنیاد ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مواصلات کے شعبے میں بہتری کو قومی اقتصادی حکمتِ عملی کا اہم جزو تصور کیا جاتا ہے۔ اس تناظر میں عبدالعلیم خان کی وزارت کو محض ایک انتظامی ذمہ داری نہیں بلکہ قومی ترقی کے ایک اہم محاذ کے طور پر دیکھا جا سکتا ہے۔اس کے باوجود کسی بھی سیاسی شخصیت یا حکومت کا جائزہ لیتے وقت توازن ضروری ہے۔ غیر ضروری مدح سرائی مناسب ہے اور نہ بے جا تنقید۔ جمہوریت کی اصل روح کارکردگی،
جوابدہی اور مسلسل بہتری میں پوشیدہ ہے۔ جہاں خامیوں کی نشاندہی ضروری ہے، وہیں مثبت اقدامات کا اعتراف بھی قومی دیانت داری کا تقاضا ہے۔جناب زاہد رفیق صاحب کی بات کا حاصل بھی یہی ہے کہ قومیں صرف اعتراضات کے سہارے ترقی نہیں کرتیں۔ ترقی کا سفر تعمیری سوچ، مثبت رویوں اور اچھے کاموں کی حوصلہ افزائی سے آگے بڑھتا ہے۔ اگر ہم اختلاف کے باوجود انصاف، تنقید کے ساتھ اعتدال اور سیاست کے ساتھ حقیقت پسندی کو اپنا شعار بنا لیں تو نہ صرف سیاسی ماحول بہتر ہوگا بلکہ قومی ترقی کا سفر بھی زیادہ مضبوط بنیادوں پر استوار ہو سکے گا۔عبدالعلیم خان کی سیاسی، انتظامی اور فلاحی سرگرمیوں کا جائزہ لیتے ہوئے یہی کہا جا سکتا ہے کہ ان کی کارکردگی کو دیگر سیاسی رہنماو¿ں کی طرح تنقیدی نگاہ سے ضرور دیکھا جانا چاہیے، لیکن ان اقدامات کا اعتراف بھی ضروری ہے جو عوامی خدمت، قومی ترقی اور ادارہ جاتی بہتری کے لیے کیے جا رہے ہیں۔ یہی رویہ ایک باشعور، متوازن اور ترقی پسند معاشرے کی پہچان ہوتا ہے۔ عمران نیازی محسن کش نہ ہوتے تو پنجاب بزدار کی بجائے علیم خان کی صلاحیتوں سے مستفید ہوتا۔ عبدالعلیم خان کو شروع دن سے رقابت داروں کی منافقت کا سامنا رہا ہے، کبھی مراد راس تھانہ گلبرگ لاہور میں جھوٹا مقدمہ درج کرانا چاہتا تھا اور کبھی عمران خان جب وزیراعظم تھے، کو مل کر واپس آ رہے تھے وزیراعلیٰ کی خبر کے بجائے نیب سے فون آ گیا مگر وہ استقامت کے ساتھ کام کرتے رہے۔